حکومتی اور عدالتی سربراہان کی عملیت پسندی سے ریاست مدینہ کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو گا

حکومتی اور عدالتی سربراہان کی عملیت پسندی سے ریاست مدینہ کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو گا

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا فوری اور مؤثر انصاف کیلئے عدلیہ میں احتساب کے آغاز کا اعلان

چیف جسٹس سپریم کورٹ مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے خود کو احتساب کیلئے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی مجھ سے سوال پوچھ سکتا ہے‘ آزاد ملک نصیب والوں کو ملتا ہے‘ ججوں کا فیصلوں میں وجوہات نہ لکھنا بے انصافی ہے‘ ملک میں عدلیہ کا ایک مقام ہے‘ اسکی عزت کریں‘ بابا رحمتا انصاف اور بڑے ہونے کی علامت ہے۔ کوئی اومنی گروپ ہو یا کچھ اور‘ سب کو انصاف کے مطابق چلنا ہوگا۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سلور جوبلی کے موقع پر ’’قانون میں نئے افق‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست کو ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کیلئے عدالت ایکشن لیتی ہے۔ 55 ہزار یومیہ میں پڑنے والے جج کو بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہونگی۔ میں اپنے گربیان میں جھانک کر پھر آپ سے بات کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ منشاء بم جیسے لوگ جائیدادیں کھا جاتے ہیں‘ اگرچہ شہریوں کو انصاف فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے مگر ہمیں خود بھی قانون کا علم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلوں میں تاخیر نظام انصاف میں ناسور کی حیثیت اختیار کرچکی ہے‘ جس معاشرے میں ناانصافی ہوگی وہ قائم نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے جن چیزوں پر ازخود نوٹس لئے وہ ان کا شاید مکمل حل نہیں ڈھونڈ پائے۔ نوٹس لینے کا مقصد احساس پیدا کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی حقوق کا تحفظ صرف عدلیہ کا حکم نہیں بلکہ لوگوں کا حق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انصاف کے نظام کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے قوانین اور سسٹم میں ترامیم کی ضرورت ہے کیونکہ وہ دور گیا جب لوگ انصاف ملنے کے منتظر رہتے تھے اور صبر سے کام لیتے تھے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ایک فلاحی ریاست کا حق نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق اور سہولیات فراہم کرے۔ افسوس کہ کئی کئی دن مقدمات کی شنوائی نہیں کی جاتی۔ ججوں کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا کہ وہ آنیوالی نسل کو کیا دے کر جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس بندے کے مقدمے کی تاریخ پڑ جاتی ہے وہ اسی دن مر جاتا ہے۔ انصاف میں تاخیر انصاف کے قتل کے مترادف ہے‘ ہمیں اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید تقاضوں کے مطابق پالیسیاں بنانا ہوںگی۔ انہوں نے باور کرایا کہ مقدمات میں تاخیر کی وجہ عدلیہ کی نااہلی بھی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ بے انصافیوں کی بنیاد پر کھڑا کوئی معاشرہ تادیر قائم نہیں رہ سکتا اور حضرت علی کرم اللہ وجہ نے اسی تناظر میں ارشاد فرمایا تھا کہ کوئی معاشرہ کفر کی بنیاد پر تو قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم کی بنیاد پر قائم نہیں رہ سکتا۔ یقیناً بے انصافی سے بڑا کوئی ظلم نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ ظلم انصاف فراہم کرنیوالے ادارے اور اس میں موجود شخصیات کے ماتحت ہورہا ہو تو ایسے نظام عدل کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ قاضی کی اسلامی معاشرے میں اسی لئے سب سے زیادہ عزت و تکریم ہوتی ہے کہ اس نے انسانوں کے مابین انصاف کرکے انہیں ظلم سے روکنا ہوتا ہے۔ مظلوم پر اٹھنے والے ظالم کے ہاتھ کو روکنے سے بڑھ کر کوئی انصاف نہیں ہو سکتا جبکہ ظالم کا ہاتھ بروقت روکنا ہی اصل انصاف ہے۔ ہمارا یہ المیہ ہے کہ انگریز کی ودیعت کردہ عدل گستری کو مکھی پر مکھی مارتے ہوئے اسی طرح برقرار رکھا جاتا رہا ہے اور انگریز ہی کے وضع کئے گئے تعزیری اور فوجداری قوانین و ضوابط کو بھی جدید حالات کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کم ہی ضرورت محسوس کی گئی۔ انگریز کے دور میں تو تعزیری اور فوجداری قوانین کے زمرے میں آنیوالے جرائم کم ہی سرزد ہوتے تھے اس لئے عدل گستری بغیر کسی اضافی بوجھ کے رواں رہتی تھی اور انصاف میں تاخیر کا تصور خال خال ہی پیدا ہوتا تھا مگر تقسیم ہند اور تشکیل پاکستان کے بعد بالخصوص اراضی اور جائیداد کے تنازعات پیدا ہوئے تو مقدمات کی تعداد بھی بڑھنے لگی۔ اسی طرح انسانی آبادی کے بتدریج بڑھنے سے بھی مقدمات کی نوعیت تبدیل ہوتی اور تعداد بڑھتی رہی جبکہ اس صورتحال سے عہدہ برأ ہونے کیلئے نظام عدل اور مروجہ قوانین میں جن اصلاحات کی ضرورت تھی‘ اس سے صرفِ نظر کیا جاتا رہا۔

