ڈینگی دنیا کے129ممالک کے لئے بڑا چیلنج‘پروفیسر بشریٰ اجمل

کراچی (نیوزرپورٹر)  ڈینگی آج بھی دنیا کے129ممالک کے لئے ایک چیلنج ہے، کویڈ19کے وبائی زمانے میں ڈینگی کی تشخیص لازمی ہے جبکہ اس مرض کی تشخیص کے عمل کو نظر انداز کیا جانا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، سن2000 سے ڈینگی انفیکشن کے پھیلاو اور اس کے سبب اموات میں اضافہ ہوا ہے، دنیا میں390ملین انفیکشن رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ اس مرض کا70فیصد دبا ایشیائی ممالک پر ہے، شہریوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ڈینگی کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کریں، ترقی پذیر ممالک میں شہروں کی سمت دیہی ہجرت ڈینگی وائرس کے پھیلاو کا ایک اہم سبب ہے۔یہ بات آغا خان یونیورسٹی کے شعبہء ادویات کی پروفیسر ڈاکٹربشری جمیل علی نے جمعہ کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) جامعہ کراچی کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی مرکز جامعہ کراچی کے پروفیسر سلیم الزماں آدیٹوریم میں عوامی آگاہی پروگرام کے تحت ڈینگی کی روک تھام کے موضوع پراپنے لیکچر کے دوران کہی۔ ڈاکٹر پنجوانی سینٹر کے تحت اس لیکچر کے انعقاد کا مقصد متعلقہ صحت کے سنگین مسئلے سے متعلق عوامی آگاہی پیدا کرنا تھا۔ پروفیسربشری جمیل علی نے کہا ڈینگی وائرس ایک مخصوص مچھر ایڈیز کی انواع کی مادہ کے کاٹنے سے ہوتا ہے، ایڈیز ایلبوپکٹس پاکستان کے ضلع میر پور اور آزاد جمو و کشمیر میں پائے جاتے ہیں، اس مرض کے عام علامات میں بخار کے ساتھ متلی، قے، جسم پر دھبے اور جسمانی درد سب سے عام ہیں۔ انہوں نے کہا ڈینگی مرض اگر صحیح طور تشخیص ہوجائے تو اس کا علاج مختلف طریقوں سے آسان ہے جبکہ بہت تھوڑے مریضوں میں شدید انفیکشن ہوتا ہے جس کی علامات میں خون کا شدیداخراج، عضو کی خرابی اور پلازمہ کا اخراج بھی شامل ہے، انہوں نے کہا شدید ڈینگی میں موت کا امکان زیادہ ہوتا ہے جبکہ صحیح طور سے علاج کیے جانے والے کیسز میں شرح اموات ایک فیصد سے بھی کم ہے۔   پروفیسربشری جمیل علی نے کہا25فیصد ڈینگی کیسزکی علامت  ظاہر ہوتی ہیں جبکہ باقی کیسز میں بغیر علامات کے ہوتے ہیں۔ ڈینگی کے پھیلاو کو مچھروں کے خاتمے کے ساتھ روکا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا اس کی ویکسین موجود ہے لیکن عام نہیں ہے، ابھی تک کوئی اینٹی وائرل دوا ڈینگی کے علاج کے لئے مخصوص نہیں تاہم تحقیق جاری ہے جس کے مثبت نتائج مستقبل میں برآمد ہونگے۔

پروفیسر بشریٰ اجمل