تحریک لبیک، حکومت مذاکرات کامیاب، دھرنا ختم

تحریک لبیک، حکومت مذاکرات کامیاب، دھرنا ختم

حکومت اورتحریک لبیک پاکستان کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد پانچ نکاتی معاہدہ طے پا گیا۔ معاہدے کے بعد تحریک لبیک کی قیادت نے ملک بھر میں تین روز سے جاری دھرنا ختم کردیا۔ معاہدے پر وفاقی وزیر مذہبی امور اور پنجاب کے وزیر قانون نے جبکہ تحریک لبیک کی طرف سے سرپرستِ اعلیٰ پیر افضل قادری اور سیکرٹری جنرل غلام وحید نور نے دستخط کئے۔ دھرنے ختم ہوتے ہی پیٹرول پمپوں کو تیل کی فراہمی شروع ہو گئی، سڑکیں اور سرکاری تعلیمی ادارے کھل گئے، آمدورفت شروع ہو گئی۔

معاہدہ تحریک انصاف کی حکومت کی اس لحاظ سے بھی بڑی کامیابی ہے کہ دوسرے فریق کونہ تو کوئی خاص رعایات دی گئیں اور نہ کوئی بڑامطالبہ تسلیم کیا گیا البتہ اس طرح فوری طور پر صورتحال کی نزاکت ختم ہو گئی‘ تاہم اس کا مستقل حل یہ ہے کہ ہر اس تنظیم پر قانونی پابندی عائد کردی جائے جو قانونی راستہ اختیار کرنے کی بجائے قانون کو ہاتھ میں لے کر بے گناہ شہریوں کی زندگی اجیرن کرنے کا باعث بنتی ہو۔ مطالبات منوانے کا یہ کیسا طریقہ ہے کہ سڑکیں بند کردی جائیں۔ اشیائے خور و نوش کی نقل و حمل معطل کر دی جائے۔ پیٹرول پمپ ویران ہو جائیں، ٹرینیں رُک جائیں۔ طیاروں کی آمدورفت معطل ہو جائے، مریض گھروں میں تڑپ تڑپ کر جان دینے لگیں۔ماضی میں حکومتوں نے ایسی تنظیموں کو ختم کیا ہے، اب بھی جن لوگوں نے توڑ پھوڑ کی سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا‘ انکے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ حکومتی رٹ پر بہرحال کوئی حرف نہیں آنے دینا چاہیے۔ اس کیلئے معاملہ فہمی سے کام لے کر مذاکرات کے ذریعے بیل منڈھے چڑھائی جاسکتی ہے تو اس سے بھی ضرور کام لینا چاہیے تاہم ریاستی اتھارٹی میں کسی کمزوری کا تاثر بھی پیدا نہیں ہونے دینا چاہیے۔ آسیہ بی بی کے بارے میں قانون اپنا راستہ نکالتا رہے گا لیکن ملک و قوم کو یرغمال بنانے کی راہ پر گامزن عناصر کی بہرصورت حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