تعلیمی اداروں میں نشے کا استعمال عام لڑکے، لڑکیاں عادی بننے لگے

لاہور (آن لائن) پنجاب کے تعلیمی اداروں میں نشے کا استعمال، لڑکوں کے ساتھ لڑکیاں بھی نشہ کرتی ہیں، نشہ کون پہنچاتا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، سکولوں کا عملہ بھی ملوث ہے، نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل ہیومن ریسورس محمد انیس نے انکشاف کیا ہے کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں نشہ کا استعمال ہو رہا ہے، نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی نشہ کا استعمال کرتی ہیں، نشہ کے تدارک کیلئے مختلف ادارے کام کر رہے ہیں، انسداد منشیات کے کنسلٹنٹ سید ذوالفقار حسین نے کہا کہ نجی یونیورسٹیوں اور سکولوں کے طلباء گولیاں اور دیگر نشہ آور اشیاء استعمال کرتے ہیں۔ ادھر میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑکوں کے ساتھ لڑکیاں نشہ، شراب، پاؤڈر اور دیگر نشہ آور اشیاء کے استعمال کی عادی ہیں، نشے کے انجکشن بھی لگائے جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں نشہ آور اشیاء پہنچانے کے ذرائع بھی مختلف ہیں کسی جگہ پر کینٹین کا ٹھیکیدار اور عملہ ملوث ہے تو کہیں چوکیدار اور دیگر عملہ نشہ فراہم کرنے کا کام کرتے ہیں، سکولوں اور کالجز کی بسوں کے ڈرائیور اور دیگر عملہ بھی ان اشیاء کی فراہمی میں ملوث ہے، تعلیمی اداروں میں نشہ آور اشیاء کے استعمال پر پابندی دور کی بات ایسا کوئی نظام بھی نہیں ہے کہ ادارے میں داخل ہوتے وقت چیک کیا جا سکے۔ سگریٹ کا استعمال سرعام ہوتا ہے۔