صرف یہی نہیں ہمارے معاشرے میں کمزور اور برتر کا تصور بھی تیزی سے پنپنے لگا اور برتر کے مقابلے میں کمزور کے تحفظ کیلئے قانون و انصاف کی عملداری بھی آہستہ آہستہ ہلکی پڑتی گئی۔ ان حالات میں بااختیار اشرافیہ طبقات کے استحصال‘ من مانیوں اور لاقانونیت کو روکنے کیلئے مضبوط عدل گستری کی ضرورت تھی مگر قانون و اقتدار کے ایوانوں میں آنیوالے اشرافیہ طبقات کو مضبوط عدل گستری سوٹ نہیں کرتی تھی اس لئے نظام عدل میں اصلاح تو کجا‘ اسکی ضرورتیں پوری کرنے سے بھی دانستہ طور پر گریز کیا جاتا رہا۔ یہی وہ صورتحال ہے جو مقدمات کی بھرمار اور انصاف میں تاخیر کا باعث بنتی رہی اور ہمارے نظام عدل پر یہ مثال صادق آتی رہی کہ دادے کا دائر کردہ کیس پوتا بھگت رہا ہوتا ہے اور اسکی زندگی میں بھی اسکے فیصلہ کی نوبت نہیں آتی۔ اگر کوئی سائل اپنے کیس میں حصول انصاف کیلئے عمر بھر ایڑیاں رگڑتا رہے اور انصاف کا پروانہ پہنچنے سے پہلے وہ قبر میں چلا جائے تو ایسے انصاف کی اس کیلئے کیا وقعت رہ جاتی ہے۔

اگر آج اس مملکت خداداد کے منصفِ اعلیٰ اپنی ذات کو محاسبہ کیلئے پیش کرکے بے انصافیوں کے نتیجے میں ظلم کے نظام کے توانا ہونے پر اپنے ادارے کا کتھارسس کررہے ہیں تو اسکے پیچھے بے انصافیوں کے نظام کی پوری ایک تاریخ موجود ہے۔ اس نظام کو توانا کرنے میں یقیناً ہر دور کے حکمرانوں کا بھی عمل دخل رہا ہے جن کی گورننس کے بگاڑ سے بھی مقدمات کی شرح میں اضافہ ہوتا رہا جبکہ مفصل سے اعلیٰ عدلیہ تک ججوں کی مقررہ تعداد سمیت نظام عدل کے لوازمات پورے کرنے کے معاملہ میں ہر حکمران کی طرف سے ہاتھ کھینچا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح عدلیہ کی آزادی بھی قیام پاکستان کے بعد کی 60 70, دہائیوں تک ایک مسئلہ بنی رہی ہے جبکہ جرنیلی آمریتوں میں عدلیہ کی آزادی کو بہت زیادہ سلب کیا جاتا رہا۔ ان ساری قباحتوں نے ہمارے معاشرے میں ظلم کے نظام کو توانا کیا جبکہ ججوں کے احتساب کا تصور بھی مفقود رہا۔ اس طرح عدل گستری میں ’’سٹیٹس کو‘‘ در آیا جو ’’سٹیٹس کو‘‘ والے سیاسی نظام کے ساتھ ہی پروان چڑھتا رہا۔

