سموگ فضائی آلودگی

ڈاکٹر محمد امین

18ویں اور19ویں صدی میں صنعتی انقلاب نے فضائی آلودگی میں مزید اضافہ کردیا

سرد موسم کی آمد کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں میں اس کے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔ اس وقت لاہور اور گردونواح سمیت وسطی پنجاب میں گزشتہ شام سے دھند کی سی کیفیت ہے جس کی وجہ سے شہریوں کوآنکھوں میں شدید چبھن ہے اور موٹرسائیکل سواروں کیلئے چلنا مشکل ہوگیا ہے۔ بظاہر آسمان نے دھند کی چادر تان رکھی ہے لیکن درحقیقت یہ دھند نہیں بلکہ آلودگی ہے جس کی وجہ سے قریب تر سے لے کرحد نگاہ تک کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا ۔ اس پر تشویشناک بات یہ ہے کہ فضائی آلودگی اگر برقرار رہتی ہے تو اس سے مختلف امراض کے بڑھنے کا حدشہ ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ کرہء ارض پر دنیاکی آبادی کا92فیصد فضا خطرے کی حد تجاویزکر چکی ہے اورہرا سال چھ ملین کے قریب گوگ فضائی الودگی سے ہونے والے اثرات کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اگر فضا میں آلودگی کی یہ شرح برقرار رہی تو اس سے سنگین قسم کی بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ فضا میں موجود سلفیٹ اور کاربن مونو آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار زمین پر بسنے والے انسانوں کے پھیپھڑوں اور دل کے نظام کے علاوہ جلد اور گلے کو متاثر کر سکتی ہے۔جس میں خاص طور پر دل کے امراض‘پھیپھڑوں کے امراض اور سانس کی بیماریاں لا حق ہو سکتی ہیں۔عمر رسیدہ آفراد حاملہ خواتین اور چھوٹے بچے کمزور مدافعتی نظام ہونے کی وجہ سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ آلودگی کی یہ خطرناک قسم کارڈیو ویسکیولر بیماریوں کے اضافہ کی وجہ بن رہی ہے.

حالیہ دنوں میں شام ہوتے ہی لاہور سمیت مختلف علاقوں میںفضا میںخلف معمول گہر محسوس کی گئی ہے۔ آسمان پر تن جانیوالی یہ چادر دراصل دھند (Fog) نہیں بلکہ آلودگی کی ایک قسم (Smog) ہے جو دھویں اور دھند کا مرکب ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے جب ہوانہیں چلتی اور درجہ حرارت میں کمی یا دیگر موسمی تبدیلی واقع ہوتی ہے توآلودگی فضاء میں اوپرنہیں جاتی بلکہ زمین کے قریب ہی ایک تہہ بن جاتی ہے۔ ان وجوہات کے نتیجے میں یہ غیر معمولی آلودگی کئی کئی دن تک شہرمیں برقرار رہ سکتی ہے ۔ جبکہ ٹریفک سے اٹھنے والے دھویں ، گرد اور دیگر ذرائع سے پیدا ہونیوالی آلودگی اس میں مزید اضافہ کردیتی ہے۔ ہمارے ہاں ان دنوں سموگ میں نائیٹروجن ڈی آکسائیڈ‘کاربن مونو اکسائیڈ اور سلفرڈی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار کی بڑی وجہ شہروں میں جگہ جگہ گاڑیوں کا دھواں اور کئی مہینوں سے اری تعمیراتی کام ہے۔

دنیا میں فضائی آلودگی کا آغاز16ویں صدی میں کوئلے کی بطور اندھن استعمال سے شروع ہوا۔ جس کے بعد 18 ویں اور19ویں صدی میں لندن میں آنے والے صنعتی انقلاب نے فضائی آلودگی میں مزید اضافہ کردیا۔آلودہ دھند یا دھویں کے مجموعہ کے لئے سموگ کی اصطلاح پہلی بار1900میں لندن میں استعمال کی گئی۔ 26جولائی 1943کو امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں اپنے وقت کی سب سے بڑی سموگ کا سامنا کرنا پڑا ۔دوسری جنگ عظیم کے دوران شدید دھند کی وجہ سے لاس اینجلس کے شہریوں کو غلط فہمی ہوگئی تھی کہ جاپان نے ان پر کیمیا حملہ کیا ہے دسمبر1952میں لندن میں فضائی آلردگی کی لہر کوگریٹ سموگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے لندن میں آلودہ دھند کی وجہ سے12ہزار سے زائدافراد زندگی کی بازی ہار گئے 1987میں گیارہ سوسے زائد نوجوان زہریلی سموگ سانس نہ لے سکنے کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر گئے ہر سال سموگ کے باعث70لاکھ کے قریب لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوکر ہلاک ہو جاتے ہیں

اس سے بچائو کیلئے ضروری ہے کہ لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے پہلے ماسک کا استعمال کریں اور آنکھوں پر گلاسسز کا استعمال ضرور کریں کیونکہ مختلف گیسسیز کا مجوعہ جو اس سموگ میں موجود ہے لوگوں کو آنکھوں کے مختلف امراض میں مبتلا کر سکتا ہے

تمام سٹرکوں اور گلیوں میں ویکیوم صفائی کا بندوبست کیا جائے جو دھول کے ذرات کو کنٹرول کر سکتے ہیں

مسٹ فین اور مسٹ فواروں کا استعمال شاپنگ سنٹر اور چوراہوں میں کیا جائے

تعمراتی کاموں‘ گھروں کے باہر‘پاروں میں گرد کم سے کم اڑھے کیلئے بندوبست کئے جائیں اور گیس جنریٹرز اور زیادہ کارین خارج کرنے والی گاڑیوں کو سٹرکوں پر آنے سے روکا جائے۔گھروں کے باہر اور سٹرکوں پر پانی کا سپرے کیا جائے

روزانہ زیادہ سے زیادہ پانی پئیں

زیادہ سے زیادہ وقت گھروں میںگزاریں‘ بازاروں‘گلیوں یا سٹرکوں پر زیادہ چلنے سے پرہیز کریں

گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں

گھروں کی صفائی جھاڑوں کے بجائے گیلے کپڑے سے کریں

ناک اور منہ کو ماسک یا رومال سے ڈھانپ کر رکھیں

زیادہ ٹھنڈے مشروبات سے اجتناب کریں

گھروں کے باہر پانی کا چھڑکائو کرتے رہیں

حکومت کو مٹی کی آلودگی کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنا چاہیے اورخلاف ووزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چانی چاہیے۔