بلوچستان یونیورسٹی

بلوچستان یونیورسٹی

زمانہ طالبعلمی میں کوئٹہ آنیکا اتفاق ہوا، عرصہ دراز بعد آج ایک بار پھر کوئٹہ آنیکا موقع ملا ہے۔ پہلی بار مقصد سیر و سیاحت تھا اس مرتبہ مقصد بلوچستان کی بیٹیوں کی داد رسی ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی میں آکر صدقہ جاریہ کی حقیقت کا علم ہوتا ہے۔ دیئے سے دیا جلائو، دنیا اور آخرت بچائو۔ تعلیم واحد ایٹم بم ہے جو بلوچستان کو اندھیروں سے نجات دلا سکتا ہے۔ لیکن تعلیم کیلئے صدقہ جاریہ کا شعور بہت کم لوگوں کو نصیب ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر جاوید اقبال کو جب علم ہوا کہ کوئی خاتون امریکہ سے بلوچستان ہماری درسگاہ میں مستحق طالبات کو وظائف دینے کیلئے آئی ہیں تو انہوں نے بے پناہ عزت اور محبت کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمارا بلوچستان آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان کے حالات بہت بہتر ہو چکے ہیں اور اب باہر سے لوگ بلوچستان کی ترقی کا حصہ بننے آرہے ہیں۔ بلوچستان یونیورسٹی 1970ء میں قائم ہوئی۔ 200 ایکڑ رقبہ پر محیط اس یونیورسٹی میں قریبا 16000 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ بلوچستان جیسے پسماندہ اور بنجر خطہ میں طالبات کی بڑی تعداد کو پروفیشنل ڈگریاں لیتے دیکھ کر بدلتا ہوا بلوچستان نظر آیا۔ بلوچستان یونیورسٹی میں یورپی یونین کی جانب سے ہیومن رائٹس پر منعقدہ ایک سیمینار میں شرکت کا موقع بھی ملا۔ ایک طویل فلم دکھائی گئی جس میں ایک افغانی لڑکی کے بارے میں دکھایا گیا کہ کس طرح اس کا طالبان معاشرہ اس لڑکی کی کم عمری میں شادی کرنا چاہتا ہے۔ شادی نہیں بلکہ اسے قیمت کے عوض بیچا جائیگا لیکن اس لڑکی کو امریکہ نے بچا لیا۔ ہال میں موجود بلوچ طلبہ نے چبھتے ہوئے سوالات سے اپنی ذہانت کا بھرپور ثبوت دیا۔ مغربی وفود کا بلوچستان آنے کا سلسلہ اس علاقے کے امن کا ثبوت ہے۔ اسکا کریڈٹ بلوچستان یونیورسٹی کو جاتا ہے۔ بلوچستان کی صورتحال سے متعلق اندرون و بیرون ملک منفی تصویر کشی کی جاتی ہے جبکہ بلوچ قوم انتہائی ملنسار، مخلص اور مہمان نواز لوگ ہیں۔ دشمنوں کی بلوچستان پر گہری نظر ہے لہٰذا سازشوں نے بلوچستان کو ایک متنازعہ خطہ کے طور پر پیش کیا۔ سکندر اعظم نے برصغیر سے ایران واپسی بھی بلوچستان کے راستے اختیار کی یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان کے تمام ہی علاقوں میں کسی نہ کسی بیرونی قوم کی حکمرانی رہی ہے۔ ساتویں صدی سے دسویں صدی تک یہ علاقہ عربوں کے زیر حکومت رہا، سترویں صدی کے اوائل میں یہاں پر مغل حکومت قائم ہوئی، جسکے زوال کے دوران ایران کے نادر شاہ افشار نے بلوچستان کے ان علاقوں پر قبضہ جما لیا نادر شاہ افشار کے قتل کے بعد احمد شاہ ابدالی نے اپنی حکومت قائم کی یہ بات واضح رہے کہ احمد شاہ ابدالی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی پیدائش ملتان شہر کی ہے احمد شاہ ابدالی کی حکومت قائم ہونے کے نتیجے میں بلوچستان کی تمام ہی ریاستِیں قلات خاران، مکران، لسبیلہ اور سبی کے قبائلی علاقہ جات جن میں مری بگٹی اور دیگر قبائل شامل ہیں سب افغانستان کا حصہ بن گئے۔ اگر چہ کہ افغانستان کی مانند بلوچستان مقامی قبائلی سرداروں کے زیر حکومت رہا جن میں خوانین قلات اہم تھے مگر اس کے باوجود یہ سب افغان بادشاہوں کے ماتحت تھے

