نئی مردم شماری کے نتائج مشترکہ مفادات کونسل میں پیش

نئی مردم شماری کے نتائج مشترکہ مفادات کونسل میں پیش

ملک کی آبادی 20 کروڑ 77لاکھ ہوگئی، پنجاب اور سندھ کی آبادی میں کمی۔ بلوچستان اور خیبر پی کے میں اضافہ۔ مردم شماری کے نتائج مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کردئیے گئے۔ پنجاب کی آبادی 11کروڑ سندھ کی 4کروڑ 78لاکھ ہو گئی۔

ملک کی معاشی اور سماجی منصوبہ بندی کیلئے مردم شماری سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اس کو مدنظر رکھ کر مشترکہ مفادات کونسل میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کیلئے وفاقی اور صوبائی آبادی اور رقبے کے تناسب سے ملکی وسائل کے حصے کا تعین کیا جاتا ہے۔ مردم شماری کی روشنی میں ہی جدید سائنسی بنیادوں پر وسائل کا بہتر استعمال عمل میں لایا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس اہم ایشو کو بھی سیاسی منافرت کی بھینٹ چڑھانے کی عادت پختہ ہوگئی ہے۔ مردم شماری کے مطابق اس وقت سب سے بڑی آبادی والا صوبہ پنجاب ہے جس کی آبادی 11 کروڑ ہے۔ اس حساب سے لامحالہ دستیاب وسائل میں بڑا حصہ پنجاب کو ملے گا۔ اس پر قوم پرست جماعتیں حقائق کو پس پشت ڈال کر پنجاب پر نکتہ چینی شروع کر دیتی ہیں اب بھی خطرہ ہے کہ سندھ اور خیبر پی کے کی جماعتیں صرف سیاسی بنیاد پر اس مخالفانہ سیاست کو پروان چڑھائیں گی۔ اگر ساری صوبائی حکومتیں اپنے حصہ میں ملنے والے وسائل کو ایمانداری سے خرچ کریں تو کسی سے اختلاف کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ اس لئے کسی پر تنقید کرنے کی بجائے قومی اتحاد و یکجہتی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فیصلہ پر سیاست نہ کی جائے تو ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے وہ زیادہ بہتر ہوگا۔