مذاکرات ہی افغان مسئلے کا حل‘ ٹرمپ اسی آپشن پر قائم رہیں

مذاکرات ہی افغان مسئلے کا حل‘ ٹرمپ اسی آپشن پر قائم رہیں

صدر ٹرمپ کی پاکستان سے افغان امن عمل میں کلیدی کردار ادا کرنے کی توقعات‘ اچھے تعلقات اور قیادت سے ملاقات کی خواہش

کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم پاکستان سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں تاہم وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں اور دشمنوں کی رکھوالی کرتے ہیں، اس لیے میں پاکستان کے نئے حکمرانوں سے جلد ملاقات کرنے کا منتظر ہوں۔ ٹرمپ نے اجلاس کے شرکاء کو پاکستان کو دئیے جانے والے فنڈ کو روکے جانے کا بتاتے ہوئے کہا کہ جب ہم پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر دیتے تھے تو میں نے ہی اسے روکا تھاکیونکہ وہ ہم سے مخلص نہیں تھے۔ پاکستان ہمارے ساتھ ٹھیک طریقے سے نہیں چل رہا تھا‘ اس لیے پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر دینا بند کر دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی نے افغانستان میں لائبریری بنا کر بار بار جتایا۔ بھارت نے جتنے پیسوں میں لائبریری بنائی، امریکہ اتنے افغانستان میں 5 گھنٹے میں خرچ کر دیتا ہے۔ امریکی ٹی وی کے مطابق افغانستان کے امن عمل میں بھارت کے دہائیوں پرانے کردار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ بھارت آخر طالبان کیخلاف افغانستان کی مدد کیوں نہیں کرتا۔ افغانستان میں بھارت جو امداد کر رہا ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بھارت سمیت روس اور پاکستان افغانستان میں طالبان سے لڑنے کیلئے کلیدی کردار ادا کریں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے معاملے پر سابق وزیر دفاع جم میٹس کو عہدے سے برطرف کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ اجلاس کے دوران کہا کہ جم میٹس نے میرے لئے کیا کیا ہے؟ انکی کمانڈ کے دوران امریکی فوج کی پالیسی اچھی نہیں تھی۔ جو کچھ انہوں نے افغانستان میں کیا میں اس سے خوش نہیں۔صدر باراک اوباما نے بھی انہیں برطرف کیا تھا اور اب میں نے بھی کردیا۔ صدر ٹرمپ کے بیان کے ردعمل میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا امن افغانستان سے جڑا ہوا ہے۔ افغانستان میں استحکام کے تناظر میں امریکہ کا کردار اہم ترین ہے۔ پاکستان کو افغان جنگ کے اثرات جھیلنا پڑے، اگر امریکہ یہ بات سامنے رکھ کر آگے بڑھے تو معاملات مزید بہتری کی طرف جائینگے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے صدر ٹرمپ کے پاکستانی قیادت سے ملاقات کی خواہش کے اظہار کے حوالے سے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یکم جنوری 2018 کے ٹویٹ کے بعد اپنا موقف بدل لیا ہے۔ پاکستان امریکی صدر کی درخواست پر طالبان سے مذاکرات کیلئے سہولت کاری کر رہا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم کیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون اور روابط جاری رکھے گا ۔

بدمزاجی اور منتشرالخیالی کی شہرت رکھنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات میں پاکستان کے حوالے سے بڑی تبدیلی آئی ہے۔ افغان صورتحال کا پوری طرح جائزہ لئے بغیر امکانی طور پر بھارت کے ایماء پر پاکستان کیخلاف ٹرمپ الزامات کی بوچھاڑ اور پھر دھمکیوں کی یلغار کرتے نظر آئے۔ انکے لب و لہجے میں جارحیت نمایاں اور ایک بار تو پاکستان پر حملے کی بھی تڑی لگادی۔ افغانستان میں کھربوں ڈالر خرچ کرنے‘ سیکڑوں فوجی مروانے کے باوجود ناکامی پر ٹرمپ زیادہ ہی فرسٹریشن کا شکار نظر آئے۔ اس سب کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتے ہوئے انہوں نے سپورٹ فنڈ کو امداد قرار دے کر طعن و تشنیع کی اور یہ فنڈ جو اب تک امریکہ کو افغانستان تک راہداری اور دیگر خدمات کی فراہمی کے مقابلے میں کہیں کم معاوضہ ہے بند کر دیا۔ جس سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ پاکستان نے نائن الیون کے بعد غیرمشروط امریکہ کا ساتھ دیا جس کے باعث خود بھی بدترین دہشت گردی کا شکار ہوا۔ امریکہ کے ڈومور کے تقاضوں پر بھی عموماً عمل کیا گیا مگر امریکہ کی پاکستان پر بداعتمادی میں اضافہ ہوتا چلا گیا تاآنکہ صورتحال ٹرمپ کی واضح دھمکیوں تک جا پہنچی تھی۔

تحریک انصاف حکومت میں آئی تو قومی خودمختاری کے حوالے سے واضح سٹینڈ لیا۔ ٹرمپ کی دھمکیوں کا اسی لہجے میں جواب دیا اور غیروں کی جنگ نہ لڑنے کا دوٹوک اعلان کرتے ہوئے امریکہ کو افغان مسئلہ کے حل میں طاقت سے گریز کا مشورہ دیا۔ امریکی حکمران پاکستان کی طرف سے اس لہجے میں کی گئی بات سننے اور ہضم کرنے کے عادی نہیں ہیں۔ ٹرمپ کی پھرکی گھومی ضرور مگر ہوش کے ناخن بھی لئے۔ افغانستان میں بدترین بے عملی کا جائزہ لیتے ہوئے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی اور پاکستان سے پہلی بار افغانستان میں قیام امن کیلئے کردار ادا کرنے کی درخواست کی جس پر پاکستان نے حامی بھری جس کے نتیجے میں امریکہ طالبان براہ راست مذاکرات کا متحدہ عرب امارات میں کامیاب دور ہوچکا ہے۔دوسرا اگلے چند روز میں سعودی عرب میں ہوگا۔

