تعلیم کو بامقصد بنانے کی ضرورت

تعلیم کو بامقصد بنانے کی ضرورت

ملک عزیز جس تیزی کے ساتھ سماجی و اخلاقی بستی اور تنزلی کی جانب بڑھ رہا ہے یقینا اس سے ہر درد مند پاکستانی فکرمند ہے اور دکھی دل کے ساتھ اپنے معاشرے کی بے راہ روی بے مقصدیت اور زوال کو دیکھ رہا ہے ملک خداداد پاکستان کی جب ہم بات کرتے ہیں تو فوراً ہمارا دھیان اس کی تخلیق وجود اور قیام کی طرف چلا جاتا ہے اور آزادی کے متوالوں کے وہ فلک شگاف نعرے( تخیل میں) ہماری سماعتوں سے ٹکراتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا( لا الہ الااللہ‘ محمد رسول اللہ) جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اس وطن کے ماتھے پر اللہ کے نام کی تختی سجی ہے اور اس ملک کے بنانے والوں نے واضح طور پر بتادیا تھا کہ ہم ایک ایسے خطہ پاک کا حصول چاہتے ہیں جس میں بسنے والے اپنی زندگیوں کو قرآن اور پیغمبر اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق گزار سکیں مولانا حسرت موہانی جو کہ تحریک پاکستان کے سرکردہ لیڈران میں سے ایک تھے اور ایک قادر الکلام شاعر بھی تھے جن کا ایک نہایت خوبصورت شعر ملاحظہ ہو۔

ہے مشق سخن جاری اور چکی کی مشقت بھی

اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

ان سے ایک واقعہ منسوب ہے کہ پاکستان کی تحریک کے ابتدائی ایام تھے ان مشکل حالات میں ہندو تنظیمیں قیام پاکستان کی مخالفت میں پورے زورو شور سے سرگرم عمل تھیں کہ مولانا حسرت موہانی کو ایسی ہی ایک سازش کا پتہ چلا جس سے پاکستان کی تحریک کو کمزور کیا جانا مقصود تھا مولانا فرماتے ہیں کہ میں نے مناسب خیال کیا کہ اس بات سے مسٹر جناح کو آگاہ کیا جائے وہ کہتے ہیں کہ وقت معمول سے زیادہ ہوچکا تھا لیکن بات بہت اہم تھی اس لئے میں مسٹر جناح کے گھر گیا اور ان کے نوکر کو کہا کہ مجھے قائد اعظم سے بہت ضروری ملاقات کرنا ہے لہٰذا ان کو میری آمد کی اطلاع کرو نوکر مجھ کو انتظار گاہ میں بٹھا کر اندر چلا گیا میرے اندر بے کلی تھی کہ میں جلد از جلد قائد اعظم سے ملاقات کرکے ان تک متعلقہ معلومات پہنچاﺅں اسی بے چینی میں میں نے ٹہلنا شروع کردیا کہ اچانک میری نظر ایک کمرے میں مصلے پر کھڑے قائد اعظم پر پڑی۔ میں نے قریب ہوکر جو کچھ سنا اس سے میرا یقین کامل ہوگیا اور میں قائد اعظم سے ملاقات کئے بغیر ہی واپس آگیا قائد اعظم مصلے پر کھڑے اپنے پروردگار سے کہہ رہے تھے کہ اے میرے مولا جو قدم تم نے مجھ سے اٹھوادیا ہے اس پر ثابت قدم رکھنا اور اپنی رحمت سے کامیابی عطا کرنا آج سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہم نے اس ملک کو پانے کے بعد وہ مقاصد جو بانیان پاکستان نے وضع کئے تھے وہ حاصل کرلئے ہیں جس کا سادہ سا جواب ہے.... نہیں۔میرے نزدیک ان مقاصد کے حصول میں رکاوٹ کی سب سے بڑی اور اہم وجہ ہمارا نظام تعلیم ہے جو کہ موجودہ صورت میں اپنے پڑھنے والوں کی کوئی راہنمائی اور تربیت نہیں کرتا بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ یہ ایک چوں چوں کا مربہ ہے تو کچھ بے جا نہ ہوگا۔

