بجٹ میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کیلئے مناسب فنڈز مختص نہیں کئے جاتے: قیس اسلم

لاہور (کامرس رپورٹر) بجٹ الفاظ اور اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہے جس میں عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ نہیں دی جاتی صرف امیروں اور بیورو کریسی کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ حکومت براہ راست ٹیکس ریٹ میں کمی کے ساتھ ساتھ بلواسطہ ٹیکسوں کی شرح میں بھی کمی کرے۔ حکومت موجودہ ٹیکس گزاروں پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس نیٹ وسیع کرے۔ ملک میں بجٹ پراسس کا آغاز 4 ماہ قبل ہونا چاہئے ٹیکسز کا نظام آسان اور سادہ بنایا جائے۔ ٹیکسوں کی شرح کم کی جائے تاکہ پیداواری قیمت میں کمی واقع ہو۔ اس امر کا اظہار گذشتہ روز حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ پاکستان کے زیر اہتمام بجٹ 2018-19ء توقعات اور امکانات کے موضوع پر سیمینار میں کیا گیا۔ جس کی نظامت کے فرائض حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ پاکستان کے ڈائریکٹر ابصار عبدالعلی نے ادا کئے۔ اس موقع پر معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیس اسلم، ڈاکٹر میاں محمد اکرم، گلوبل ٹیکس فورم کے ممبر عمر ظہیر میر اور ایم اے او کالج کے سابق ڈین آف کامرس خالد محمود ہاشمی نے خطاب کیا۔ ڈاکٹر قیس اسلم نے کہا کہ بجٹ صرف امیروں اور بیورو کریسی کے لئے ہے جبکہ عوام کی فلاح پر توجہ نہیں دی جاتی۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لئے مناسب فنڈز مختص نہیں کئے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اخراجات کو ……… بنایا جائے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے اور ٹیکس خرچ کرنے کی استعداد کار بڑھائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے ساتھ سزائیں بھی مقرر کی جانی چاہئیں۔ ایف بی آر ایک نالائق ادارہ ہے یہ لوگوں پر ظلم کرتا ہے جب تک یہ ہے ریونیو نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا اسے ختم کر کے ٹیکس وصولی پرائیویٹائز کی جائے۔ ڈاکٹر میاں محمد اکرم نے کہا کہ بجٹ پراسس 3 سے 4 ماہ قبل شروع کیا جائے دنیا کے دیگر ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں 14 دنوں میں بجٹ منظور کر لیا جاتا ہے۔ ممبر گلوبل ٹیکس فورم عمر ظہیر میر نے کہا کہ بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندا ہے۔ عام لوگ اسے سمجھ نہیں سکتے۔ پاکستان میں 73 قسم کے ٹیکسز عائد ہیں جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں اس طرح ٹیکس ریٹ بھی خطے کے ممالک کے مقابلے میں زائد ہیں۔ سیمینار میں خالد محمود ہاشمی نے شرکا کو بجٹ اصطلاحات کے بارے میں آگاہی دی اس موقع پر حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ پاکستان کے ڈائریکٹر ابصار عبدالعلی نے کہا کہ سیمینار کا مقصد لوگوں میں بجٹ اور ٹیکس خواندگی میں اضافہ کرنا ہے ٹیکس کی بعض اصطلاحات ایسی ہوتی ہیں جسے عام آدمی نہیں سمجھ سکتا جبکہ عام آدمی کی زندگی پر ٹیکس کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