اسلام آباد ہائیکورٹ کا بلوچ طلبہ کو ہراساں کرنے کی شکایات کمیشن کے سامنے رکھنے کا حکم 


 اسلام آباد(خصوصی رپورٹر)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے بلوچ طلبہ کو ہراساں کرنے کی شکایات کمیشن کے سامنے رکھنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ درخواست گزار وکیل ایمان مزاری تمام بلوچ طلبہ کی شکایات تحریری سیکرٹری وزارت انسانی حقوق کو لکھیں،سیکرٹری وزارت انسانی حقوق بلوچ طلبہ کی شکایات کمیشن کے سامنے رکھے،وزارت داخلہ اور وزارت انسانی حقوق آئندہ سماعت تک رپورٹ جمع کرائیں،عدالت نے سیکرٹری داخلہ کولاپتہ فیروز بلوچ سے متعلق الگ انکوائری کرکے رپورٹ جمع کرانے کابھی حکم دیتے ہوئے کہاکہ اگر سیکرٹری داخلہ فیروز بلوچ کیس میں مطمئن نہ کر سکے تو ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔گذشتہ روز قائد اعظم یونیورسٹی اور دیگر بلوچ طلبہ کی ہراساں کرنے اور لاپتہ ہونے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل ایمان حاضر مزاری عدالت پیش ہوئیں، دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے عدالت کو بتایاکہ کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن کردیا گیا، چیف جسٹس نے کہاکہ اس کمیشن کی تشکیل کا مقصد یہ ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو سنے شکایات کا ازالہ کرے،بہت سارے کیسز میں دائرہ اختیار کے مسائل ہیں لیکن کمیشن اس کو دیکھ سکتا ہے،ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے کہاکہ فیروز بلوچ11 مئی سے راولپنڈی یونیورسٹی سے لاپتہ ہے ،6 گھنٹے کل صادق آباد تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے نہیں کی،عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیاکہ کیوں یہ ایسی چیزیں ہو رہی ہیں؟جس پرڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایاکہ ایک سٹوڈنٹ جو نمل کا لاپتہ ہوا وہ واپس آچکا ہے،عدالت نے مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ کیس کی مزید سماعت10جون تک ملتوی کردی۔