امریکہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی مجبوری میں ملک کی خودمختاری پر کوئی حرف نہ آنے دیں

امریکہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی مجبوری میں ملک کی خودمختاری پر کوئی حرف نہ آنے دیں

ٹرمپ کا پاکستان کے ساتھ اصل تعلقات کے آغاز کا عندیہ اور ڈومور کے امریکی پیغام پر عمل شروع ہونے کی تصدیق

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ اصل تعلقات کا آغاز کررہے ہیں‘ پاکستان اور دوسرے ممالک نے دوبارہ امریکہ کی اہمیت تسلیم کرلی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرم ایجنسی سے پاک فوج کے اپریشن کے دوران کینیڈین جوڑے کی بازیابی کے بعد گزشتہ روز واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا اور کہا کہ وہ کینیڈین جوڑے کی بازیابی پر پاکستانی حکام کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں۔ انکے بقول مغوی خاندان کی بازیابی دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک مثبت لمحہ تھا جس سے اس امر کی بھی تصدیق ہوئی کہ پاکستان نے خطے میں امن کیلئے ہمارے ”ڈومور“ کے پیغام پر عمل شروع کردیا ہے۔ داعش کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ اس کو شکست دینے کی بہترین حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات پاکستان کیلئے بڑے فائدہ مند رہے ہیں۔ دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نفیس زکریا نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران گزشتہ روز اس امر کا اظہار کیا کہ پاکستان اور امریکہ نے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے‘ پاکستان امریکہ کے ساتھ ہر سطح پر رابطے جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف سب کے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں بھارتی کردار خطے کے مفاد میں نہیں۔ اسی طرح وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے بھی گزشتہ روز ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے امریکہ اور افغانستان دونوں سے کہا ہے کہ اگر انہیں دہشت گردوں کی معلومات ہیں تو ہمیں فراہم کی جائیں اور انکے ٹھکانوں کی نشاندہی کریں‘ ہم اپریشن کرینگے۔ انکے بقول قابل عمل انٹیلی جنس ہوگی تو ہم ایکشن لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے امریکہ سے بھی کہا ہے کہ وہ افغانستان میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان نے عالمی برادری سے تعلقات استوار کرنے کی اپنی پالیسی میں شروع دن سے ہی امریکہ کو ترجیح دی اور قیام پاکستان کے 70 سال کے دوران پاکستان ہر عالمی اور علاقائی ایشو پر امریکہ کے ساتھ کھڑا اور اسکی سلامتی و مفادات کے تقاضے نبھاتا نظر آیا ہے۔ اگرچہ امریکہ کی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں پاکستان کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی۔ اسکے باوجود پاکستان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں کبھی ڈنڈی نہیں ماری اور اسکے بے لوث حلیف کی حیثیت سے اس نے امریکی مفادات کے تحفظ کی خاطر بے بہا جانی اور مالی قربانیوں سے بھی کبھی دریغ نہیں کیا۔ اس تناظر میں پاکستان کے ساتھ امریکہ کے بہترین تعلقات استوار ہونے چاہئیں تھے مگر امریکہ نے آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کے ساتھ ہمیشہ طوطاچشمی سے کام لیا جبکہ اسکے کٹڑ مخالف بھارت کو اپنا حلیف بنا کر واشنگٹن انتظامیہ نے اسکی جانب سے پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرات میں اضافہ کیا۔

