گرلز سکولوں میں حاضری 95 فیصد سے کم نہیں ہونی چاہئے،ڈپٹی ڈی او زنانہ

راولپنڈی ( محمد رضوان ملک/ نیوزرپورٹر ) راولپنڈی کے گرلز سکولوں میں حاضری 95 فیصد سے کم نہیں ہونی چاہےے،ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر زنانہ نے راولپنڈی کے تمام سکولوںمیں طالبات کی حاضری کی ذمہ داری پرنسپلز پر ڈال دی ،کم حاضری والے سکولوں کی پرنسپلز کو سکول ٹائم کے بعد وضاحت کے لئے آفس آنا ہوگا، ڈپٹی ڈی او راولپنڈی کے شاہی حکم نے خواتین اساتذہ کے ہوش اڑا دئےے۔ تفصیلا ت کے مطابقاسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز زنانہ صدف کی جانب سے ایک موبائل پیغام کے ذریعے راولپنڈی کے تمام گرلز سکولوں کی پرنسپلز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ان کے سکولوں میں حاضری کا ہر حال میں 95 فیصد ہونا ضروری ہے۔ جس سکول میں بھی حاضری 95 فیصد سے کم ہوگی اس سکول کی پرنسپل کو وضاحت کے لئے شام کو آفس آنا ہوگا۔پیغام میں کہا گیا ہے کہ تمام سکولوں کی پرنسپلز صبح ساڑھے آٹھ بجے تک اپنے سکول کی حاضری رپورٹ دفتر میں بھجوائیں اور اگر حاضری 95 فیصد سے کم ہوئی تو انہیں شام کو وضاحت کے لئے آفس آنا ہوگا۔ اس حکم نے راولپنڈی کے گرلز سکولوں کی پرنسپلز کو سخت پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ اساتذہ کا موقف ہے کہ طالبات کو سکول بھیجنا والدین کی ذمہ داری ہے ۔ہم گھروں سے طالبات کو کیسے نکال کر لا سکتے ہیں۔ کئی جگہوں پر پرنسپلز نے اساتذہ کی ڈیوٹی بھی لگائی کہ وہ بچیوں کے والدین کو قائل کریں گے کہ وہ بچیوں کو سکول بھیجیں لیکن کئی والدین اپنی بچیوں کو سکول بھیجنا ہی نہیں چاہتے۔ کئی والدین کا کہنا ہے کہ ہمارے لئے بچیوںکو خو د لانا اور لے جانا ممکن نہیں اور اکیلے بھیج نہیں سکتے آپ بے شک نام کاٹ دیں۔اس سلسلے میںجب اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر مس صدف سے رابطہ کیا گیا تو ان کا سارا زور اس بات پر تھا کہ آپ کا سکول میں کون ہے ، آپ کی کوئی بہن یا بیگم سکول میں ہے۔ آپ نے میرا نمبر کہاں سے لیا ہے؟جب تک آپ یہ نہیں بتائیں گے کہ میرا نمبر آپ نے کس سے لیا ہے میں آپ کو کوئی موقف نہیں دوں گی ۔ آپ ڈپٹی ڈی ای او سے موقف لیں تاہم انہوں نے ڈپٹی ڈی ای او( زنانہ) کا نمبر بھی نہ دیا۔