پنجاب میں دہشت گرد گروپوں کیخلاف کارروائی نہیں ہورہی: طاہر القادری

لاہور (خصوصی نامہ نگار) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد اور دہشت گردی ختم کرنے کے فرضی اعداد و شمار جاری کرکے حکمران قوم کو گمراہ کررہے ہیں،کرپشن اور دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق سول حکومتوںنے مجرمانہ کردار ترک نہ کیا تو قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔ حیرت ہے 9 کروڑ سمز کو بند اور 11 کروڑ کی تصدیق کرنے کی اہلیت رکھنے والے حکمران مردم شماری، مدارس کی رجسٹریشن اور غیر ملکی فنڈنگ کے خاتمہ میں مکمل طور پر بے بس ہیں۔ 14 لاکھ مشتبہ افراد کو گرفتار کر نے کے دعویدار بتائیں انہیں کن جیلوں، حوالاتوں میں رکھا گیا اور کتنی ٹیمیں تفتیش پر مامور ہیں؟ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گلاسگو سے پاکستان روانگی کے موقع پر عہدیداروں اور اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے 20 نکات میں سے 80 فیصد نکات آج بھی عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ فرضی کارکردگی سے عوام اور ملک کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے۔ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی کی وجہ آپریشن ضرب عضب ہے۔ پنجاب کے حکمران دہشت گردوں کے خاتمے سے زیادہ سیاسی مخالفین اور ڈینگی مچھر کے خاتمے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پنجاب میں دہشت گرد گروپوں کیخلاف کارروائی نہیں ہورہی۔ وزیراعلیٰ ترقی کے جھوٹے افسانے سنانے میں مصروف ہیں۔ پنجاب کے حالات کراچی، پشاور، کوئٹہ سے مختلف نہیں ہیں۔ نیب کو دیگر صوبوں کے وزرا کرپشن میں لت پت نظر آتے ہیں مگر پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزرا کو نوٹس بھیجنے کے بعد خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے یا کلین چٹیں دیدی جاتی ہیں۔ موجودہ نظام اور طرز حکمرانی نے کرپشن، دہشت گردی اور ناانصافی کو پروان چڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ 31 جولائی کو قومی مشاورتی اجلاس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر طاہر القادری برطانیہ کا دورہ کرکے آج گلاسگو سے لاہور پہنچیں گے۔ وہ غیرملکی ائرلائن کے ذریعے آج صبح لاہور ائرپورٹ پہنچیں گے۔