کلبھوشن کو پھانسی پر لٹکایا جائے‘ کرپشن‘ سود کا خاتمہ چاہتے ہیں: دفاع پاکستان کونسل

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) دفاع پاکستان کونسل کے سربراہی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے پھانسی کے فیصلے پر عمل ہونا چاہئے، نرمی اور رواداری نہیں ہونی چاہئے، کرپشن و سود کا ملک سے خاتمہ چاہتے ہیں، شرعی عدالت کے جج سود کے بارے میں ریمارکس واپس لیں، نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوںکی حفاظت کریں گے، نظریہ اسلام نظریہ پاکستان ہے، پاکستان میں نظام مصطفی نافذ کیا جائے،کلبھوشن پاکستان میں آم کھانے اور خالہ جی کے گھر دودھ پینے نہیں آیا تھا پھانسی کے فیصلے پر عمل ہونا چاہئے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار قرض ملنے پر اس طرح خوش ہوتے ہیں جس طرح کے بے اولاد کے گھر میں اولاد پیدا ہو، جلد معاشی اور نظریاتی کرپٹ افراد کے گریبانوں تک عوام کے ہاتھ پہنچیں گے۔ حافظ سعید کی نظربندی کو فی الفور ختم کرکے ان کو رہا کیا جائے، ممبر و محراب کے خلاف اقدامات ردالفساد نہیں بلکہ فساد ہیں۔ دفاع پاکستان کونسل کا سربراہی اجلاس مولانا سمیع الحق کی قیادت میں ہوا۔ سینیٹر سراج الحق، عبدالرحمن مکی، لیاقت بلوچ، مولانا فضل الرحمن خلیل، مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما اجمل خان وزیر، خرم نواز گنڈا پور و دیگر نے شرکت کی۔ مولانا سمیع الحق نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی قربانیاں اور ان کی جدوجہد آزادی کو نظرانداز کرنے پر یہ اجلاس بلایا گیا ہے۔ دفاع پاکستان کا مقصد قومی سلامتی خواہ وہ نظریاتی ہو یا جغرافیائی اس کی حفاظت کرنا ہے اور دفاع پاکستان اس کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ دفاع پاکستان کونسل ملک کو سیکولر اسٹیٹ بننے نہیں دے گی۔ ہمارا ملک نظریاتی کرپشن کا شکار ہے اس لئے ہمارا وزیراعظم کہتا ہے کہ بھگوان اور خدا ایک ہے۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بھرپور جواب دیں گے۔ بھارت سے اس وقت تک دوستی کی پینگیں نہ بڑھائی جائیں جب تک کشمیر یوں کو حق خودارادیت نہیں دیتا ہے ۔ وفاقی شرعی عدالت کے جج کے سود کے بارے میں ریمارکس اللہ اور اللہ کا رسولؐ خوش نہیں ہوں گے۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی وجہ سے سود کو حلال نہیں کہا جا سکتا۔ جج کے ریمارکس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ جج اپنے ریمارکس فوراً واپس لیں جبکہ پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ ملک سے سود کو ختم کیا جائے۔ سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی اور اندرونی خطرات لاحق ہیں۔ نظریہ پاکستان کے ساتھ بے وفائی پاکستان کے ساتھ غداری ہے۔ پاکستان میں مسلح دہشت گردی کے ساتھ معاشی دہشت گردی بھی ہو رہی ہے۔ پانامہ لیکس، وکی لیکس، ڈان لیکس، دبئی کی جائیدادیں، معاشی دہشت گردی کی واضح مثالیں ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اس طرح خوش ہوتے ہیں جس طرح کے بے اولاد کے گھر میں اولاد پیدا ہو۔ جلد معاشی اور نظریاتی کرپٹ افراد کے گریبانوں تک عوام کے ہاتھ پہنچ جائیں گے۔ اگر عدالتوں پر عوام کا اعتماد ختم ہو گیا تو عوام قانون کو ہاتھ میں لے لیں گے اور چوکوں اور چوراہوں پر انصاف کرینگے جو پاکستان کے لئے کسی طور پر ٹھیک نہیں ہو گا۔ سود کے حوالے سے جج کے ریمارکس سے عوام مایوس ہوئے ہیں۔