پاکستان میں استحکام اور برطانیہ کو تعاون کی پیش کش

پاکستان میں استحکام اور برطانیہ کو تعاون کی پیش کش

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لندن میں برطانوی وزیر دفاع گیون ولیم سن اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر مارک سڈول سے ملاقات کی جس کے بعد وفود کی سطح پر بھی بات چیت ہوئی۔ ان ملاقاتوں میں پاک فوج کے سربراہ نے انہیں بتایا کہ پاکستان مسلسل استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ دیر پا امن کی جانب گامزن ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق برطانوی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف عظیم کامیابیوں ، خطے میں قیام امن اور سلامتی کی صورتحال پر پاکستان کی تعریف کی اس موقعہ پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ مشترکہ مفادات کے لئے پاکستان اور برطانیہ کے باہمی تعاون کو اگلے مرحلے تک لے جانے کو تیار ہیں ۔

آرمی چیف کا ملکی استحکام کے بارے میں بیان ان قوتوں پر بجلی بن کر گرا ہوگا ، جنہوں نے نئی دہلی سے واشنگٹن تک یہ پراپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے کہ پاکستان عدم استحکام کا شکار ہے۔ پاکستان کو قرضے دینے والے اداروں اور معاونت پر آمادہ ملکوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کی سرمایہ کاری اور مدد کی کوششیں ، خاکم بدہن رائیگاں جائیں گی۔ تاہم اس تمام پراپیگنڈہ کا مقصد پاکستان میں بے چینی پھیلانااور اسے کشمیریوں کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمائت سے باز رکھنا اور پاکستان کو چین سے ناتے توڑنے اور سی پیک کو ترک کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ پاکستان میں استحکام لانے کا سہرا پاک فوج کے سر ہے، جس نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی، بھارتی جارحیت کے منصوبوں کو ناکام بنایا اور جمہوریت کے فروغ کے لئے جمہوری قوتوں کا بھرپور ساتھ دیا ۔ عساکر پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف نمایاں کردار ادا کرکے نہ صرف اپنے وطن میں بلکہ خطے کے تمام ممالک کے استحکام کی بنیاد مضبوط کی ہے ۔ اقوام عالم کو اس حوالے سے پاک فوج کی صلاحیتوں اور کردار کا اعتراف کرنا چاہیے ۔ پاکستان کے ان علاقوں میں بھی میگا پراجیکٹس پر کام ہو رہا ہے ، جہاں بھارتی ایجنٹوں نے عام شہریوں کے لئے جانا بھی نا ممکن بنا دیا تھا ۔ اسی طرح برطانیہ کے اس خطے سے کئی مفادات وابستہ ہیں جو صرف پاکستان کے تعاون سے ہی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں ، اس حوالے سے برطانیہ کو تعاون اگلے مرحلے تک لے جانے کی پیشکش دونوں ملکوں کے لئے نہایت سود مند ثابت ہو سکتی ہے ۔