امریکہ کی نئے دوستوں کی تلاش ہمارے پاس بھی آپشنز ہیں

امریکہ کی نئے دوستوں کی تلاش ہمارے پاس بھی آپشنز ہیں

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جو ان دنوں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے سلسلے میں نیویارک میں ہیں، غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان کیلئے امریکہ ا ور چین دونوں اہم ہیں لیکن جنوبی ایشیا میں امریکہ کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ اگر امریکہ نئے دوست ڈھونڈ رہا ہے تو ہمارے پاس بھی آپشنز موجود ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے امریکہ کے بعض مطالبات کے حوالے سے کہا کہ اگر واشنگٹن افغانستان میں مدد چاہتا ہے تو مشرقی سرحد پر محفوظ ماحول فراہم کرے اور اپنے دوست بھارت کو مذاکرات پر راضی کرے، دریں اثنا امریکی پرنسپل اسسٹنٹ ایلس ویلز نے ا یک دفعہ پھر پاکستان سے ڈومور کے تقاضے کی رٹ لگاتے ہوئے الزام لگایا کہ اسلام آباد نے طالبان کو مذاکرات پر آمادہ نہیں کیا، ٹرمپ مایوس ہیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پاکستان نان سٹیٹ ایکٹرز کا خاتمہ کرے، انکے بقول امریکہ بھارت پارٹنرشپ سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں۔

تقریباً ایک ماہ گزرا ہو گا کہ نئے وزیراعظم عمران خان نے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور مذاکرات کی پیش کش کی مگر ساری دُنیا نے دیکھا کہ اُس نے نہایت رعونت سے پاکستان کی پیشکش کو ٹھکرا دیا اوراُلٹا نریندر مودی نے اپنے چیف آف آرمی سٹاف جنرل بپن راوت کی زبان سے پیغام بھجوایا کہ بھارت ’’ایک اور سرجیکل سٹرائیک‘‘ کیلئے تیار ہے۔ پاکستان کو چڑانے اور اشتعال دلانے کیلئے گزشتہ روز پہلی ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کی سالگرہ جسے تجزیہ کاروں نے ’’برسی‘‘ قرار دیا ہے منا ڈالی۔ بھارت نے یہ رویہ اور پالیسی تب سے اپنائی ہے جب سے امریکہ نے اُسکی سرپرستی کرتے ہوئے علاقے کی تھانیداری اُسے سونپی ہے۔ درحقیقت امریکہ، بھارت گٹھ جوڑ کے نتیجے میں ہی ہماری سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ پاکستان نے خطے سے جس میں افغانستان ہی نہیں، بھارت بھی شامل ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے انتہا پسند جنگجوئوں سے خوفناک جنگ لڑی اور بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دیں، اسکے بعد بھی پاکستان کو دہشت گردوں کو ٹھکانے فراہم کرنے یا کوئی نان سٹیٹ ایکٹر قسم کی مخلوق پالنے کا مورد الزام ٹھہرانا ظلم اور پاکستان کی قربانیوں سے سنگ دلانہ انکار ہے۔ یہ درست ہے کہ افغانستان میں آج بھی طالبان ، القاعدہ ا ور داعش کے جنگ جو دہشت گردی میںمصروف ہیں اور ان کا قلع قمع کرنے کیلئے پاکستان کی امداد بڑی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے لیکن پاکستان، بھڑوں کے اس چھتے میں اُس وقت تک ہاتھ نہیں ڈال سکتا جب تک اُسکی مشرقی سرحد محفوظ نہ ہو، مگر امریکہ بھارت روابط کو دیکھتے ہوئے وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ جب تک امریکہ نہیں چاہے گا، پاکستان کی مشرقی سرحد غیر محفوظ ہی رہے گی اور مستقبل قریب میں واشنگٹن کی پالیسی میں تبدیلی کے بھی کوئی آثار نہیں، لہٰذا اگر امریکہ نئے دوست ڈھونڈ رہا ہے تو ہمارے پاس بھی آپشنز موجود ہیں۔ ہمیں بہرصورت دوسرے آپشنز کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنانا ہو گا۔