بچوں کی تربیت کی ضرورت

بچوں کی تربیت کی ضرورت

مارچ کے مہینے میں ٗ مجھے "اقراء علوم الاطفال فائونڈیشن سکول" بطور مہمان خصوصی جانے کا اتفاق ہوا ۔ جہاں سالانہ نتائج کے اعلان کے علاوہ مختلف پروگرام کا اہتمام تھا ۔ اس سکول کے پرنسپل حافظ ندیم اسلم کا یہ میرا پہلا تعارف تھا ۔میں نے سکول کا تفصیلی دور ہ کیا اور کلاس روم کے ساتھ ساتھ بچوں کے زیر استعمال واش روم ٗ پینے کے پانی کی سہولتیں اور بطور خاص والدین( جو روزانہ بچوں کو لینے کے لیے سکول آتے)کے انتظامات دیکھے ۔بات کو آگے بڑھانے سے پہلے میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے لاہور میں بے شمار سکول ایسے بھی دیکھے ہیں جن میں پہلی جماعت کے بچوں کی داخلہ فیس 10 ہزار روپے ہوتی ہے جس میں جنریٹر چارجز شامل ہوتے ہیں لیکن کلاس روم میں روشنی اتنی کم کہ آدھے بچوں کو چشمے لگے ہوتے ہیں ۔ ان سکولوں میں اپنے بچوں کو داخل کروانا اس لیے ضروری سمجھا جاتاہے کہ سکول بورڈ پر "انگلش میڈیم" لکھا ہوتاہے ۔ والدین اپنا پیٹ کا ٹ کر بچوںکو اس لیے انگلش میڈیم سکولوں میں بھاری فیسیں دے کرپڑھاتے ہیں کہ بچے بڑے ہوکر افسر بنیں گے لیکن کم ترین معیار تعلیم کی بنا پر بمشکل ہیڈ کلرک بھی نہیں بن پاتے۔ پھر ایسے انگلش میڈیم سکول کے باہر چھٹی کے وقت والدین کے لیے سایہ اور ٹھنڈا پانی بھی فراہم کرنا گناہ سمجھاجاتا ہے۔ شاید بچوںکو انگریز بنانے کے لیے والدین کی یہ قربانی ضروری ہے۔ ایسے بچے جب جوان ہوتے ہیں تو والد ین کا بڑھاپے میں سہارا بننے کی بجائے انہیں اولڈ پیپلز ہوم میں جاکر داخل کروا دیتے ہیں تو عقل ٹھکانے آ جاتی ہے۔ اس لمحے مجھے گائوں کی ان تین بزرگ عورتوں کا واقعہ یاد آگیا جو پانی لینے کے لیے کنویں کے پاس کھڑی تھیں ان کے سامنے تین لڑکے گزرے۔ ایک عورت نے دوسری کو فخر سے کہا وہ دیکھو میرا بیٹا انگلش میڈیم سکول میںدسویں جماعت میں پڑھتا ہے ٗ دوسری بولی کہ خیر نال میرا بیٹابھی گیارہویں جماعت میں پڑھ رہا ہے ۔ تیسری عورت بولی میرا بیٹا قرآن حفظ کررہاہے۔دو لڑکے ہنستے مسکراتے ماں کی بات سن کر چل دیئے لیکن جو لڑکا قرآن حفظ کررہا تھا وہ آگے بڑھا اور پانی گا گھڑا اٹھاکر اپنے سر پر رکھ کرماںکے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ عام گھرانوں میں بوڑھے والدین اولادکے رویے پر آنسو بہاتے نظر آتے ہیں ۔نبی کریم ؐ نے ان لوگوں کو ناپسند فرمایا جو والدین کی جانب پیٹھ کرکے بیٹھتے ہیں یا ان سے آگے چلتے ہیں ۔حکم تو یہاں تک ہے کہ اولاد کی قبر بھی والدین کے پائوںکی جانب ہو ۔یہ نبی کریمؐ کا ہی فرمان عالیشان ہے کہ ماںکے پائوں تلے جنت اور باپ جنت کادروازہ ہے۔ اگر والدین زندہ نہ ہوں تو ماں کی قبرکو پائوں کی جانب اورباپ کی قبر ماتھے کی جانب چوم کر خود پر جنت واجب کرلینی چاہیئے ۔کیا ہمارے تعلیمی ادارے یہ سبق پڑھاتے ہیں۔ میرے گھرکے سامنے دو بھائی آپس میں لڑ رہے تھے ۔استفسار پر معلوم ہوا کہ بیٹے جائیداد تقسیم کرناچاہتے ہیں۔ اس لمحے ماں باپ کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی وہ آنسو بہاتے کہہ رہے تھے کاش ہم بے اولادہی ہوتے ۔کسی نے خوب کہا ہے کہ بیٹیاں ماں باپ کے دکھ بانٹتی ہیں اور بیٹے جائیداد ۔ جوہر ٹائون کی ایک مسجد میںٗ میں اکثر نماز جمعہ پڑھنے جایا کرتا تھا وہاں میں نے اپنی آنکھوں سے ایک نوجوان کو دیکھا جو اپنے بوڑھے والد کو کار میں لے کر مسجد آتا اور سہارا دے کر مسجد میں کرسی پر بٹھاتا ۔ ہم سب لوگ وعظ کے دوران امام کی جانب متوجہ ہوتے لیکن اس نوجوان کی نگاہیں والد پر ہی جمی رہتیں۔ جیسے ہی والد ہلکا سا اشارہ کرتا تو اسی وقت وہ نوجوان حرکت میں آتا اور حکم کی تعمیل کرتا ۔ اس نوجوان کو دیکھ میرا دل خوش ہوگیا کہ فرماں بردار اولاداسے کہتے ہیں ۔ کہاجاتاہے کہ بچے جب بڑے ہوکر ڈاکٹر‘ انجینئر‘ سرکاری افسر بنتے ہیں تو والدین ان سے بات کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں لیکن جن بیٹوںکے سینوں میں قرآن اور اسلامی تعلیمات ہوتی ہیں وہ والدین سے اونچی آوازمیں بات کرنے سے اس لیے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ کہیں ان کی بات والدین کوناگوار نہ گزرے اور وہ صرف اسی گستاخی کی بنا پر دوزخ میں نہ ڈال دیئے جائیں ۔ میںجس مسجد میں نماز پڑھتا ہوںاس مسجدکے امام قاری محمداقبال صاحب ہیں وہ امام کے مرتبے پر فائز ہونے کے باوجود اپنے والدکے سامنے اس طرح سر جھکا کر کھڑے نظر آتے ہیں جیسے بادشاہ کے سامنے غلام کھڑا ہوتا ہے ۔ ان کے والد کی چائے کی دکان ہے چائے بنانے کے لیے گیس کاسلنڈردن میں دو بار بھروانا پڑتا ہے یہ کام ہمارے امام صاحب نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتے ہیں۔انہیں والد کی خدمت کرتے ہوئے کوئی شرمندگی محسوس نہیںہوتی ۔میں سمجھتاہوں کہ والدین پر منحصر ہے کہ انہوں نے بڑھاپے میں جس درخت کے سائے تلے بیٹھنا ہے اسکو کیکر کا درخت بنانا ہے یا آم کا درخت۔ جو سایہ بھی دیتا ہے اورپیٹ بھی بھرتاہے ۔بچپن میں بچے ماں میری اے ماںمیری اے کہتے ہیں جوان ہوکر ماں تیری اے ماں تیری اے کیوں کہنے لگتے ہیں ۔صدر پاکستان ایوب خان اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ جب میری والدہ کے ساتھ پیدا ہونے والا چھوٹا بھائی لیٹا تومیں نے اپنے ننھے ہاتھوں سے اس کااس لیے گلہ دبا دیاکہ وہ میری جگہ پر ماں کے ساتھ کیوں لیٹا ہے ۔وہ باپ جس کی انگلی تھام کر بچہ زمین پر پائوں رکھ کر چلنے لگتا ہے جب باپ کو سہارے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہی بیٹا باپ کو سہارا دینا بھی گناہ کیوں سمجھتا ہے ۔انگریز بہت حسرت سے کہا کرتے تھے۔ کاش ہم مشرقی معاشرے میں پیدا ہوئے ہوتے جہاں اولاد زندگی کے آخری سانس تک والدین کی فرماں بردار رہتی ہے‘ لیکن پاکستانی معاشرے میںاسلامی قدریں اس قدر تیزی سے ختم ہو رہی ہیں کہ مقدس رشتے بھی بے وقعت ہوتے جارہے ہیں۔ والدین اپنی اولاد کے ہاتھوں تنگ آکر گھر چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں کچھ اولڈ پپیلز ہوم میں پناہ لیتے ہیںتو کچھ بھکاری بن کر فٹ پاتھوںپر نظر آتے ہیں ۔یہ سب کچھ اسی انگریز زدہ نظام تعلیم کا کیا دھرا ہے جس میںبچوںکو سب کچھ سیکھا یا ۔جاتا ہے لیکن بڑھاپے میںوالدین کی عزت کرنا اور ان کا سہارا بننا نہیں بتایا جاتا۔ انگلش میڈیم کا بورڈ لگا کر والدین کو لوٹنے والے تعلیمی ادارے بچوں کو والدین کی قربانیوں کا احساس دلانے اور بڑھاپے میں ان کی خدمت کرنا بھی نہیں سیکھاتے۔ جن کا مقصد صرف اور صرف پیسے اکٹھے کرنا ہے بچوں کی اسلامی تربیت فراہم کرنا نہیں ہے۔