پاکستان کے آئی ایم ایف سے رجوع سے متعلق امریکہ کے بے بنیاد دعوے

پاکستان کے آئی ایم ایف سے رجوع سے متعلق امریکہ کے بے بنیاد دعوے

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدرنوارٹ نے کہا ہے کہ چینی قرضوں کے بوجھ کے سبب پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ہے۔ اُنہوں نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ قرضہ جاری کرنے سے پہلے پاکستان کی پوزیشن کو ہر زاویے سے دیکھا جائے گا۔دوسری جانب وفاقی وزارت منصوبہ بندی نے بھی اس امریکی بیان کو حقائق کے منافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان کی معیشت گزشتہ کئی دہائیوں سے درآمدات و برآمدات میں عدم توازن کے سبب بیرونی قرضوں پر انحصار کئے ہوئے ہے۔ عدم توازن کی بڑی وجہ توانائی کا بحران ہے، جس نے صنعتی اورزرعی شعبے کو بُری طرح متاثر کیا۔ معیشت کی ابتری کی دوسری بڑی وجہ، امریکہ کی افغانستان کے خلاف جارحیت اور اُس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دہشت گردی ہے، جس میں پاکستان کو 60 ، 70 ہزار انسانوں کی جانی قربانی دینے کے علاوہ معیشت کو سو ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ قومی معیشت کے زوال میں سیاسی عدم استحکام نے بھی بڑا کردار ادا کیا۔امریکہ پہلے تو اس لیے ناراض ہوا کہ پاکستان نے اُس کے لئے افغانستان میں دہشت گردی کی جنگ لڑنے سے انکار کر دیا اور جس امر نے امریکہ اور اس کے ’’سٹریٹجک پارٹنر‘‘ بھارت کو ز یادہ برہم کیا وہ سی پیک ہے۔ امریکہ اور بھارت سی پیک سے اس قدر الرجک ہیں کہ ابھی تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کا نام بھی نہیں لیا تھا کہ امریکی حکام نے کہنا شروع کر دیا کہ آئی ایم ایف کے قرضے کو چین کے قرضے کی اقساط کی ادائیگی کے لئے استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا حالانکہ سی پیک کے تحت چین سے حاصل کئے جانیوالے قرضوں کی واپسی کا عمل تین سال بعد 2021ء سے شروع ہو گا۔ اسلام آباد نے واشنگٹن کے ہذیانی بلکہ کھسیانے بیانات کو مسترد کر کے اور اصل صورتحال کی بروقت وضاحت کر کے، امریکہ اور اس کے پردے میں بھارت کے معاندانہ دعوئوں کی قلعی کھول دی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ نئی حکومت کی کرپشن کے خلاف مہم ، بیرونِ ملک پاکستانیوں کے اثاثے اور سوئس بینکوں میں پڑی رقومات کے واپسی کے اقدامات کے نتیجے میں، ملکی معیشت کے اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے امکانات روشن ہو رہے ہیں۔