ایس ایس سی کوانڈسٹری کی گیس معطل کرنے سے روکا جائے 

کراچی(کامرس رپورٹر)چیئرمین بزنس مین گروپ (بی ایم جی) زبیر موتی والا اور صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) ایم شارق وہرہ نے صنعتوں کو گیس کی فراہمی معطل کرنے کے سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے اعلان پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ ایس ایس جی سی کو صنعتوں کی گیس معطل کرنے سے روکنے کی ہدایت کریں اور گیس کے معاملے میں بدانتظامی کی تحقیقات کا حکم صادر فرمائیںکیونکہ کراچی کی صنعتیں پہلے ہی ناقابل برداشت حالات سے گذر رہی ہیں وہ گیس کی فراہمی معطل ہونے کی وجہ سے اپنی پیداواری سرگرمیوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔ایک بیان میں چیئرمین بی ایم جی اور صدر کے سی سی آئی نے کہا کہ اگر ایس ایس جی سی کو اپنے دعوے کے مطابق کنرپشاکی ڈیپ گیس فیلڈ اور اینگرو ٹرمینل سے 250۔200  ایم ایم سی ایف کی کمی کا سامنا ہے تب فی الوقت اس کمی کو آر ایل این جی کے ذریعے پورا کیا جانا چاہیے لیکن ایسا کرنے کے بجائے انہوں نے اچانک صنعتوں کو گیس کی فراہمی معطل کر نے کا اعلان کیا جو کسی صورت بھی قابل قبول نہیں کیونکہ یہ نہ صرف تاجر برادری بلکہ معیشت اور عوام کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوگا۔چیئرمین بی ایم جی زبیر موتی والا نے کہا کہ تاجر برادری کو ہمیشہ ہی آر ایل این جی کی فراہمی کے بارے میں اندھیرے میں رکھا گیا جو کہ انتہائی غیر منصفانہ ہے۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ایس ایس جی سی کے ذریعے برقرار رکھی جانے والی آر ایل این جی کی مقدار کیا ہے؟ اور سندھ اور بلوچستان میں صارفین کو آر ایل این جی کی فروخت کا حجم کتنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق تقریباً 150۔200  ایم ایم سی ایف آر ایل این جی صنعتوں کو فراہم کی جارہی تھی لیکن اب یہ پتہ چلا ہے کہ ایس ایس جی سی کوآر ایل این جی کے استعمال سے روک دیا گیا ہے اور یہ احکامات بھی جاری ہوئے ہیں کہ 1200ایم ایم سی ایف کی ایل این جی کی پوری مقدار کو سوئی نادرن گیس کمپنی لیمٹیڈ کو دیا جائے۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں ان صنعتوں بشمول کے الیکٹرک کا کیا بنے گا ؟ جن سے 200 ایم ایم سی ایف آر ایل این جی کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ دوہرہ خطرہ ہے کیونکہ سندھ کے مقامی وسائل سے گیس کی فراہمی کے علاوہ آر ایل این جی بھی سوئی نادرن گیس کمپنی لیمٹیڈ کے حوالے کی جارہی ہے۔انہوں استفسار کیا کہ ایسے پریشان کن حالات میں جب کنرپشاکی ڈیپ گیس فیلڈ اور اینگرو ٹرمینل بیک وقت بحالی کے کام کے لیے بند کیے گئے تو پھر کراچی میں صنعتوں کے ساتھ کیا ہوگا۔یہ بحالی کا کام اگلی آنے والی عید الضحی کی تعطیلات میں بھی مقرر کیا جاسکتا تھا۔چیئرمین بی ایم جی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ کراچی کے خلاف کوئی سازش ہے کیونکہ ہر 15 دن کے بعد اسی طرح کے حالات میں صنعتوں کو الجھا دیا جاتا ہے جس سے کراچی میں صنعتوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ کے پی ڈی گیس فیلڈ اور اینگرو ٹرمینل کی بحالی کے کام کے لیے بند کرنے کے کام کو تاخیر کیا جاسکتا تھا اور یہ ایک ایک کرکے ہونا چاہیے۔