برطانوی پارلیمنٹ میں یوم یکجہتی کشمیر سیمینار…

برطانوی پارلیمنٹ میں یوم یکجہتی کشمیر سیمینار…

اِس مرتبہ بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم اور تلاش معاش کیلئے سرگرداں پاکستانیوں اور کشمیریوں نے یوم یکجہتی کشمیر پورے جوش و جذبے سے منایا۔ دیگر مغربی ممالک کی طرح برطانیہ کے مختلف شہروں میں بھی تحریک آزادی کے شہداء کے لئے خصوصی دعائیں اور مظلوم کشمیریوں پر بھارتی افواج کی وحشت اور بربریت کے خلاف جلسوں کا انعقاد کیا گیا۔ بھارت کے جبر و استبداد کے خلاف مرکزی سیمینار لندن میں ہاؤس آف کامنز کے ولِسن ہال میں ہوا اس میں سیمینار کا اہتمام پاکستان ہائی کمشن اور جموں کشمیر سیلف ڈیٹرمینیشن موومنٹ کے اشتراک سے ہوا تھا جس میں اراکین پارلیمنٹ، ارکانِ ہائوس آف لارڈز، میئرز، کونسلرز، سِول سوسائٹی، کشمیری کمیونٹی ا ور اِنسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تلاوت قرآن پاک کے بعد پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر زاہد حفیظ چودھری نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے اور بے گناہ کشمیری بچوں، نوجوانوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد پر جاری رکھے ہوئے بھارتی مظالم کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری اور یو ۔ این ۔ او کی فوری توجہ دلاتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ کشمیرکو چونکہ متنازعہ قرار دے چکا ہے۔ اس لئے عالمی برادری کو بھارتی مظالم کا فی الفور نوٹس لیتے ہوئے طویل خاموشی اب توڑنا ہو گی۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مظلوم کشمیریوں کی سیاسی اور سفارتی امداد اُس وقت تک جاری رکھے گا جب تک بھارت کشمیریوں پر ظلم و تشدد بند نہیں کر دیتا کہ یہ معاملہ انسانی حقوق کا ہے۔ جے ۔ کے ۔ ایس ۔ ڈی ۔ ایم کے صدر راجہ نجابت خان نے کہا کہ کشمیریوں پر گذشتہ 70 برس سے جاری ظلم و تشدد کا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے۔ انہوں نے بھارتی حکومت کو تجویز دی کہ کشمیر کاز کے لئے غیر جانبدارانہ مبصرین کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ برطانوی سرکاری وفد خود جا کر مقبوضہ کشمیر کے حالات کا جائزہ لے۔ بھارت اگر یہ تجویز ماننے سے انکار کر دے تو برطانوی حکومت بھارت پر معاشی پابندیاں لگانے کے بارے میں سوچے؟ 

یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلہ میں منعقدہ اِس سیمینار میں اراکین پارلیمنٹ افضل خان نے کہا کہ وہ چونکہ حال ہی میں رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے اس لئے آزادی کشمیر کے لئے وہ ہر فورم پر بھرپور آواز اُٹھائیں گے۔ رکن پارلیمنٹ محمد یٰسین نے کہا کہ تنازعہ کشمیر پاکستان، بھارت یا چین کا نہیں یہ بنیادی اِنسانی حقوق کا معاملہ ہے موجودہ کشمیر دو حصوں میں بٹا ہوا ہے جو کشمیریوں کے اتحاد و یکجہتی میں سب سے بڑی کاوٹ ہے۔ دھڑے بندیوں سے کامیابی متاثر ہوتی ہے۔ اِس لئے کشمیریوں کا یہ پہلا فرض ہے کہ وہ متحد ہو کر اپنے حقوق کی خاطر جنگ لڑیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر میں متحدہ کشمیر کا حامی ہوں۔ لارڈ قربان حسین نے کہا کہ عالمی برادری کو کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا ہو گا۔ 1931 سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں جارحیت کا ارتکاب کر رہا ہے۔ بیگناہ نہتے شہریوں کو بھارتی افواج گولیوں کا نشانہ بنا رہی ہے جبکہ کشمیریوں کے مصائب پر عالمی طاقتیں بدستور خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے متوقع دورہ برطانیہ کی بھی بھرپورمذمت کی۔رکن پارلیمنٹ جیک نے کہا کہ اُنکے حلقہ میں کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد قیام پذیر ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے جس پر برطانوی کمیٹی کو گہری تشویش ہے۔ میری ایسے تمام اراکین پارلیمنٹ سے درخواست ہو گی کہ نہتے کشمیریوں پر آئے روز کی گئی بھارتی فوج کی شیلنگ کا وہ فوری نوٹس لیں۔
رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے مظلوم کشمیری خواتین، بچوں، نوجوانوں اور عمررسیدہ افراد پر بھارتی افواج کی فائرنگ اور بھارت کے کشمیر پر کئے غاصبانہ قبضہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے برطانیہ کی تمام سیاسی پارٹیوں کو یکساں لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا۔ بیرسٹر عمران نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے ہمیں اپنے ا ندر SELF DETERMINATION پیدا کرنا ہو گا۔ یہ لیبر یا ٹوری پارٹی کا معاملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی ایشو ہے ہمیں مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا ہے اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے عالمی ضمیر کو بیدار کرنا ہے۔ بھارتی تسلط سے کشمیریوں کی آزادی اور اِنکی استقامت اور جرأت پر برمنگھم ، بریڈ فورڈ اور لوٹن سے آئے مختلف کشمیری تنظیموں کے نمائندوں نے بھی خیالات کا اظہار کیا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے متوقع برطانوی سرکاری دورہ کی مذمت کرتے ہوئے اُسکی آمد پر پُرامن مظاہرہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا…بعض کشمیری رہنمائوں نے اُردو پنجابی میں بھی تقریریں کیں…؟ مگر! مجھے ان تمام مقررین کی تقاریرمیں وہ جذبہ یکجہتی نظر نہ آیا جو قوموں کو یکجا کرنے میں سنِگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔!! میں نے محسوس کیا کہ برطانیہ میں بھی کشمیری تنظیمیں عدم اتحاد کا شکار ہیں۔ ’’برطانوی ہائوس آف کامن‘‘ جو جمہوریت کی ماں اور اِنسانی حقوق کی سب سے بڑی درسگاہ ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے کشمیریوں کی بڑی تعداد یہاں ہونی چاہئے تھی۔ ایک اعشاریہ دو ملین پاکستانیوں اور کشمیریوں کی زیادہ نہیں تو ان کی ONE FORTH تعداد کا ہونا ضروری تھا۔…مگرافسوس! گذشتہ 30 برس سے مختلف کشمیری دھڑوں میں منقسم وہی گنی چُنی خصوصیات اور وہی اندازِ بیان اور جذبہ دیکھنے کو ملا…
کیا ہی اچھا ہوتا برطانیہ میں کشمیریوں کا ایک ہی مرکزی پلیٹ فارم ہوتا جو برطانوی اراکین پارلیمنٹ کو اپنا گرویدہ بنا لیتا…!!قوموں کی آزادی قربانیوں اور اتحاد کی متقاضی ہوتی ہے۔…!! مقبوضہ کشمیر میں آزادی کا سورج بہت جلد طلوع ہونے والا ہے’’تنازعہ کشمیر‘‘ عالم اسلام کا اب ’’کورایشو‘‘ بن چکا ہے۔ اِس لئے ضرورت اِس امر کی ہے کہ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں بھارتی جارحیت کے خلاف آواز اُٹھانے والی کشمیری تنظیمیں دھڑوں کے بجائے اپنے آپ کو ایک لڑی میں پرو لیں…’’ڈولے بیروں‘‘ کا ابھی بھی کچھ نہیں گیا۔ حکم خداوندی ہے ’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو‘‘! معاملہ صرف سچے جذبوں، قوت ارادی اور کر گزرنے کے عمل کا ہے۔ ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دینے کا عہد کر لیں…دنیا کی کوئی صیہونی طاقت آپکو نیچا نہیں دکھا سکتی۔