پاکستان میں 42فیصد پرائمری تعلیمی اداروں کے واش رومز ناقابل استعمال ہیں، رپورٹ

اسلام آباد (چوہدری شاہد اجمل/نامہ نگار) پاکستان میں پرا ئمری سطح پر بیالیس فیصد تعلیمی اداروں میں واش رومز قابل استعمال نہیں ہیں، تیس فیصد تعلیمی ادارے چار دیواری سے محروم، بتیس فیصد میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں جبکہ اسی سطح کے اڑتالیس فیصد بچے انگریزی کے جملے نہیں پڑھ سکتے، چوالیس فیصد بچے اردو، سندھی اور پشتو میں لکھی کہانیاں پڑھنے کے قابل نہیں، سینتالیس فیصد بچے ریاضی کی آسان ترین ضرب تقسیم نہیں کر سکتے، پاکستان سکولوں سے باہر بچوں کی شرح کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پرہے پاکستان میں 2کروڑ سے زائد بچے آج بھی سکولوں سے باہرہیں، بلوچستان بشمول فاٹا میں سب سے زیادہ بچے سکول جانے سے قاصرہیں۔ غیر سرکاری تنظیم’’ اثر‘‘ نے ادار تعلیم و آگاہی کے زیر انتظام، شراکت داروں کے تعاون سے اپنی آٹھویں سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ شراکت داروں میں سول سوسائٹی، پارٹنر باڈیز بشمول ڈی سی ایچ ڈی، سی آر ڈی او، سی ایم ڈی او اور دیگر شامل ہیں۔سالانہ رپورٹ کی لانچنگ تقریب آڈیٹوریم پلاننگ کمیشن آف پاکستان ، پاک سیکریٹریٹ میں منعقد ہوئی ۔رپورٹ کے مطابق رضاکارانہ طور پر 11000تربیت یافتہ افراد نے 154اضلاع(بلوچستان اور گلگت بلتستان میں شامل کردہ اضلاع)کا دورہ کیا۔ اثر سروے کے نتائج 4527گائوں میں 89966خاندانوں اور 260069بچوں جن کی عمرتین سے چھ سال کی جمع کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ سروے کے لئے 5سے 16سال کی عمر کے 196253بچوں کا اردو، سندھی اور پشتو زبان اور ریاضی کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق 2016میں سکول سے باہر بچوں کی شرح 19فیصد تھی جس میںمیں 2فیصد کمی کے ساتھ 2018میں سکول سے باہر بچوں کی شرح 17 فیصدرہ گئی ہے جبکہ تعلیم کے اندراج میں 37 اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 6-16سال تک کے عمر کے بچوں کی شرح داخلہ 83فیصد رہی، معیار تعلیم کے حوالے سے 2018کی رپورٹ میں مثبت خبریں ملیں، 2016سے اب تک ماوں کی بنیادی تعلیم کے حصول میں 3فیصداضافہ دیکھا گیا،سروے کے مطابق نجی و سرکاری سکولوں میں بیت الخلا کی سہولیات میں 4فیصد اضافہ دیکھا گیا، اثر 2018کے نتائج کے مطابق زبان، انگریزی اور ریاضی میں طالب علم کی اہلیت میں بہتری کی رجحانات ظاہر کرتے ہیں، گورنمنٹ سکولوں میں چھتیس کے مقابلے میں نجی سکولوں میں بیالیس فیصد اساتزہ گریجویٹ ہیں، لڑکے خواندگی اور حسابی مہارتوم می لڑکیوں سے بہتر نتائج دے رہے ہیں۔