مزیدبرآں کے الیکٹرک کے پاس بجلی کی پیداوار کے لیے فرنس آئل استعمال کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے لہذا کے ای کو دی جانے والی گیس کو کم کر کے صنعتوں کو منتقل کیا جانا چاہیے اور کے ای گیس بحران  ختم ہونے تک فرنس آئل استعمال کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گیس فراہمی معطل کرنے کے فیصلے سے عام صنعتوں کی کارکردگی متاثر ہوگی جو برآمدی صنعتوں کی سپلائی چین کا ایک اہم حصہ ہیں لہٰذا عام صنعتیں ایک طرح سے برآمدی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں اس کا ٹریڈنگ، ہول سیل اور ریٹیل نیٹ ورک پر بہت تباہ کن اثر پڑے گا جس کے باعث منفی سگنل جائے گا اور غیر یقینی صورتحال پیداہوگی۔صدر کے سی سی آئی شارق وہرہ نے کہا کہ کراچی کی صنعتوں کو گیس کی فراہمی معطل ہونے سے صنعتوں کو شدید مالی مالی نقصان سے دوچار کردے گا اور قومی خزانے کو ریونیو کی مد میں بھی خطیر نقصانات کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں گیس کا جاری بحران ایک انتہائی سنگین مسئلہ بن گیا ہے جس کی تحقیقات کی ضرورت ہے کیونکہ ایسے وقت میں جب صنعتی سرگرمیاں آہستہ آہستہ معمول پر آرہی ہیں۔ سسٹم میں موجود کچھ عناصر نے اچانک مداخلت کی اور گیس کی قلت پیدا کردی جس کے نتیجے میں بہت ساری فیکٹریاں بند ہوں گی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسی طرح کی صورتحال حال ہی میں پیدا کی جا چکی ہے جب انھوں نے کراچی کی 225صنعتوں کی گیس منقطع کر دی تھی اور یہ کہا گیا اس کا متبادل بجلی کی سپلائی ہوگی۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر گیس بحران اسی طرح برقرار رہا تو صنعتوں کے لیے مقامی مارکیٹوں اور برآمدکنندگان کو سامان سپلائی کرنا مشکل ہو جائے گا اور اشیاء کی قلت پیدا ہونے کے ساتھ مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔گیس کی فراہمی معطل ہونے کی وجہ سے کراچی کی تاجروصنعتکار برادری کو درپیش مشکلات پر خصوصی توجہ دینے اوراسے فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس صورتحال کا صنعتی کارکردگی اور معیشت پر سنگین اثر پڑے گا اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور غربت میںبھی اضافہ ہوگا۔لہذا ہم وزیر اعظم سے پُر زور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس واقع اور ماضی میں اسی طرح کے تمام تر واقعات کی تقتیش کے لئے ایک کمیٹی قائم کریں جن کی وجہ سے صنعتیں بری طرح متاثر ہوئیں۔ ہم یہ بھی اپیل کرتے ہیں کہ 21روز تک صنعتوں کو بند کردینے کے پروگرام کو معطل کر دیا جائے جب تک کوئی متبادل راستہ نہیں ملتا جبکہ صارفین جو سب سے بڑے اسٹیک ہولڈرز ہیں اس قسم کے حساس معاملات میں ان سے مشاورت کی جائے اور انھیں آن بورڈ لیا جائے۔دوسری جانب سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے  صدر عبدالہادی نے سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی )کی جانب سے گزشتہ روز غیر برآمدی صنعتوں کی100فیصد یعنی مکمل طورپر گیس بند کرنے کے فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کراچی کی صنعتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان، وزیر توانائی حماد اظہر، وزیراعظم کے معاون خصوصی تابش گوہر اور گورنر سندھ عمران اسماعیل سے اپیل کی کہ کراچی کی غیربرآمدی صنعتوںکو مکمل طور پرگیس بند کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے بصورت دیگر کراچی کی 50فیصد صنعتیں بند ہوجائیں گی اور بے روزگاری کا سیلاب آجائے گا۔اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر کراچی کی صنعتوں کی گیس بند کرنا سراسر ناانصافی ہے کیونکہ صنعتوں سے متعلق کوئی بھی فیصلہ صنعتکار برادری کواعتمادمیں لیے بغیر ازخود کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ ہمارا یہی کہنا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا جائے اور باہمی مشاورت کے بعد ہی کوئی قدم اٹھایا جائے۔ان کاکہنا تھاکہ اگربرآمدی صنعتیں50فیصد ہے تو غیربرآمدی صنعتیں بھی 50فیصد ہے لہٰذا جو صنعتیں مقامی مارکیٹوں کی طلب کو پورا کرنے کے لیے مصنوعات تیار کررہی ہیں ان کی گیس بند کرکے پیداواری سرگرمیوں میں تعطل پیدا کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟انہوں نے مزید کہاکہ ملک میںآر ایل این جی کی کوئی کمی نہیں بلکہ کے الیکٹرک کو گیس فراہم کے ساتھ ساتھ دیگر سسٹم کو بھی چلایا جارہاہے لہٰذا یہ بالکل بھی مناسب وقت نہیں کہ صنعتوں کی گیس بند کردی جائے بلکہ حکومت کو معیشت کے بہتر ترین مفاد میں فیصلے کرنے چاہیے اورصنعت مخالف اقدامات کی بجائے صنعتوں کو فروغ دینے اور پیداواری لاگت کو کم کرنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ صنعتیں لگیں اور روز گار کے وسیع مواقع پیدا ہوں۔ فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری نے کراچی کی صنعتوں گیس کی عدم فراہمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔صدر فباٹی محمد علی نے کراچی کی صنعتوں کو گیس کی عدم فراہمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے فیصلے ملکی معیشت پر برا اثر ڈالیں گے ، انھوں نے کہا ایس ایس جی سی کے مطابق گرمی کے موسم میں گیس کی عدم فراہمی کا فیصلہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔۔ فباٹی کے سینیر رکن ادریس گیگی نے وفاقی حکومت کے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی ملک کے لئے 60 فیصد ریوینیو پیدا کرتا ہے اور ملکی برآمدات کے 54 فیصد آڈرز اسی شہر میں بنتے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک کی دس بڑی برآمدی کمپنیوں میں سے سات کمپنیاں اسی شہر میں واقع ہیں اور شاید یہی ہمارا قصور ہے۔۔ انھوں نے کہا کہ کراچی کے تاجروں کے ساتھ وفاقی حکومت کا امتیازی سلوک ناقابل فہم ہے۔۔ فباٹی کے منسلک صنعتکاروں نے بھی وزیر اعظم پاکستان سے گزارش ہے کہ گیس کی بندش کے حوالے سے کیا گیا فیصلہ فی الفور واپس لیا جائے۔۔ صنعتکاروں نے سندھ حکومت سے بھی درخواست ہے کہ اس معاملے پر ان کا ساتھ دیں۔تاہم کراچی (کامرس رپورٹر) بن قاسم ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری نے کراچی کے صنعتوںکوگیس کی عدم فراہمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔سرپرست اعلیٰ میاں محمداحمد نے کراچی کی صنعتوںکو گیس کی عدم فراہمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے فیصلے ملکی معیشت پر برا اثر ڈالیں گے، انہوں نے کہا ایس ایس جی سی کے مطابق گرمی کے موسم میں گیس کی عدم فراہمی کا فیصلہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔ بقاٹی کے صدر سلیم دادانے وفاقی حکومت کے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کراچی ملک کا بہت زیادہ ریوینو پیدا کرتا ہے اور ملکی برآمدات کے۵۴ فیصد آرڈرز بھی اسی شہر میں بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی دس بڑی برآمدی کمپنیوں میں سے سات کمپنیاں اسی شہر میں واقع ہیںاورشاید یہی ہمارا قصور ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے تاجروں سے امتیازی سلوک ناقابل فہم ہے۔ بقاٹی کے منسلک صنعتکاروں نے بھی وزیر اعظم پاکستان سے گزارش کی ہے کہ گیس کہ بندش کے حوالے سے کیا گیا فیصلہ فی الفورواپس لیا جائے۔