ڈیووس میں پاکستان کا لہراتا سبز ہلالی پرچم

ڈیووس میں پاکستان کا لہراتا سبز ہلالی پرچم

پاکستان میں کسی قسم کا کوئی سیاسی یا آئینی بحران نہیں' تمام ریاستی ادارے آئینی حدود میں رہتے ہوئے فرائض انجام دے رہے ہیں جمہوریت توانا اور مضبوط ہورہی ہے جس کا سب بڑا ثبوت بلاول بھٹو زرداری کا اس تقریب میں موجود ہونا ہے انہوں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس کا جواب میری کولیگ شیری رحمن زیادہ بہتر انداز میں دے سکتی ہیں پاکستان بریک فاسٹ کا اہتمام معروف کالم نگار اور دفاعی تجزیہ نگار اکرام سہگل کے ادارےpathfinder group اور Martin Dow نے کیا تھا۔ وزیراعظم عباسی نے فی البدیع تقریر کی اور حاضرین کے سوالات کے جواب بھی دئیے اس تقریب میں سوئیزرلینڈ میں چین کے سفیر نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا کے 100 سے زائد ممالک " ون بیلٹ ون روڈ" منصوبے میں حصے دار بن چکے ہیں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اس کا دل و دماغ ہے۔ دنیا کی حالت سدھارنے کے خواب 1971سے ’ورلڈ اکنامک فورم‘ یعنی عالمی اقتصادی فورم دنیا کی حالت سدھارنے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔ تنظیم کا ایجنڈا کاروبار،سیاست، تعلیم کے ماہرین سمیت معاشرے کے تمام قائدین کو جمع کرکے ان کی مشاورت سے عالمی، علاقائی اور صنعت اہداف کی نقش گری کرنا ہے۔ نفع کمانے سے پاک، غیرسرکاری حکومتی ادارے (این جی او) کی طرز پر تنظیم امور انجام دیتی ہے۔ افرادمیں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والے ملک سویٹزرلینڈ کے شہر’کلونے‘ میں ہیڈکوارٹر رکھنے والی اس تنظیم کی شاخیں نیویارک، بیجنگ اور ٹوکیومیں بھی قائم ہیں۔ آخر جنوری میں ڈیووس فورم کا سالانہ اجتماع دنیا بھر میں مشہور ہے۔ڈیووس11ہزارسے کچھ زائد مستقل باشندوں کا برف پوش قصبہ ہے۔ کرہ ارض کے دلفریب نظاروں والے حصہ میں خوبصورت خواب، دلچسپ باتیں، حیرت انگیز اعدادوشمار بیان ہوتے ہیں۔ پوری دنیا کا مالیاتی، میڈیائی، حکومتی وریاستی اعصابی نظام گنتی کے دنوں میں یہاں خیمہ زن ہوتا ہے۔عالمی اقتصادی فورم کے رواں اجلاس میں 70 سے زائد ملکوں کے سربراہان، 38 سے زائد عالمی تنظیموں کے سربراہ جبکہ سیاست، کاروبار اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے 3 ہزار سے زائد افراد شرکت کر رہے ہیں۔

