دنیا ٹرمپ کو نوبل انعام کا مستحق ٹھہرا رہی ہے اور ہم اپنی عالمی تنہائی کا اہتمام کررہے ہیں

دنیا ٹرمپ کو نوبل انعام کا مستحق ٹھہرا رہی ہے اور ہم اپنی عالمی تنہائی کا اہتمام کررہے ہیں

امریکی اقدام کے ردعمل میں دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے امریکی سفارتکاروں پر پابندیاں عائد کرنے کا جذباتی جوابی اقدام

امریکہ کی جانب سے پاکستانی سفارتکاروں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کے بعد پاکستان نے بھی امریکہ کو ”کرارا“ جواب دے دیا ہے اور امریکی سفارتکاروں پر سفری پابندیاں عائد کردی ہیں۔ اس سلسلہ میں دفتر خارجہ کی جانب سے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے تحت امریکی سفارتکاروں کو نقل و حرکت سے قبل متعلقہ حکام سے اجازت لینا ہوگی۔ ذرائع کے مطابق امریکی سفارتکاروں کا جو سامان کارگو کی صورت میں پاکستان ایئرپورٹس پر آتا ہے اس پر دی گئی خصوصی سہولیات واپس لے لی گئی ہیں جبکہ اس معاملہ کو ویانا کنونشن کے قوانین کے مطابق ڈیل کیا جائیگا۔ دفتر خارجہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق امریکی سفارتخانہ کی گاڑیوں اور کرائے پر لی جانیوالی گاڑیوں پر کالے شیشے لگانے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر امریکی سفارتخانہ کی گاڑیوں کو غیرسفارتی نمبرپلیٹ لگانے کی سہولت بھی واپس لے لی گئی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں موبائل فون سم استعمال کرنیوالے امریکیوں کو بائیومیٹرک تصدیق کرانا ہوگی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی جانب سے گزشتہ روز پاکستانی سفارتکاروں کے شہر سے 25 میل دور جانے کی صورت میں امریکی حکام سے اجازت لینے کی شرط عائد کی گئی جس کے جواب میں پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے بھی امریکی سفارتکاروں پر اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کردی گئیں۔ اب امریکی سفارتکاروں کو کرایوں کی عمارتوں کے حصول اور تبدیلی کیلئے این او سی لینا پڑیگا۔ ذرائع کے مطابق دفتر خارجہ سے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کو امریکی سفارتخانے کے ساتھ شیئر کیا جاچکا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اس ماہ یکم مئی کو پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت پر پابندی کا فیصلہ کیا جس میں بعدازاں دس روز کی توسیع کی گئی اور یہ مدت ختم ہونے کے بعد گزشتہ روز پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت مشروط کردی گئی اور ان پابندیوں کا دائرہ¿ کار پاکستانی سفارتکاروں کے اہلخانہ تک بڑھا دیا گیا۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز محمد چودھری نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے سفارتی عملے پر پابندیوں کا 11 مئی سے اطلاق ہوگیا ہے۔ انکے بقول یہ پابندیاں دوطرفہ تعلقات کیلئے فائدہ مند نہیں ہوں گی۔ امریکی قانون سازوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو باور کرایا ہے کہ پاکستانی سفارتکاروں پر پابندیوں کے حوالے سے ان کا اقدام درست نہیں۔ اس سلسلہ میں امریکی کانگرس کے رکن ڈھلڈکارکوس نے پاکستانی امریکن کانگرس کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اہم چیز بات چیت ہے۔ اگر اس طرح کی پابندیاں لگائی جاتی ہیں تو اس سے ہم بات چیت کے عمل کو روک دینگے جو درست نہیں۔ اس حوالے سے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے پاکستان امریکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے معاملہ پر وزارت خارجہ سے پیر کو جواب مانگ لیاہے جبکہ پیپلزپارٹی نے معاملہ کی وضاحت کیلئے وزیر خارجہ کو ایوان میں طلب کرنے کا تقاضا کیا ہے جس کی سینیٹر شیری رحمان کے بقول یہ پاکستان کیلئے امتحان کی گھڑی ہے۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے اضافی امریکی سفارتکاروں کو پاکستان سے نکالنے کا مطالبہ کردیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان امریکیوں سے بھرا پڑا ہے‘ ان سب پر پابندی لگائیں۔ اپوزیشن ارکان کے بقول امریکہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کرارہا ہے اور ہم پر پابندیاں لگا رہا ہے مگر ہماری حکومت خاموش ہو کر بیٹھی ہے۔