امریکہ کی افغانستان پر حملے کی وجہ طالبان حکومت کا نائن الیون حملوں میں ملوث اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار تھا۔ امریکہ نے طالبان کے انکار پر اسے سبق سکھانے کیلئے چالیس سے زائد ممالک سے مل کر طالبان حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر انکے اقتدار کا خاتمہ کیا اور پہلے حامد کرزئی پھر اشرف غنی کی صورت میں کٹھ پتلی اقتدار میں لابٹھائے۔ کئی سال بعد اسامہ بن لادن پاکستان میں امریکی حملے کے دوران مارا گیا‘ گویا امریکہ کا افغانستان پر حملے کا مقصد دس سال میں پورا ہوا‘ اس دوران طالبان نے گوریلا وار میں امریکہ اور اسکی اتحادی افواج کو زچ کرکے رکھ دیا۔ طاقت کے زور پر امریکہ نے طالبان حکومت کا خاتمہ تو کر دیا مگر افغانستان میں حکومت کو مضبوط نہ بنایا جا سکتا۔ اقتدار اعلیٰ کو بندوق کی نوک پر مضبوط بنانا تو درکنار قبضہ برقرار رکھنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ آج طالبان افغانستان کے اکثر علاقوں پر قابض جبکہ امریکہ کے سائے میں افغان انتظامیہ کی مکمل رٹ کابل کی حدود میں بھی نہیں ہے۔

ٹرمپ کی طبیعت میں لاابالی پن اب بھی موجود ہے۔ وہ پاکستان روس اور افغانستان کو طالبان کیخلاف لڑنے کو کہہ رہے ہیں۔ سولہ سترہ سال لڑ کر کیا حاصل ہوا؟ جو ٹرمپ نے مذاکرات کا آپشن اختیار کیا ہے‘ اسی پر قائم رہیں یہی افغان مسئلے کا بہترین حل ہے۔ بھارت میں تو لڑنے کی سکت نہیں‘ اسے سازشوں‘ مکاری اور فریب کاری و عیاری میں مہارت حاصل ہے۔ بھارت نے امریکہ کو پاکستان کیخلاف اپنی فریب کاریوں باعث لاکھڑا کیا۔ امریکہ بھارت کو افغانستان میں وسیع تر کردار دینے کی بات کرتا رہا ہے۔ پاکستان پر بھارت کے اس مجوزہ اور غیرضروری کردار کو قبول کرنے پر زور دیا گیا جسے پاکستان نے تسلیم کرنے سے دوٹوک انکار کیا۔ ٹرمپ افغانستان کے مسائل کافی حد تک سمجھ چکے ہیں۔ بھارت کی اصلیت بھی ان پر عیاں ہوچکی ہے۔ بھارت تو افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال کرتا ہے۔ اب جبکہ پاکستان امریکہ کشیدگی کی برف پگھل رہی ہے تو بھارت کا افغانستان سے عمل دخل ختم کرانا پاکستان اور افغانستان دونوں میں امن کیلئے ضروری ہے۔

افغان مسئلہ کے حل میں پاکستان کے نیک نیتی پر مبنی کردار سے بڑی تیزی سے مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ طالبان امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کررہے ہیں جبکہ طالبان نے اشرف غنی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا ہے۔ افغان انتظامیہ طالبان کو قومی دھارے میں لانے کیلئے انہیں اقتدار میں شامل کرنے پر تیار نہیں‘ وہ سٹیٹس کو کی حامی ہے۔ افغان حکومت کیلئے تو طالبان امریکہ تعلقات اور مذاکرات بھی ناقابل برداشت ہیں جس کا دبے لفظوں میں اظہار بھی ہوتا رہا ہے۔ اب امریکہ افغان جھنجھٹ سے نجات پانا چاہتا ہے۔ طالبان غیرملکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے افغانستان میں موجود فوجوں کی تعداد نصف کرنے کا اعلان کیا جس کی مخالفت وزیر دفاع میٹس نے بھی کی‘ انکی برطرفی کا یہی سبب ہے گویا امریکہ کے اندر بھی افغان امن کا مخالف طبقہ موجود ہے۔ ۔

امریکہ افغان مسئلے کا سب سے بڑا طاقتور اور فیصلہ کن اختیار و قوت رکھنے والا فریق ہے۔ پاکستان‘ چین‘ ایران اور روس سمیت خطے کے اکثر ممالک افغان مسئلہ کے سیاسی اور پرامن حل پر تیار اور کوشاں ہیں۔ امریکہ کا افغانستان سے انخلاء کرنا نوشتہ دیوار ہے۔ جاتے ہوئے امریکہ 80ء کی دہائی والا تجربہ نہ دہرائے۔ جب روس کو توڑنے کے مقاصد حاصل کرکے افغانستان کو لاوارث چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ اب جاتے ہوئے افغانستان میں مستحکم سیاسی فضا قائم کرنے کی کوشش کرے جو طالبان کو نظرانداز کرکے قائم کرنا ناممکن ہوگا۔