جرمن نژاد کاروباری اور یونیورسٹی آف جینیوا میں استاد پروفیسر کلاس شواب نے اس کا نام ’یورپئین مینجمنٹ فورم‘ رکھاتھا۔1987میں ورلڈاکنامک فورم کانیا نام دیاگیا۔ اس کی سوچ اور اہداف کا دائرہ بڑھا کر عالمی فورم کی شکل دی گئی۔ 1971ء میں شواب مغربی یورپ کی 444 کمپنیوں کے ایگزیکٹوز کو مدعوکرکے یورپئین مینجمنٹ اول سمپوزئیم منعقد کرنے میں کامیاب ہوا۔ یورپی کمپنیاں اس فورم کے ذریعے امریکی مینجمنٹ کے طور طریقوں سے واقف ہوئیں۔ اس کامیابی کے نتیجے میں شواب نے فورم کو’ورلڈ اکنامک فورم‘ کے نام سے موسوم کیا۔تنظیم کو اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل میں مبصر کا درجہ بھی حاصل ہے۔ شواب نے ’سٹیک ہولڈر مینجمنٹ آپروچ‘ کو ’شئیرہولڈرز‘ کی سوچ سے بدل دیا۔ دوسرے الفاظ میں صارفین اور خریداروں کے مفاد کو فروخت اور نفع کی امید رکھنے والوں کے سامنے رکھا۔ اس میں ملازمین اور معاشرتی طبقات کی سوچ کو بھی سمویا۔ کہاجاتا ہے کہ اس فورم کو معاشرے کے طبقات کی باہمی سوچ سے آگہی کے لئے استوار کیاگیا۔ زیادہ بہتر ہم آہنگی، نظریات اور سوچوں کو پڑھنے، سمجھنے کی کوشش اور زیادہ بہتر ماحول قائم کرنے کی جستجو۔ دنیا کے حالات وواقعات اس فورم کی سوچ اور اقدامات پر اثرانداز ہوتے گئے اور اس کا دائرہ اور کردار بھی تبدیل ہوتاگیا۔ 1973 میں ’بریٹن ووڈز‘ متعین شرح تبادلہ کے طریقہ کار، عرب اسرائیل جنگ سمیت دیگر عوامل کے پیش نظر فورم کا دائرہ بڑھا اور اس میں اقتصادی اور سماجی موضوعات پر توجہ مرکوز کرنا ترجیح پایا۔ سیاسی رہنماؤں کو اس میں مدعو کیا جانے لگا۔ فورم نے متحارب گروہوں اور افراد میں بات چیت کی گنجائش پیدا کرنے میں بھی کردار اداکیا ہے۔ 1988میں ڈیووس ڈکلیریشن یا اعلامیے پر ترکی اور یونان نے دستخط کئے جس سے دونوں ملک جنگ کے دھانے سے واپس ہوئے۔ 1992ء میں جنوبی افریقہ کے صدر ایف ڈبلیو ڈی کلارک، نیلس مینڈیلا اور زولو قبیلے کے قائد مینگوسوتھو بوتھولیزی کے درمیان ملاقات ڈیووس سالانہ اجلاس میں ہوئی تھی جو جنوبی افریقہ سے باہر ان کی اولین ملاقات قرار پائی۔ اسی طرح 1994ئ￿ میں سالانہ اجلاس کے موقع پر اسرائیلی وزیرخارجہ شمعون پیریز اور فلسطینی راہنما یاسر عرفات کے درمیان غزہ اور اریحا کے مسئلے پر معاہدے کے مسودہ پر اتفاق ہوا تھا۔ 2015ء میں شمالی کوریا کے وفد کو 2016 میں فورم کے اجلاس کے لئے مدعوکیاگیا تھا۔ شمالی کوریا1998 سے تنظیم کے اجلاس میں شرکت نہیں کررہا۔ جنوری 2016 میں شمالی کوریا کے جوہری دھماکوں پر یہ دعوت منسوخ کردی گئی۔ شمالی کوریا نے اس فیصلہ کو اچانک اور غیرذمہ دارانہ قرار دیا لیکن ورلڈ اکنامک فورم کی کمیٹی نے کہاکہ شمالی کوریا کو ان حالات میں عالمی مذاکرہ کا کوئی موقع نہیں دیاجائے گااور فورم سے اس کی بے دخلی برقرار رہے گی۔ 2017 ء میں پہلی بار اس فورم میں چین کے سربراہ ڑی جن پنگ کو مدعوکیاگیا جنہوں نے مختلف موضوعات پر چین کے موقف کو مدلل انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اس فورم کو دنیا میں نہایت ممتاز درجہ رکھنے والے ادارہ کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ پوری دنیا سے ریاستی وحکومتی سربراہان، اہم شخصیات، ممتاز ماہرین معاشیات، بینکوں اور مالیاتی اداروں کے طاقتور سربراہان کے علاوہ عالمی کمپنیوں کے مالکان کا اس میں شریک ہونا ایک لازمی سالانہ معمول بن چکا ہے۔ اس بیٹھک کو دراصل ملاقات اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی کوشش، بات چیت سے نئے امکانات کی تلاش قرار دیاجائے تو غلط نہیں ہوگا۔ دنیا بھر کے رنگ رنگ کے شہہ دماغوں کی اس محفل میں پاکستان کی نمائندگی بھی موجود ہے۔ شاہد خاقان عباسی پاکستان کے وزیراعظم کے طورپر موجود ومتحرک ہیں۔ تمام وفود میں پاکستان کا واحد وفد ہے جس میں سب سے زیادہ خواتین حکومتی نمائندگی کررہی ہیں۔ (جاری)