اگرچہ آئین پاکستان میں سپریم کورٹ کو دفعہ 184 اور ہائیکورٹوں کو دفعہ 199 کے تحت انسانی حقوق کے تناظر میں ازخود نوٹس لینے کے اختیارات دیئے گئے مگر انصاف کے متعلقہ اداروں کی جانب سے ان اختیارات کا کم ہی استعمال کیا گیا۔ ان اختیارات کے ماتحت عدلیہ کی فعالیت سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کے دور میں شروع ہوئی مگر وہ بالآخر خود ہی اس فعالیت کی زد میں آکر اپنے منصب سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پھر جسٹس افتخار محمد چودھری نے چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہونے کے بعد جوڈیشل ایکٹوازم کو بروئے کار لانے کا بیڑہ اٹھایا جو جرنیلی آمر مشرف کو ناگوار گزرا تو انہوں نے جسٹس افتخار چودھری پر جرنیلی تازیانے برسانے کا اقدام اٹھالیا جس کے ردعمل میں سول سوسائٹی کی تحریک نے جنم لیا تو ملک کی عدالتی تاریخ میں جرنیلی آمر کے ہاتھوں برطرف ہونیوالی عدلیہ کی بحالی کا سنہرا باب رقم ہوگیا اور پھر جوڈیشل ایکٹوازم بھی ایک باقاعدہ تاریخ بن گئی جو آج ہماری عدلیہ کا طرۂ امتیاز بن چکی ہے۔

فاضل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملک کے منصفِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد سسٹم کی اصلاح کیلئے عدالتی فعالیت کو بروئے کار لا کر بلاشبہ عوام میں امید کی نئی کرن پیدا کی ہے۔ ان کا خاصہ یہی ہے کہ وہ جہاں حکمرانوں کی اصلاح کیلئے اپنے ازخود اختیارات بروئے کار لاتے رہے ہیں وہیں وہ اپنے ادارے کی اصلاح کی طرف بھی بدرجہ اتم توجہ مبذول کرتے رہے ہیں۔ اگر سیاسی اور عدالتی نظام کی اصلاح کے اسی جذبے کے تحت عدلیہ پر سیاسی مقدمات کا بوجھ نہ پڑنے دیا جائے تو عوام الناس کے سالہا سال سے زیرالتواء مقدمات کا بوجھ بھی بتدریج کم ہوتا جائیگا تاہم اس کیلئے حکومت کی مکمل معاونت کے بغیر کوئی راستہ نہیں نکل سکتا۔ اگر ریاست اور اسکے ادارے بالخصوص انتظامی مشینری بذات خود اتنی فعال ہو کہ ادارہ جاتی اور محکمانہ بے ضابطگیوں اور ناانصافیوں کا ساتھ ہی ساتھ تدارک کرتی رہے تو اس سے انصاف پر مبنی معاشرے کی بنیاد بھی ازخود مستحکم ہوتی جائیگی۔ عمران خان نے 22 سال قبل معاشرے میں بے انصافیوں کے تدارک کے جذبہ کے تحت ہی تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تھی۔ انہیں اپنی طویل سیاسی جدوجہد کا اب اقتدار کی صورت میں ثمر ملا ہے تو اب معاشرے کو ہر قسم کی ناانصافیوں اور بدعنوانیوں سے پاک کرکے نئے پاکستان کی تشکیل ان کا مطمحٔ نظر ہے جس کیلئے انکی حکومت عملی اقدامات کا آغاز بھی کرچکی ہے۔ اس بنیاد پر عوام کو اپنے روٹی روزگار کے معاملہ میں متعلقہ حکومتی‘ سرکاری فورموں پر انصاف ملتا رہے گا اور سرعت کے ساتھ انکی دادرسی ہوتی رہے گی تو اس سے یقیناً عدلیہ پر مقدمات کا بوجھ بتدریج کم ہوتا جائیگا۔ چنانچہ عدلیہ کو اپنی خرابیاں دور کرنے کیلئے مؤثر اقدامات اٹھانے کے مواقع بھی ملنا شروع ہو جائینگے اور اس طرح وسائل کی کمی انصاف کی بروقت فراہمی کی راہ میں حائل نہیں ہوگی۔ اس تناظر میں معاشرے کو عدل و انصاف سے ہمکنار کرنے کیلئے آج کا دور مثالی دور قرار دیا جا سکتا ہے کہ حکومت بھی معاشرے میں ناانصافیوں کے ازالہ کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہے اور عدلیہ کے سربراہ بھی اپنے ادارے کی خامیاں دور کرنے سمیت ہر قسم کی ناانصافیوں کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہیں۔ آج عدلیہ کے اندر بھی احتساب کی روایت پروان چڑھ رہی ہے تو وہ دوسرے ریاستی اداروں میں بھی بے لاگ احتساب کیلئے معاون بنے گی۔ ضرورت صرف باعمل ہونے کی ہے جس کیلئے وزیراعظم عمران خان اور چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ایک نئی مثال قائم کررہے ہیں چنانچہ انکی عملیت پسندی سے ملک کو ریاست مدینہ کے قالب میں ڈھالنے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے۔