یہ درست ہے کہ امریکی ری پبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گردی کی جنگ میں امریکی فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان امریکہ روایتی تعلقات میں دراڑ پیدا ہوئی ہے اور باہمی سفارتی تعلقات میں کشیدگی اور سردمہری کا عنصر غالب آیا ہے۔ اس تناظر میں اگر امریکی سفارتکاروں پر پابندیوں کے حوالے سے دفتر خارجہ کے فیصلہ پر جذباتی انداز میں کسی ردعمل کا اظہار کیا جائے تو یہ ”ایسے کو تیسا“ کے مصداق ہماری جانب سے امریکہ کو کراراجواب ہی نظر آتا ہے مگر اس معاملہ کا ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجوں کے تناظر میں سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو ہمیں دفتر خارجہ کے فیصلہ پر خوش ہونے کے بجائے یہ سوچنا ہوگا کہ ہم ایسے کو تیسا والی اپنی پالیسیوں کے تناظر میں امریکہ کی سخت ناراضگی مول لینے کے متحمل بھی ہو سکتے ہیں یا نہیں اور کیا ہمیں حالات کو اس نہج تک لے جانا چاہیے جس میں واپسی کے راستے ہی مسدود ہو جائیں۔

پاکستان امریکہ تعلقات کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے یقیناً ہمیں دوطرفہ خوشگوار تعلقات کے معاملہ میں مایوسی کا ہی سامنا کرنا پڑیگا تاہم دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی اور سردمہری کی ایسی کیفیت پہلے کبھی پیدا نہیں ہوئی جیسے ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں پاکستان امریکہ تعلقات کشیدگی کا شکار ہوئے ہیں۔ اس میں یقیناً ٹرمپ کی پاکستان کے بارے میں طے کی گئی پالیسیوں کا بھی عمل دخل ہے جبکہ انکے داماد کشنر نے بھی جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا ہے مگر ہمیں اپنے حالات اور چیلنجوں کے پیش نظر جذبات کے بجائے تدبر اور معاملہ فہمی سے کام لینے کی ضرورت ہے جس کے تناظر میں ہم لڑائی مول لینے اور اسے ”ایسے تو تیسا“ والا جواب دینے کی ہرگز پوزیشن میں نہیں۔ ہمیں یہ حقیقت بہرصورت پیش نظر رکھنی ہے کہ ہمارا دیرینہ دشمن بھارت موجودہ ہندو انتہاءپسند مودی سرکار کے ماتحت ہماری سلامتی کیخلاف کھلی سازشوں میں مصروف ہے اور ان سازشوں میں پاکستان امریکہ تعلقات میں غلط فہمیاں پیدا کرنا بھی شامل ہے جس کیلئے اس نے پاکستان کیخلاف دہشت گردوں کی سرپرستی کے الزامات تراشے اور ٹرمپ انتظامیہ سے اپنے سازگار تعلقات کا فائدہ اٹھا کر اسے افغان جنگ کے حوالے سے پاکستان کے کردار کے بارے میں یہ تاثر دے کر گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان افغانستان میں برسرپیکار حقانی نیٹ ورک اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کیخلاف کارروائی کے بجائے انکی سرپرستی کررہا ہے۔ بدقسمتی سے ہم ان بھارتی سازشوں کا مو¿ثر توڑ بھی نہیں کر سکے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان میں دہشت گردوں کی سرکوبی اور امن کی بحالی کیلئے ہمارے بجائے بھارت پر تکیہ کیا جسے واشنگٹن انتظامیہ کی نئی افغان پالیسی میں افغانستان ہی نہیں‘ پاکستان کی جاسوسی کا بھی کردار سونپ دیا گیا۔

