کوئی مذہب بھی عورتوں پر تشدد و امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتا: مقررین

لاہور(لیڈی رپورٹر) پاکستان سمیت دنیا بھرمیں آج 25نومبرکو خواتین پرتشدد کے خاتمے کاعالمی دن منایاجائے گااس کے ساتھ ہی تشدد کیخلاف سولہ روزہ عالمی مہم کابھی آغازہوجائے گا۔ سولہ روزہ مہم کا مقصد عوام الناس کو خواتین پر گھریلو تشدد ، جسمانی تشدد ، ذہنی تشدد،جنسی تشدد ، مردانہ تعصبات اور مسائل سے آگاہ اور تشدد کیخلاف شعوربیدارکرناہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت میں سارادن تقریبات ہوتی رہیں۔ عورت فائونڈیشن کی ریذیڈنٹ ڈائیریکٹرممتاز مغل نے پاکستا ن جینڈ رکولیشن کے اشتراک سے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پا کستان میں صنفی تر قی کے حو الے سے بہت سا ر ی کو ششو ں کے با و جو د عو ر تو ں اور لڑ کیو ں پر تشد د انتہا ئی تشویشنا ک ہے گلو بل جینڈ ر ر پو ر ٹ2017 کے مطا بق پا کستا ن صنفی مسا و ات کے حوالے سے د نیا کے 144مما لک میں سے 143نمبر پر ہے۔ کو نسل جنر ل یو ایس ایڈ الز بتھ کینڈی نے کہا کہ ہم سب کو تشدد کا خطر ہ لا حق ہے۔ چیئرپرسن سٹینڈنگ کمیٹی فا ر جینڈ ر مین سٹر یمنگ را حیلہ خا د م حسین، وزیرخان، سحر ش ایڈ و کیٹ نے کہا کہ آ ج بھی نو جو ان لڑ کیا ںنا قص تعلیمی و حفاظتی انتظامات کی بدولت عدم تحفظ کا شکار ہیں اور حصول تعلیم سے محروم ہیں۔ محکمہ ترقی خواتین پنجاب کے زیر اہتمام''Her Talk'' مہم کے تحت پنجاب اسمبلی کی عمارت کو زرد رنگ کی روشنیوں سے منور کر دیا گیا۔ حمیدہ وحید الدین نے کہا کہ حکومت پنجاب خواتین پر تشدد اور منفی معاشرتی رویوں کے خاتمے کے لیے پر عزم ہے۔ جمشید قاضی ،ایم این اے شائستہ پرویز ملک ، بشری امان نے بھی خطاب کیا۔ پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین کی چیئرپرسن فوزیہ وقاراور کمشنرلاہور عبداللہ سنبل نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کوئی مذہب بھی عورتوں پر ظلم ، تشدد و امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتا بلکہ امن آشتی اور برداشت کی تبلیغ کرتاہے۔