پاکستان کے ساتھ امریکی بدگمانیوں کا آغاز سانحہ نائن الیون کے بعد اسے اپنا فرنٹ لائن اتحادی بنانے اور پھر اسکی جانب سے دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کیلئے شروع کئے گئے فوجی اپریشن پر عدم اعتماد کا اظہار اور دہشت گردی کی جنگ میں ڈومور کے تقاضے کرنے اور بڑھانے سے ہوا تھا۔ بش جونیئر اور اوبامہ کے ادوار میں بھی پاکستان کے اندر امریکی زمینی اور فضائی کارروائیوں کے باعث پاکستان کی امریکہ کے ساتھ بدگمانیاں پیدا ہوئیں۔ پاکستان نے افغانستان کی جانب نیٹو سپلائی معطل کرکے اپنے ایئربیسز بھی امریکہ سے واپس لئے اور ڈرون حملوں پر امریکہ سے باضابطہ احتجاج بھی کیا جاتا رہا مگر پاکستان امریکہ تعلقات میں اتنا بگاڑ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا جتنا موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی منشور اور پھر صدر منتخب ہونے کے بعد اس انتخابی منشور کو امریکہ کی پالیسی کا حصہ بنانے سے ہوا کیونکہ ٹرمپ کی اختیار کردہ پالیسیوں سے پاکستان امریکہ تعلقات سردمہری کی انتہاﺅں کو چھوتے نظر آئے۔ اسی طرح امریکہ کی ڈرون حملوں کی پالیسی کے تسلسل نے بھی پاک امریکہ تعلقات میں دراڑیں پیدا کیں جنہیں ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان میں ڈرون حملے بڑھانے کا عندیہ دے کر مزید فروغ دیا۔ طرفہ تماشا یہ بھی ہوا کہ جو بھارت سامراج دشمنی کے ناطے امریکہ کا سخت مخالف رہا اور اس نے سرد جنگ میں امریکہ کو شکست دلانے کیلئے سوویت یونین کا بھرپور ساتھ دیا۔ نائن الیون کے بعد اسی بھارت کو امریکہ نے اپنا فطری اتحادی قرار دے کر اسکے ساتھ ایٹمی‘ جنگی دفاعی تعاون کے معاہدے کرلئے جبکہ یہ معاہدے درحقیقت پاکستان کی سلامتی کیخلاف بھارتی جاری سازشوں کو تقویت پہنچانے کے مترادف تھے۔ اس امریکی پالیسی نے بھی پاکستان امریکہ تعلقات میں خلیج پیدا کی کیونکہ پاکستان ایک جانب تو امریکی مفادات کی جنگ میں اسکے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرتے ہوئے خود بھی بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں آگیا تھا جس سے پاکستان کی سلامتی کو سخت خطرات لاحق ہوئے جبکہ امریکہ کے ساتھ جنگی دفاعی تعاون کے معاہدے کرنیوالے بھارت کو بھی پاکستان کی سلامتی کیخلاف مزید گھناﺅنی سازشوں کا موقع مل گیا۔ اسکے باوجود پاکستان امریکہ تعلقات میں کبھی ایسی سردمہری پیدا نہیں ہوئی جتنا ٹرمپ کے اقتدار کے آغاز سے ہی پاک امریکہ تعلقات خوفناک سردمہری کی لپیٹ میں آنا شروع ہوئے۔

جب کشمیر پر ناجائز قابض اور پاکستان کی سلامتی کیخلاف گھناﺅنی سازشوں میں مصروف بھارت کی ٹرمپ انتظامیہ نے عملاً سرپرستی شروع کی اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ کے موقع پر ٹرمپ نے انکے ساتھ بیٹھ کر پاکستان سے ڈومور کے تقاضے کئے بصورت دیگر اس کیخلاف کارروائی کا عندیہ دیا تو بادی النظر میں پاکستان کیلئے امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہا تھا۔ اس صورتحال میں بھی امریکہ نے پاکستان کے بارے میں مزید جارحانہ پالیسی اختیار کرلی اور ٹرمپ کے علاوہ واشنگٹن اور پینٹاگون کے دوسرے حکام بشمول امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ ریکس ٹلرسن‘ وزیر دفاع جیمز میٹس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل جوزف ڈونفورڈ نے بھی دھمکی آمیز لہجے میں پاکستان سے ڈومور کے تقاضے شروع کردیئے جبکہ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کیلئے اپنی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بھارت کو افغانستان میں امن کی بحالی کی ذمہ داری بھی سونپ دی جو بھیڑیے کو بھیڑوں کا رکھوالا بنانے کے مترادف تھا۔ اس صورتحال میں پاکستان کے پاس امریکہ کو یہ باور کرانے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہا تھا کہ اب پاکستان کی جانب سے ”نومور“ ہوگا۔

