بھارت امریکہ دفاعی معاہدے خطے کے امن کیلئے تباہ کن

بھارت امریکہ دفاعی معاہدے خطے کے امن کیلئے تباہ کن

بھارت اور امریکہ کے درمیان فوجی حساس معلومات کے تبادلے کے معاہدے پردستخط ہو گئے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع جیمز میٹس نے بھارتی ہم منصبوں سے ملاقات کی۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت اورامریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت بھارت جدید امریکی دفاعی موا صلاتی ٹیکنالوجی خرید سکے گا۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ نیوکلیئرسپلائرز گروپ میں بھارت کی شمولیت پر اتفاق کیاگیا۔

بھارت نے روایتی اور غیر روایتی اسلحہ کے انبار لگا کر خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ کر رکھا ہوا ہے۔ امریکہ کی طرف سے بے جا پشتیبانی سے بھارت چین کو بھی آنکھیں دکھاتا ہے۔ یہ بھارت ہی ہے جس نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر کے تعلقات کو خراب کیا اور خود امریکہ کے مزید قریب ہو گیا۔ یہاں تک کہ امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں بڑا کردار دینے کااعلان کیا اور پاکستان پر بھارتی کردار کو تسلیم کرنے کیلئے دبائو ڈالنا شروع کر دیا۔ پاکستان کے لئے بھارت کا افغانستان میں کردار قابل قبول نہیں جو افغان سرزمین پاکستان میں دہشگردی کے لئے استعمال کرتا آ رہا ہے۔ امریکہ کے بھارت کو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی سمیت جدید ترین اسلحہ کی فراہمی کے پہلے ہی معاہدے موجود ہیں، اب امریکہ نے اس پر مزید نوازش کر دی ہے۔ جس سے بھارت مزید بدمست ہوسکتا ہے۔ امریکہ پہلے بھی بھارت کو نیوکلیئر سپلائر گروپ کا ممبر بنانے کے لئے کوشاں رہا ہے مگر اس کے پاس مطلوبہ اکثریت ہے اور نہ ہی بھارت اس گروپ میں شامل ہونے کی اہلیت رکھتا ہے۔ چین آج بھی اپنے اس مئوقف پر قائم ہے کہ جب تک بھارت این ٹی پی پر دستخط نہیں کرتا اس کی رکنیت پر غور نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ اور بھارت کے مابین دفاعی معاہدوں سے خطے میں طاقت کا توازن مزید بگڑے گا جو علاقائی امن کے لئے تباہ کن ہو سکتا ہے۔ اس کے اثرات عالمی امن پر بھی یقیناً پڑیں گے۔ امریکہ بھارت کو اس کی اوقات میں رہنے دے تو بہتر ہے۔