پنجاب اسمبلی: اپوزیشن کا بائیکاٹ ختم‘ نجی تعلیمی ادارے سالانہ5 فیصد سے زیادہ فیس نہیں بڑھا سکیں گے: بل منظور

لاہور (خصوصی رپورٹر/ خصوصی نامہ نگار/ کامرس رپورٹر+خبر نگار) حکومت سے کامیاب مذاکرات اور سپیکر کی طرف سے دل آزاری پر معذرت کے بعد متحدہ اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس کا چار روز سے جاری بائیکاٹ ختم کردیا، اجلاس میں اپوزیشن کی عدم موجودگی کے دوران نجی تعلیمی اداروں سے متعلق ترمیمی مسودہ قانون کی منظوری دیدی گئی۔ وقفہ سوالات کا آغاز ہوتے ہی پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی آصف محمود نے ایوان میں آکر کورم کی نشاندہی کر دی جس پر گنتی کی گئی اورتعداد پوری نہ تھی پانچ منٹ کے لئے گھنٹیاں بجائی گئیں تعداد پوری ہونے پر کارروائی کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا ۔ حکمران جماعت کے رکن اسمبلی محمد ارشد ملک ایڈووکیٹ نے کہا کہ میڈیکل کالج کے حوالے سے محکمے نے غلط جواب دیا ہے ، وزیر اعلیٰ کی معائنہ ٹیم کہہ چکی ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ میڈیکل کالج پر 9.57کروڑ خرچ ہو چکے ہیں ۔ ڈپٹی سپیکر سردار شیر علی گورچانی نے کہا کہ اگر آپ سوال کے جواب سے مطمئن نہیں ہیں تو تحریک استحقاق لے آئیں ۔ حکومتی رکن اسمبلی محفوظ مشہدی کی تحریک استحقاق کمیٹی کے سپرد کر کے دو ماہ میں رپورت طلب کر لی گئی۔ رانا ثنا اللہ خان نے مسودہ قانون ( ترمیم) ( ترویج و انضباط) نجی تعلیمی ادارہ جات پنجاب 2017ء پیش کیا ۔ اپوزیشن کی طرف سے جمع کرائی گئی دو ترامیم ایوا ن میں عدم موجودگی کے باعث زیر بحث نہ آسکیں جس کے بعد مسودہ قانون کی کثرت رائے سے منظوری دیدی گئی۔ ترمیم مسودہ قانون کے تحت رجسٹریشن اتھارٹیز بنائی جائیں گی جس کے تحت رجسٹریشن کیلئے درخواست موصول ہونے کے 60 یوم کے اندر اندر اس درخواست کا فیصلہ کرے گی ۔ضلعی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ حکومت ہر ضلع میں کم از کم 5اراکین پر مشتمل ایک یا زائد ڈسٹرکٹ کمیٹیاں تشکیل دیگی جو سکول سے متعلقہ ایسے فرائض سرانجام دے گی۔ چار ہزار روپے ماہانہ یا زائد شرح سے سکول چارجنگ فیس عائد کرنے والا کوئی سکول گزشتہ تعلیمی سال کے دوران کسی کلاس پر عائد کی جانے والی فیس کی شرح میں پانچ فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ فیس وصول نہیں کریگا لیکن اس پابندی کااطلاق ایسے سکول پر نہیں ہوگا جس فیس میں اضافہ کرنے کے باوجود طلباء کسی کلاس سے چار ہزارروپے ماہانہ کی شرح سے کم فیس وصول کررہا ہو۔ اتھارٹی انچارج کو شنوائی کا موقع فراہم کرنے اوروجوہات ریکارڈ کرنے کے بعد سکول فیس میں اضافے کی درخواست مسترد کرسکتی ہے یا سکول فیس میں گزشتہ تعلیمی سال کے دوران کلاس کی عائد کردہ فیس سے معقول حد تک زیادہ سے زیادہ 8 فیصد تک اضافے کی اجازت دے سکتی ہے۔ پری بجٹ بحث جاری رہی جس میں نگہت شیخ، نعیم انور، میا ں محمد رفیق، خالد غنی چوہدری، ملک عمر فاروق، سکینہ ذکریا بٹ نے حصہ لیا۔ حکمران جماعت کے میاں محمد رفیق اور خالد غنی چوہدری نے کہا کہ ہم نے گزشتہ مالی سال کے دوران پری بجٹ بحث میں جو تجاویز دی تھیں انہیں بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ قبل ازیں سپیکر نے کہا کہ اپوزیشن کی دل آزاری ہوئی جس پر میں معذرت کرتا ہوں ۔ اس دوران حکومتی بنچوں سے خاتون رکن اسمبلی نے نو نو کے نعرے لگائے ۔ سپیکر نے کہا کہ میں نے 2008ء سے آج تک کورم کی نشاندہی پر کبھی بد دیانتی نہیں کی۔