مریض کوہوش میںرکھ کردماغ سے رسولی نکالنے کا آپریشن کامیاب

زاہد انجم

نیورو سرجری کے حوالے سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز اور لاہور جنرل ہسپتال ایک مستند نام ہے۔ اس علاج گاہ میں پروفیسر آف نیورو سرجری ڈاکٹر خالد محمود اپنی مستعدٹیم کے ساتھ مریض کو ہوش میں رکھ کر دماغ کی رسولی کے آپریشنزکی ہیٹرک مکمل کر چکے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے اس نوعیت کے دو آپریشن کئے تھے، یہ ان کا تیسرا آپریشن ہے۔ دماغ کی رسولی کا آپریشن ماضی میں ایک ڈرائونا خواب تھا۔ دماغ کی سرجری سے لوگ خوف زدہ تھے وہ موت قبول کر لیتے تھے لیکن دماغ کے آپریشن کا سوچتے بھی نہیں تھے۔ دماغ جسم کا جتنا پیچیدہ حصہ ہے اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اس کا آپریشن پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود کر چکے ہیں۔ حیرت انگیز طرز جراحت کے باعث درجنوں مریض ہولناک دماغی امراض سے مریضوں کو نجات دلا چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں جنرل ہسپتال کے نیورو سرجری یونٹ نمبر 2 کے پروفیسر خالد محمود نے اپنی مہارت کا ایک اور معرکہ سرانجام دیا ہے۔ AWAKE CARANIATIONY کے طریقہ علاج سے 28 سالہ محمد حسن کا آپریشن کیا۔ یہ آپریشن ساتویں نیورو سرجیکل سارک کانفرنس کے ڈاکٹر مندوبین کو ایک ورکشاپ کے ذریعے لائیو دکھایا گیا یہ طریقہ آپریشن عجیب حیرت آگیںہے جس میں آپریشن کے دوران مریض سے بات چیت کی جاتی ہے اور اگر مریض کی گفتگو میں عدم توازن ہو، یا مریض کے ہاتھ پائوں غیر فعال ہوتے ہوئے محسوس ہوں تو اسے مرض سے نقصانات سے بروقت بچایا جا سکتا ہے۔ ہوش میں رہ کر آپریشن کرانے والا مریض محمد حسن نے شاہدرہ میں کپڑے سینے کا کام کرتا ہے جس کے 8 بہن بھائی ہیں۔ دو سال پہلے مریض کو دورے پڑنے شروع ہوئے، منہ سے جھاگ آنے لگا۔ شدید درد کے باعث وہ کام رہا نہ کاج کا۔ مریض کا بھائی محمد حسین اسے 22 مارچ کو جنرل ہسپتال لایا۔ نیورو سرجری کے یونٹ نمبر 2 میں داخل کرایا۔ جہاں ڈاکٹر خالد محمود نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس کا دماغ کی رسولی کا کامیاب آپریشن کیا۔ ڈاکٹر خالد محمود کی ٹیم میں ڈاکٹر انیلہ دربار، ڈاکٹر طارق امتیاز، ڈاکٹر اکمل اور ڈاکٹر نبیل چودھری شامل ہیں۔
مریض کو ہوش میں رکھ کر دماغ کی رسولی نکالنے کے اس آپریشن کے حوالے سے ڈاکٹر خالد محمود نے بتایاکہ نوجوان ڈاکٹرز کو اس تحقیق سے مستفید ہونا چاہئے۔ نیورو سرجری یونٹ نمبر 2 جنرل ہسپتال میں ہونے والی اس پیش رفت سے ملک کے دوسرے ہسپتالوں کو بھی فائدہ اٹھانا چاہئے۔
یہ امر قابل ذکر ہے۔ ڈاکٹر خالد محمود پاکستان میں ڈی بی ایس طریقہ علاج کے بانی ہیں اور گردن کے مہروں کا جدید طریقہ علاج سے آپریشن کرنے کی مہارت نامہ رکھتے ہیں۔ ان کو قدرت نے ایسا دست شفا عطا کیا ہے۔ جس کے باعث سینکڑوں مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
واضح رہے ، ڈاکٹر خالد محمود اور ان کی ٹیم اس قبل اڑھائی سو مریضوں کی ناک کے ذریعے دماغ کی رسولیاں نکالنے کے پیچیدہ آپریشن کر چکے ہیں۔ یہ آپریشن انڈو سکوپی کے ذریعے کئے گئے جو نہایت کامیاب رہے۔ ڈاکٹر خالد محمود نے مزید بتایا دماغ میں پیدا ہونے والی رسولی جسمانی اعضا کو متاثر کرتی ہے اور ان کا جدید طرز علاج مریضوں کو ریلیف پہنچانے میں نہایت کامیاب اور معاون ثابت ہو رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے جنرل ہسپتال میں ہوش میں رکھ کر مریض کے دماغ سے رسولی نکالنے کے اپنی نوعیت کے پہلے آپریشن پر پروفیسر آف سرجری ڈاکٹر خالد محمود اور ان کی ٹیم کو مبارک باد دی ہے، وزیراعلیٰ نے اپنے پیغام میں کہا ہے پنجاب میں مریضوں کو ہوش میں رکھ کر دماغی کی رسولی کا کامیاب آپریشن شعبہ صحت میں ایک سنگ میل ہیں۔ نوجوان ڈاکٹروں کو اس طریقہ علاج سے مستفید ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب نے صوبے کے دوسرے ہسپتالوں کو بھی اس پیش رفت سے فائدہ اٹھانے کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے کہا پنجاب حکومت نے صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے ٹھوس اقدام کئے ہیں۔ ان اصلاحات سے مریضوں کو بے حد فائدہ ہو رہا ہے۔ ہوش میں رہ کر دماغ کی رسولی کا آپریشن کرانے والے 26 سالہ محمد حسن نے اپنی صحت یابی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد محمود اور ان ٹیم کی مہارت کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بیماری کے باعث وہ اپنا کام کاج چھوڑ چکا تھا اب شفایابی کے بعد پھر سے محنت اور لگن سے کام کرکے فعال زندگی گزار سکے گا۔
دریں اثناء ڈی جی نرسنگ پنجاب کوثر پروین نے ہوش میں رکھ کر دماغی مریض کے دماغ سے رسولی نکالنے کے جدید اور حیرت انگیز آپریشن کے بعد نرسنگ کیئر کرنے والی نرسنگ سٹاف شازیہ یونس، فائزہ حمید ، رفعت ناز، نادیہ حبیب، رما رمضان اور مصباح حسن کو تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