افسوس کہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے

جس قوم کا آغاز ہی اقراءسے ہوا تھا

پاکستان میں دی جانے والی تعلیم اپنے پڑھنے والوں کو نہ تو کوئی شعور و آگہی دیتی ہے اور نہ ہی کسی مقصد کا تعین کرتی ہے اور ایسا ہو بھی کیونکرسکتا ہے کہ صاحب اقتدار کی یہ کبھی اولیت ہی نہیں رہا یہی وجہ ہے کہ یہاں مختلف نظام ہائے تعلیم رائج ہیں میرے خیال میں پاکستان میں یہ ایک واحد شعبہ ہے جس کا نہ کوئی پرسان حال ہے اور نہ ہی کوئی والی وارث یہی وجہ ہے کہ یہاں مختلف طبقوں کے لئے تعلیم کا نظام بھی مختلف ہے ملک کی اپر کلاس کیمبرج اور آکسفورڈ کے نصاب تعلیم سے استفادہ کررہی ہے جبکہ مڈل کلاس پرائیویٹ‘ نیم سرکاری اور سرکاری نصاب تعلیم کا مطالعہ کررہی ہے باقی جو نچلے طبقے کے لوگ ہیں وہ وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنے بچوں کو مدرسوں کے سپرد کردیتے ہیں کمال کی بات یہ ہے کہ یہ تمام نظام ایک دوسرے کی قصد ہیں کیمبرج اور آکسفورڈ کا نصاب پڑھنے والے اپنے آپ کو سب سے اعلیٰ سمجھتے ہیں اور حکمرانی اپنا حق جانتے ہیں جبکہ پرائیویٹ‘ نیم سرکاری اور سرکاری اداروں سے پڑھنے والے کچھ تو نوکریوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور باقی اپنی شناخت ڈھونڈھ رہے ہیں باقی رہ جاتے ہیں مدارس سے تعلیم پانے والے جن کو فرقہ واریت کی تعلیم دی جاتی ہے اور شدت پسند ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگا کر فساد فی الارض کا سبب بن رہے ہیں اقبال نے کہا تھا کہ

اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ

املاک بھی‘ اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ

ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

شمشیر ہی کا نعرہ تکبیر بھی فتنہ

ہمارا نظام تعلیم جو نسل تیار کررہا ہے وہ فکرو عمل سے عاری اور ادب و اخلاق سے نابلد ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ان پڑھے لکھوں کو ڈگری یافتہ تو کہہ سکتے ہیں تعلیم و تربیت یافتہ نہیں کیونکہ موجودہ نظام تعلیم سے ایک مخصوص طبقہ تو اقتدار کے زینے طے کرتا ہے اور دوسرا اپنی معاشی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے روزگار کی تلاش میں ہے اور جو اوصاف اور وژن تعلیم ایک انسان میں پیدا کرتی ہے وہ ان میں مقصود ہے علم انسان کو نور بصیرت عطا کرتا ہے جو اس میں کھرا اور کھوٹا پرکھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب خالق ارض وسما نے حضرت انسان کو پیدا کیا تو اس کو علم کی دولت سے مالا مال کرکے فرشتوں سے ممتاز کردیا۔

عروج آدم خاکی متاع علم و عرفان ہے

یہ وہ دولت ہے جس کو آج تک نوری ترستے ہیں

ان تمام معروضات کا ایک ہی خلاصہ ہے کہ جب تک ہمارا نظام تعلیم ہماری ضروریات اور مقصد زندگی کے مطابق نہیں ڈھلتا ہمارا معاشرہ ابتری کا شکار رہے گا نظام تعلیم کی بہتری کی صرف دو ہی صورتیں ہیں ایک تو اس کے لئے قومی بجٹ میں خاطر خواہ فنڈ مختص کئے جائیں اور دوسرا یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے۔