ٹرمپ کے بقول ماضی میں بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات پاکستان کے فائدے میں رہے ہیں جبکہ فی الحقیقت ان تعلقات سے پاکستان کو خسارہ ہی خسارہ ہوا کیونکہ امریکہ نے کسی بھی مشکل صورتحال میں کبھی پاکستان کا کھل کر ساتھ نہیں دیا۔ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی مجبوری محض اس لئے لاحق ہوئی کہ اسے مکار دشمن بھارت کیخلاف اپنا دفاع مضبوط بنانے کیلئے ایف 16 جہازوں سمیت اس اسلحہ اور جنگی سازوسامان کی ضرورت تھی جو صرف امریکہ ہی کے پاس ہے جبکہ امریکہ نے پاکستان کی اس مجبوری سے بھی خوب فائدہ اٹھایا۔ اس نے بھارت کو تو ایف 16 اور دوسرا مطلوبہ اسلحہ فراہم کردیا مگر پاکستان کیلئے اسکی فراہمی روک دی۔ پاکستان نے امریکی ڈومور کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنے 70 ہزار سے زائد شہریوں کی جانیں گنوا دیں اور اپنی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا مگر امریکہ کو قربانیوں سے لبریز اسکے اس کردار پر بھی یقین نہیں آیا اور اس نے بدستور پاکستان کے ساتھ ڈومور کے تقاضے اور سنگین نتائج کی دھمکیوں کا سلسلہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ ماہ امریکی وزیر دفاع نے بھی اپنے دورہ¿ بھارت کے موقع پر پاکستان کو ٹرمپ انتظامیہ کا سخت پیغام دیا اور بھارت کے ساتھ ایف 16‘ اور ڈرون جہازوں کی فراہمی کا معاہدہ کیا جبکہ جنرل جوزف ڈونفورڈ نے پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی پر دہشت گرد تنظیموں سے روابط ہونے کا براہ راست الزام عائد کیا۔ اسکے باوجود پاکستان نے امریکہ کے ساتھ اعتماد سازی کی بحالی کی کوششوں میں کمی نہیں آنے دی اور وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف گزشتہ ماہ اور رواں ماہ کے اپنے دورہ¿ امریکہ کے دوران امریکی حکام کو دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے امریکی خواہشات کے مطابق کردار کی ادائیگی کا یقین دلاتے اور یہ پیشکش کرتے رہے کہ امریکہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرے تو ہم ان ٹھکانوں پر اسکے ساتھ مشترکہ اپریشن کیلئے بھی تیار ہیں۔

اگر پاکستان امریکہ کے آگے اس حد تک جھک کر اسکے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کا خواہاں ہے تو یہ صورتحال بلاشبہ پاکستان کی آزادی و خودمختاری اور قومی حمیت کے تقاضوں کے منافی ہے جبکہ خواجہ آصف کی ملک واپسی پر انکی جانب سے امریکہ کو کی گئی مشترکہ اپریشن کی پیشکش کو امریکی خاتون اور اسکے کینیڈین شوہر کی بازیابی کیلئے کرم ایجنسی میں اپریشن کرکے عملی جامہ بھی پہنا دیا گیا ہے۔ اس اپریشن پر ٹرمپ کا دل پاکستان کیلئے محض اتنا ہی موم ہوا ہے کہ انہوں نے اس اپریشن کو پاکستان کے ساتھ اصل تعلقات کا آغاز قرار دیا جبکہ انہوں نے اس امر کی بھی تصدیق کردی کہ پاکستان نے خطے میں امن کیلئے ہمارے ڈومور کے پیغام پر عمل شروع کر دیا ہے۔ اس کا عندیہ ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کی اس بات سے بھی ملتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ نے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ اگر پاکستان نے امریکی ڈومور کے تقاضے پہلے ہی کی طرح قبول کرتے ہوئے اسکے ساتھ مشترکہ اپریشن پر اتفاق کیا ہے تو یہ صورتحال عملاً پاکستان کی خودمختاری امریکہ کے پاس گروی رکھنے کے مترادف ہے اس لئے پاکستان کو امریکہ سے تعلقات ہر صورت برقرار رکھنے کی خاطر اس حد تک نہیں جانا چاہیے جس سے اسکی سلامتی اور خودمختاری پر حرف آتا ہو جبکہ بھارت کو اپنا فطری حلیف بنا کر امریکہ نے اسکے ہاتھوں پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات مزید گھمبیر بنا دیئے ہیں۔ دنیا سے بہتر مراسم استوار کرنا ہی بے شک ہماری اچھی حکمت عملی اور خارجہ پالیسی ہے مگر ہمیں خود کو کسی کیلئے ترنوالہ بنا کر تو پیش نہیں کرنا چاہیے۔ اس تناظر میں ہمیں امریکی وزراءکے دورہ¿ پاکستان کے موقع پر انہیں پاکستان کے خودمختار ملک ہونے کا ٹھوس پیغام دینا ہے تاکہ ہمیں امریکہ سے ”ڈومور“ کے تقاضے مزید نہ سننا پڑیں۔