ہائیکورٹ نے پنجال یونیورسٹی سمیت 4 جا معات کے قائم مقام وائس چانسلرز کی تعیناتی تقرری کا طریقہ کالعدم قراردیدیا

ہائیکورٹ نے پنجال یونیورسٹی سمیت 4 جا معات کے قائم مقام وائس چانسلرز کی تعیناتی تقرری کا طریقہ کالعدم قراردیدیا

لاہور(وقائع نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب یونیورسٹی سمیت چار یونیورسٹیوں کے قائم مقام وائس چانسلر ز کی تعیناتیاں کالعدم قرار دے دیں۔جسٹس شاہد کریم نے دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ پنجاب یونیورسٹی لاہور، لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی، سرگودھا یونیورسٹی اور نوازشریف انجینئرنگ یونیورسٹی ملتان میں جس مروجہ پروسیجرکے تحت قائم مقام وائس چانسلر ز کی تقرریاں کی گئی ہیں اس پروسیجر کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ان یونیورسٹیوں کے سینئر ترین پروفیسرز کو قائم مقام وائس چانسلر تعینات کیا جائے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن ایک ماہ کے اندر چاروں سرکاری جامعات میں مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتیوں کیلئے نیا اشتہار جاری کرے۔ فیصلے میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی طرف سے وائس چانسلرز کی تعیناتیوں کیلئے شروع کردہ طریقہ کار کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے متعلقہ دفعات بھی کالعدم کر دی گئی ہیں۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ وائس چانسلرز کی تعیناتی کا اختیار صوبے کے پاس نہیں بلکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پاس ہے اور قانون میں کسی سرکاری یونیورسٹی میں غیرمعینہ مدت کیلئے قائم مقام وائس چانسلر تعینات کرنے کی گنجائش موجود نہیں ہے۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ صوبائی حکومت کو چاروں یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کا اختیار نہیں ہے۔مروجہ قوانین کے تحت وائس چانسلرز کی تعیناتی سے قبل ہائر ایجوکیشن کمشن سے مشاورت ضروری ہے۔معیار طے کرنا ،یونیورسٹیوں کو گائیڈ لائن دینا اور وائس چانسلرز کی تعیناتیوں کے لئے سرچ کمیٹیاں قائم کرنا ہائر ایجوکیشن کمشن کا اختیار ہے۔مگر حکومت پنجاب نے مروجہ طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے وائس چانسلرز کی میرٹ کے برعکس تعیناتیاں کیں لہذا عدالت ان تعیناتیوں اور وائس چانسلرز کی تعیناتیوں کیلئے شروع کردہ تمام طریقہ کار کالعدم قرار دے۔