مکروہ سیاست ....

مکروہ سیاست ....

یاد رہے کہ ایک خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھاکہ ملک مخالف پروپیگنڈا میں ملک دشمن غیر ملکی ایجنسیاں ملوث ہیں، پاک فوج ہر قسم کے اندرونی و بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور کوئی بھی پاکستان کو بری نظر سے دیکھنے کی جرا¿ت نہیں کر سکتا، بلوچستان کے بغیر پاکستان نامکمل ہے، بلوچستان میں ترقی، استحکام اور امن کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا، نوجوان نسل پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، نوجوان اپنے مثبت کردار سے قومی یکجہتی و ترقی میں کردار ادا کریں، نوجوان نسل ملک مخالف پراپیگنڈا سے کبھی بھی متاثر نہ ہوں، پاک فوج نے پوری قوم کی حمایت سے ملک کو دہشت گردی اور تشدد سے پاک کرنے کیلئے بہت اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ لیکن دکھ اس وقت ہوتا ہے جس وقت اندرون ملک لوگ غیر ملکی سازش کا حصہ بنتے ہیں اور اپنے ہی عوام کو اپنے ہی محترم اداروں کے خلاف اکسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سیاسی مفادات میں نواز زرداری بھائی بھائی بنیں تو خیر ہے لیکن عمران زرداری بھائی بھائی کا شبہ بھی گزرے تو طعنہ ٹھہرا؟ لاڈلی کا سوشل میڈیا فوج مخالف نفرت آمیز پروپیگنڈہ کرے تو جمہوریت اور لاڈلا جمہوریت کا حوالہ بھی دے تو ایمپائر کی انگلی؟ حالانکہ سب بالواسطہ یا بلاواسطہ اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں۔ ملک سے جانا ہوتو ڈیل، آنا ہے تو ڈیل، حکومت بنانا ہے تو ڈیل، حکومت گرانا ہے تو ڈیل اور جب ڈیل کا دروازہ بند ملے تو اداروں کو دن رات ذلیل؟ اگلے بیس سال بھی یہی جماعتیں یہی چہرے یہی نسلیں ملک کا مقدر ہیں۔ سیاسی اعتبار سے کوئی تبدیلی رونما ہونے کا امکان نہیں تو کیا ادارے بھی مفلوج ہو کر بیٹھ جائیں؟ فوجی آمریت قبول نہیں اور نہ ہی جمہوری آمریت برداشت ہو گی۔ ایجنسیاں اپنی ذمہ داری نبھاتی رہیں اور سیاسی جماعتیں اپنا قبلہ درست کریں۔ چور دروازوں سے آتے ہیں پھر مفادات کے لئے سب چور مل جاتے ہیں جب مفادات بدل جاتے ہیں تو چور بھی راستے بدل لیتے ہیں۔ پاک فوج مخالف سوشل میڈیا میں جو منفی پروپیگنڈہ جاری ہے اس سے دشمن ملکوں میں بہت پذیرائی مل رہی ہے۔ ایک باوردی کپتان نے کہا ملک میں آئینی و قانونی کوئی ایسی شق بھی منظور کی جائے جس کے تحت ہر پاکستانی نوجوان کے لئے دو سال فوجی تربیت و سروس کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ قوم میں فوجی مشقتوں قربانیوں اور سختیوں کا شعور بیدار ہو سکے۔ فوج میں عارضی تربیت سے نوجوان نسل کی مستقل تربیت ہو جائے گی۔ فوجی تربیت سے نئی نسل میں نہ صرف لا ابالی پن اور بے راہ روی میں کمی واقع ہو گی بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں نظم و ضبط کا شعور آ جائے گا۔ اقتدار کی لڑائی میں باہم دست و گریبان سیاسی محاذوں پر سرگرم قیادتیں اداروں کو ذاتی غلام دیکھنا چاہتی ہیں۔ ان کے نزدیک ووٹ کو نہیں نوٹ کو عزت دو۔ سیاست حدود میں رہ کر کی جائے تو جمہوریت ہے اگر مافیا بن جائے تو ملک کے لئے خطرناک ہے۔ جنرل جیلانی اور جنرل ضیا الحق کی وردی میں فوج بزرگوارا؟ باقی جمہوریت کے دشمن؟ جب تک تمام سیاسی و عسکری ملزمان کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بند نہیں کیا جاتا ادارے اپنا کھویا ہوا وقار بحال نہیں کرا سکتے۔ سانگلہ ہل جلسہ سے پشاور کراچی تا خیبر اسٹیبلشمنٹ کی آڑ میں پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں نے شہدا کی شان میں کبھی ایک جملہ ادا کرنے کی جسارت نہیں کی؟ سرحدوں پر فائز جوانوں اور شہدا کی ماﺅں کے لئے خراج تحسین کا ایک لفظ بولنے کی توفیق نہیں ہوئی؟