معماران قوم کو ہتھکڑیاں

معماران قوم کو ہتھکڑیاں

سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران سمیت 6 ملزموں کا 10 روزہ ریمانڈ۔ ہتھکڑیوں میں احتساب عدالت میں پیشی۔ چیف جسٹس نے ہتھکڑیاں لگانے کا نوٹس لے لیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز کی عدالت میں طلبی۔ چیئرمین نیب نے بھی رپورٹ طلب کرلی۔

نیب کے معاملات پر چیف جسٹس پہلے ہی سخت وارننگ دے چکے ہیںکہ وہ لوگوں کی تذلیل اور میڈیا ٹرائل سے اجتناب کرے۔ اس کے باوجود گزشتہ روز جس طرح سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کو 6 رجسٹراروں سمیت ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں اور میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا وہ معماران قوم کو جان بوجھ کر بے توقیرکرنے کے مترادف ہے۔ جسے کسی صورت قابل ستائش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ چیف جسٹس کے احکامات کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ عدالت میں ان کے حامی وکلانے اس پر شدید احتجاج بھی کیا ہے۔ ملک کی دیگر جامعات کے وائس چانسلروں نے بھی اعلیٰ تعلیمی ادارے کے وائس چانسلر کے ساتھ اس سلوک پر تشویش کا ا ظہار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لئے ایچ ای سی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ نیب کے ایسے اقدامات سے عدالتوں اور عوام میں جو اضطراب پیدا ہو رہا ہے اس کا حکومت کو نوٹس لینا چاہئے۔ نیب کا جو کام ہے وہ صرف اس کو اچھے طریقے سے پورا سرانجام دے۔ یوں لوگوں کی اور خاص طور پر اساتذہ اور شرفا کی تذلیل اور ان کا میڈیا ٹرائل بند ہونا چاہئے۔اگر اس معاملہ میں چیف جسٹس سپریم کورٹ کے سخت نوٹس لینے کے باوجود نیب کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور اسکے اہلکاروں نے معماران قوم کی تذلیل سے بھی گریز نہیں کیا تو پھر پہلے اس ادارے کی اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