افغان جنگ کے دوران یہاں انگریزوں کا قبضہ ہو گیا، 1876ئ، 1879ء اور 1891ء کے معاہدوں کیمطابق شمالی علاقہ جن کو بعد میں برٹش کو بلوچستان کہا گیا کو برطانوی کنٹرول میں دے دیا گیا، کوئٹہ میں ملٹری بیس قائم کر دیا گیا 1947ء میں اس علاقہ کو پاکستان میں شامل کر دیا گیا، 1970ء میں بلوچستان کو صوبے کا درجہ ملا۔ 1976ء میں حکومت پاکستان نے سرداری نظام کا خاتمہ کر کے کنٹرول اپنے ہاتھ لیا، جسکے باعث حکومت کیخلاف تحریکوں کا آغاز ہوا اس علاقہ میں چند چھوٹی بڑی قبائلی شورشیں بھی ہوئیں حکومت اور متحارب گروپوں میں۔ 2004ء میں گوریلا جنگ دوبارہ پھوٹ پڑی، جسکی وجہ سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ملٹری کی تنصیبات میںاضافہ اور بڑی تعداد غیر مقامی افراد کی تعداد میں اضافہ، بتایا جاتا ہے۔ جبکہ بہت سے بلوچ دانشوروں کیمطابق ان لڑائیوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ بلوچستان میں سڑکوں کے جال بچھ جانے کے نتیجے میں اور جدید مواصلاتی ذرائع کی موجودگی کے باعث عوام کے اندر شعور پیدا ہو رہا ہے آج سے بیس سال قبل تک مقید اور کمزور بلوچ کسان اور زمیندار کی پیداوار ان جدید سڑکوں کے ذریعے جہاں کراچی لاہور اور اسلام آباد کی منڈیوں تک پہنچ رہی ہے وہیں یہ بے بس اور کمزور کسانوں اور چھوٹے زمینداروں کی رسائی اپنے علاقے سے باہر تک ہونے لگی ہے اب ان علاقوں میں تعلیم رائج ہو رہی ہے جسکے نتیجے میں انکے اندر شعور بھی بیدا ہو رہا ہے بلوچ عوام کی اکثریت جو کل تک ان سرداروں کے آگے مجبور اور بے بس تھی اب ان بے بس اور مجبور عوام کے اندر اپنے حقوق کے حصول کا احساس پیدا ہو رہا ہے یہ بات بہت ہی دلچسپ اور اہم ہے کہ 1973ء سے 1977ء تک بلوچستان میں برپا کی جانیوالی لڑائی جسے بغاوت کا نام دیا گیا تھا اسکے بیشتر قائدین اور وہ افراد جنہیں بلوچ آزادی کا مجاہد کہا جاتا ہے وہ سب کے سب اس وقت اپنے سرداروں کیخلاف جنگ میں مصروف ہیں یا اگر وہ اس دنیا میں نہیں رہے ہیں تو ان کا آخری وقت حکومت پاکستان کے بجائے اپنے سرداروں کے خلاف جنگ اور اپنے قبیلے کے اندر سرداری نظام کی جنگ میں گزرا ہے۔ آج کا بلوچستان بہت بہتر حالت میں ہے اور اس کا کریڈٹ پاک فوج کو جاتا ہے۔ پرامن ماحول کی جدوجہد میں بلوچستان یونیورسٹی کا اہم کردار شامل ہے اور یونیورسٹی کو مضبوط رکھنے میں اسکے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کا اہم ترین کردار ہے۔ انہوں نے اپنے زندگی کے تیس سال اس یونیورسٹی کو دے دیئے۔ ہتھیاروں اور سیفٹی بیلٹ سے لیس سونے جاگنے والے کی زندگی خطرات میں گھری رہتی ہے۔