سموگ سے نظام زندگی مفلوج

فرزانہ چودھری

ماحولیاتی آلودگی صحت کی دشمن اور مزاج و طبیعت کی بیری ہے۔ گھٹن زردہ ماحول میں زندگی گزارے نہیں گزرتی، یوں تو ہمارے گرد و پیش میں بے شمار قسموں کی آلودگیاں موجود ہیں لیکن گزشتہ دنوں جس آلودگی نے فضا کو اپنے حصار میں لئے رکھا‘ اچانک برپا ہونے والی یہ افتاد کسی آفت سے کم نہیں تھی۔دھواں دار فضا‘ سورج غائب‘ صبح اور دوپہر کے وقت بھی شام سا سماں بنا رہا ہے۔ اس سے گلے اور آنکھوں میں خارش کے ساتھ سر بوجھل اور درد کا شکار ہو گئے، یہ اچانک کیا ہوا، اسے کسی نے ڈینگی جیسا وائرس قرار دیا جو اچانک چھوڑ دیا گیا ہے۔ کسی نے اسے ملکی دارالحکومت میں ہونے والے ہنگاموں میں پھینکی گئی آنسو گیس کی کارفرمائی قرار دیا۔

اخبارات کے دفاتر اور ٹی وی چینلز میں پریشان شہریوں کی فون کالز کی بھرمار ہو گئی۔ اس صورتحال کے باعث یہ ضروری ہو گیا کہ اس قدرتی آفت‘ سماوی مصیبت کے بارے میں ماحولیات‘ محکمہ موسمیات کے ماہرین اور طبی معالجوں سے رجوع کیا جائے تاکہ اس کے تدارک اور سدباب تلاش کرنے میں آسانی ہو۔ مختلف حلقوں کے ارباب حل و عقد سے کی گئی گفتگو نذر قارئین ہے۔

ماہر امراض سینہ اور سابق میڈیکل سپریٹنڈنٹ میو ہسپتال،پروگرام مینجر پنجاب ٹی بی کنٹرول پروگرام اور صوبائی کوارڈینیٹر ٹی بی انڈس ہسپتال ڈاکٹر عبدالمجید اختر نے بتایا ’’لاہور میں پڑنے والی سموگ فضائی آلودگی کی ایک بد ترین شکل ہے۔ سموگ دھواں اور دھند کامرکب ہے۔ سموگ میںسلفر کی آمیزش انسانی صحت کے لئے فضائی آلودگی کی بہت ہی خطرناک قسم ہے۔ فضا میں موجود سلفیٹ اور کاربن مونوآکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار انسانوں کے پھیپھڑوں اور دل کے نظام کے علاوہ جلد اور گلے کو متاثر کر تی ہے۔ فضائی آلودگی کی یہ خطرناک قسم کارڈیو ویسکیولر بیماریوں کے اضافہ کی وجہ بن رہی ہے۔ پچھلے تین دنوں سے سموگ پڑنے والی انسانی سانس کے نظام کے لئے انتہائی خطرناک سائن ہے۔ 1952ء میں لندن میں بہت زیادہ سموگ پڑنے سے چارہزار لوگ مرے اور تقریباً ایک لاکھ سے زائد لوگ پھیپھڑے متاثر ہونے سے بیمار ہوئے۔ لندن کے 1952ء کے دور والی سموگ نے وسطی پنجاب کو لپیٹ میں لیا ہے۔ سموگ سے متاثرہ لوگوں کی آنکھوں سے پانی ، خارش اور چہرے پر جلن شکایت پائی گئی۔ فضائی آلودگی کی وجہ گاڑیوں کا دھواں، بھٹوں کا دھواں، کیمکلز انڈسٹری ، چاول کی فصل کے جلائے بھوسے کا دھواں، زیر تعمیرمنصوبوں کی کھدائی کی دھول، مٹی، درختوں کی کمی کی وجہ سے آلودہ ہوا ہے۔ سموگ میں کاربن سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹرک اوکسائیڈ ، دھول، مٹی اور تمام طرح کے وائرس اور بیکٹیریاز سمیت ٹی بی کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیںجو سانس کی بیماریوں اورچسٹ انفیکشن کی وجہ بنتے ہیں اور سانس کی پرانی بیماریاں جیسے ٹی بی، دمہ اور دائمی کھانسی کے مریضوں کے لئے خطرناک ہوتی ہے۔ اس میں اچانک گھٹن ہونے سے موت ہو سکتی ہے‘‘۔ڈاکٹر عبدالمجید اختر نے سموگ کے اثرات سے بچاؤ کے بارے میںکہا ’’سموگ کے وقت بچوں اور بوڑھوں کو گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہئے۔ جو لوگ گھر سے باہر نکلیں وہ چشمہ لگائیں ، ناک کو ماسک سے کور کریں، آنکھوں کو صاف پانی سے کثرت سے دھوئیں، صبح و شام غسل ضرور کریں۔ اپنے گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں۔ اچھی خوراک کھائیں اور خالی پیٹ نہ رہیں۔ طبعیت خراب ہونے کی صورت میں قریبی ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔ زیر تعمیر منصوبوںکی کھدائی والی جگی خاص کر اورنج ٹرین کے راستہ پر پانی کا چھڑکاؤ باقاعدگی سے ہو نا چاہیے ۔ حکومت کو چاہئے بھٹوں ،کیمیکلز انڈسٹری اور صنعتوں کے دھویں کے ماحولیاتی قانون پر سختی سے عمل کروائے‘‘ ۔

چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض خان نے بتایا’’ جب تک بارش نہیں ہوتی سموگ رہے گی جس کے بڑھنے یا کم ہونے کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا اس کی شدت میں کمی پیشی ہو سکتی ہے۔ جیسے پہلے دن لاہور سمیت اوکاڑہ، ساہیوال، فیصل آباد اور سرگودھا ڈویژن سارا دن سموگ بہت زیادہ تھی جو رات گئے تک رہی مگر اگلے دن سموگ آٹھ بجے تک تو بھر پور تھی اس کے بعدکم ہوگئی ۔ پہلے دن وسطی پنجاب سموگ کی لپیٹ میں رہا۔ لوگوں کو آنکھوں میں شدید چبھن بھی محسوس ہوئی۔ جس کی وجہ سموگ میں کسی زہریلی گیس کی مقدارکا زیادہ ہونا ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہونے سے سموگ ہوتی ہے۔ مگر جیسے جیسے ہوا میں درجہ حرارت بڑھتا ہے سموگ کم ہوتی جاتی ہے۔ لاہورسمیت وسطی پنجاب میں تین چار دن کے بعد بارش ہونے کا امکان ہے۔ اس دوران سموگ بڑھ بھی سکتی ہے اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ سردیوں کی آمد سے ہی سموگ کے اثرات ملک کے مختلف حصوں میں مرتب ہونے لگتے ہیں۔ دھند ،دھول، مٹی اور دھویں کا مرکب سموگ ہے‘‘۔

ماہر امراض ناک کان گلا پروفیسر ڈاکٹر محمدعارف تارڑ نے بتایا ’’سموگ فضا میں دھند اور دھویں کی آمیزش ہے۔ دھند میں فضائی آلودگی کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ جن میں کیمیکلز اور چند ایک زہریلی گیسز ہوتی ہیں۔ جس کی وجہ سے انسان کا سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے۔ اس میں موجود مختلف زہریلی گیسز مثلاً سلفر ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ وغیرہ سانس کی بیماریوں، ناک اور جلد الرجی، آنکھوں کی انفیکشن، دمہ، سائنوسائٹس جیسی امراض کا سبب بنتی ہیں۔ جب ہوا میں موجود کیمیکلز، دھول، مٹی اور زہریلی گیسز ناک کے ذریعے سانس کی نالی اور پھیپھڑوں میں جاتی ہے تو پھیپھڑوںکو متاثر کرتی ہے جس سے بعد میں ٹی بی کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ گلا خراب اور آواز بیٹھ جاتی ہے، مسلسل خشک کھانسی ہوتی ہے ،سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے ، چھینکیں آنی شروع ہو سکتی ہیں، حلق میں ریشہ پیدا ہو سکتا ہے اور دمہ کی شکایت ہو سکتی ہے۔ یہ تمام شکایات ایک عام تندرست آدمی کو سموگ کی وجہ سے پیدا ہو سکتی ہے مگر جو لوگ پہلے سے سانس کی بیماریوں، دمہ، ٹی بی، الرجی کی بیماری میں مبتلا ہیں ان کے لئے تو سموگ زیادہ تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ ان کی بیماری میں شدت آنے سے ان کی صحت بگڑ سکتی ہے۔ سموگ چھوٹے بچوں اور بوڑھوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے۔ گذشتہ دنوں پڑنے والی سموگ نے بہت سے لوگوں کی صحت کو متاثر کیا ہے اور متاثرہ لوگوںکی بڑی تعداد خصوصاًً بچے زیر علاج ہیں۔ سموگ کی بڑی وجہ فضائی آلودگی کی بڑھتی ہوئی شرح ہے جو دن بدن بڑھتی ہی دکھائی دے رہی ہے۔سموگ کے اثرات سے بچنے کے لئے سادے پانی کی بھاپ دن میں دو سے تین مرتبہ باقاعدگی سے لیں اور بھاپ لینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ الیکٹرک چائے کی کیٹل میں پانی ڈال کر پانی کو ابالیں، جب بھاپ کیٹل کی نالی سے باہر نکلنے لگے تو اس کے سامنے ناک سے سانس لیں۔ جن لوگوں کو سانس کی بیماری ہے وہ اپنی دوائی باقاعدگی سے لیں بلکہ سموگ کے دنوں میں اپنے معالج سے ضرور رابطہ کریں اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق دوائی کا استعمال کریں ۔

فضائی آلودگی کی روک تھام کے لئے حکومت کو ایک واضح پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ ماحول کو صاف رکھنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو چاہئے کہ وہ کوڑا کرکٹ مت جلائیں، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے چلانے یر پابندی لگانی چاہئے، فضائی آلودگی خصوصاً دھواں وہ میٹھا زہر ہے جو انسان کی جان بھی لے سکتا ہے۔ یہ میٹھا زہر انسان پر آہستہ آہستہ اثر کرتا ہے۔ بڑے شہروں میں رکشہ اور چھوٹی ٹرانسپورٹ کے چلانے کی اجازت بالکل نہیں ہونی چاہئے۔ ٹرانسپورٹ میں بڑی بسیں اور ٹرین کی سہولت عوام کو میسر ہونی چاہئے۔ فضائی آلودگی میں اضافہ سے سانس کی بیماریوں میں پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ ہمارے ہاں ناک کی الرجی کی شکایت عام ہے۔