پابندیوں کا جائزہ لینے سلامتی کونسل ٹیم جمعہ کو آئے گی، حافظ سعید، اداروں تک رسائی نہیں دینگے، پاکستان

اسلام آباد(شفاعت علی+نیشن رپورٹ) سفارتی ذرائع نے کہا ہے پاکستان رواں ہفتے آنے والی اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی پابندی کمیٹی کو جماعۃ الدعوۃ کے امیر حافظ سعید اور ان کے اداروں تک براہ راست رسائی نہیں دیگا۔ وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے دی نیشن کو بتایا کہ سلامتی کونسل کی ٹیم کا دورہ پاکستان پر دبائو بڑھانے کیلئے نہیں رکھا گیا۔ 2 روزہ دورہ 26 جنوری سے شروع ہوگا۔ ایک عہدیدار نے بتایا سلامتی کونسل ٹیم حکومتی اطلاعات پر بات چیت کرنے اور اقوام متحدہ کی پابندیوں سے متعلق امور کا جائزہ لے گی اور وہ حافظ سعید تک رسائی کا مطالبہ نہیں کرے گی، تاہم اگر ایسا ہوا تو اسے اجازت نہیں دی جائیگی۔ انہوں نے کہا یہ دورہ شیڈول کے مطابق ہے۔ ایک دوسرے عہدیدار نے بتایا کہ سلامتی کونسل ٹیم پاکستانی حکام سے ان تنظیموں پر بات چیت کرے گی جن پر پابندیاں ہیں۔ انہوں نے کہا ہم اقوام متحدہ کی پابندیوں پر عمل کررہے ہیں اس لئے گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں اور ہم ان کے سوالوں کے جواب دینے پر تیار ہیں۔

اسلام آباد (آن لائن) بھارت اور امریکہ کے مسلسل دباؤ کے بعد پاکستان میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید پر عائد پابندیوں کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ٹیم دو روزہ دورے پر اسلام آباد آئے گی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل کی پابندی کمیٹی 1267 کی مانیٹرنگ ٹیم برائے حافظ سعید 26 جنوری کو اسلام آباد پہنچے گی۔ دوسری جانب متعلقہ حکام نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ ٹیم جماعۃ الدعوۃ پر عائد پابندیوں کا جائز لینے آرہی ہے، ان کا کہنا تھا مذکورہ دورہ روز مرہ کے امور پر مشتمل ہے۔ پابندی کمیٹی کے دورے کے اعراض ومقاصد تاحال سامنے نہیں آئے تاہم کمیٹی 1267 کے جنرل مینڈیٹ میں شامل ہے کہ وہ مطلوبہ افراد یا اداروں کے منجمد مالی اثاثوں پر نظر رکھنے کے علاوہ ان کو دستیاب وسائل کی جانچ پڑتال کرتی ہے۔ ٹیم جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ کے ذریعے مختلف امور کے بارے میں کمیٹی کو آگاہ کرے گی اور اس دوران رکن ریاستوں کو مشورے بھی فراہم کرے گی تاکہ وہ خطے میں اس پر عملدرآمد کو یقینی بنا سکیں۔ پاکستانی حکام نے مذکورہ دورے کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ٹیم کو حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں مکمل آگاہی دی جائے گی۔