افغان جنگ میں امریکی فرنٹ لائن اتحادی ہونے کا پاکستان کو صرف یہ فائدہ تھا کہ اس کا امریکہ کے ساتھ ان جدید جنگی جہازوں اور ہتھیاروں کی فراہمی کا معاہدہ ہوگیا جس کی پاکستان کو بھارت کے مقابلہ میں اپنی سلامتی کے تحفظ کیلئے سخت ضرورت ہے۔ بے شک چین کے ساتھ ہماری دوستی شہد سے میٹھی‘ سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے مگر ہمیں بھارت کے مقابلہ کیلئے جن جنگی جہازوں اور ہتھیاروں کی ضرورت ہے‘ وہ چین کے بجائے ہمیں امریکہ سے ہی حاصل ہو سکتے ہیں۔ ہماری اس مجبوری کا بھارت ہی نہیں خود امریکہ کو بھی ادراک ہے۔ بھارت نے اسی تناظر میں امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنے کی سازشیں کیں تاکہ ہم امریکہ سے یہ ہتھیار حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہی نہ رہیں جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے ہماری اس مجبوری کے تناظر میں ہم سے ڈومور کے تقاضے بڑھا دیئے اور پھر دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے کے بھارتی الزامات کو بنیاد بنا کر ہم پر سخت پابندیاں عائد کرنے کے اعلانات شروع کر دیئے۔ اس سلسلہ میں جب صدر ٹرمپ کے علاوہ امریکی نائب صدر‘ وزیر خارجہ‘ وزیر دفاع اور امریکی افواج کے سربراہ نے بھی پاکستان کے بارے میں یکساں لب و لہجہ اختیار کرلیا اور پھر امریکی کانگرس نے پاکستان کی فوجی امداد میں کٹوتی کی قرارداد منظور کرلی تو ہماری جانب سے بھی قومی خودداری کو اجاگر کرنے کیلئے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں ویسی ہی پالیسی اختیار کرلی گئی۔ اس کی بنیاد پر پاکستان امریکہ تعلقات میں سردمہری کی فضا پیدا ہوئی تو اس سے یقیناً ہمارے دشمن بھارت کی خوشیوں کا ہی اہتمام ہوا۔ اس طرح ہم جذبات کی رو میں بہہ کر اپنے مکار دشمن کی سازشوں کے بچھائے جال میں خود ہی پھنس گئے جبکہ ہمارے اس طرز عمل نے امریکہ کو ہمارے سفارتکاروں پر پابندی عائد کرنے کا راستہ دکھایا تو ہم خود بھی اس راستے پر چل پڑے اور یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی کہ ہمیں اس پالیسی کا کیا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ جس ٹرمپ کے جذباتی پن اور انکی انتہاءپسندانہ پالیسیوں کے باعث امریکہ کے اندر بھی سخت ردعمل سامنے آرہا تھا اور امریکی عوام انکی ایسی پالیسیوں کو امریکی مفادات کے منافی قرار دے کر مسترد کررہے تھے‘ اسی ٹرمپ نے ٹرمپ کارڈ کھیل کر اپنے حق میں بازی پلٹ دی ہے۔ ہمارے ساتھ تعلقات کی کشیدگی تو ایک طرف‘ ٹرمپ انتظامیہ کی شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی تو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جا پہنچی تھی اور شمالی کوریا کے صدر کم جونگ یان کے ایٹمی صلاحیتیں بڑھانے کے اعلانات سے زچ ہو کر ٹرمپ شمالی کوریا پر حملہ آور ہونے کا اعلان بھی کرچکے تھے جس پر امریکہ کے اندر بھی سخت اضطراب کی کیفیت پیدا ہوئی مگر پھر ٹرمپ نے بازی ایسی پلٹی کہ شمالی کوریا کے وہی صدر انکے ساتھ باضابطہ مذاکرات پر آمادہ ہوگئے جو آئندہ ماہ 12 جون کو سنگاپور میں طے بھی ہوچکے ہیں اور سی این این کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے مخالف 62 فیصد امریکی عوام اب شمالی کوریا کے صدر سے ملاقات کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسیوں کے ہم آہنگ ہوگئے ہیں۔

ہمارے خطے میں اس وقت یہ صورتحال ہے کہ بھارت امریکی سرپرستی میں دندناتا نظر آرہا ہے جبکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے امریکہ کو باہر نکال کر ٹرمپ نے اس پر اقتصادی پابندیوں کی تلوار لٹکا دی ہے جس کے باعث اسے بدترین اقتصادی بدحالی کا سامنا کرنا پڑیگا اور اس خطے میں اسکے افغانستان جیسے حالات کا شکار ہونا بعیدازقیاس نہیں رہے گا۔ اس تناظر میں ایک بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران اب چاہ بہار پورٹ کا منصوبہ ختم کرنے پر بھی مجبور ہو جائیگا۔ اگر ہماری امریکہ مخالف پالیسیوں کے باعث ٹرمپ انتظامیہ ہمیں بھی ایران جیسے حالات کا شکار کرنے کی ٹھان لیتی ہے تو اپنی سلامتی کو لاحق خطرات میں گھرے ہمارے وطن عزیز کی معیشت کو سنبھالنے کیلئے آگے آنے میں شاید چین بھی پس و پیش سے کام لے گا۔ کیا ہم چاہتے ہیں کہ اپنی ٹکراﺅ والی پالیسیوں کے باعث اس خطہ میں ہم بھی افغانستان اور ایران کی صف میں شامل ہو جائیں جو ہماری پی آئی اے کے مصداق پاکستان‘ ایران‘ افغانستان (پی آئی اے) کی شکل میںاپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا اہتمام کرنے کے مترادف ہے۔ اسکے برعکس جس ٹرمپ کی انتہاءپسندانہ پالیسیوں کے تناظر میں ہم امریکہ کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی کا راستہ اختیار کررہے ہیں‘ وہی ٹرمپ اب اقوام عالم میں امن کے سفیر کے طور پر روشناس ہورہے ہیں اور جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان نے عالمی امن کیلئے اہم کردار ادا کرنے کے حوالے سے انہیں نوبل امن انعام کا مستحق قرار دیا ہے۔ اس تناظر میں ہمیں سوچنا چاہیے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں جذباتی پن کا شکار ہو کر کہیں ہم اپنے لئے عالمی تنہائی کا اہتمام خود ہی تو نہیں کررہے۔