گورنر پنجاب کی مذاکرات کیلئے دعوت پر ہڑتال موخر کر دی، صدر پرائیویٹ سکولز فیڈریشن: ترجمان کی تردید

لاہور (خصوصی رپورٹر + وقائع نگار خصوصی) آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے غیرمعینہ ہڑتال کا فیصلہ ایک ہفتے کیلئے موخر کر دیا ہے اور آج جمعرات سے سکول دوبارہ کھل جائیں گے۔ گزشتہ روز فیڈریشن کے اجلاس کے بعد صدر کاشف مرزا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گورنر پنجاب نے مذاکرات کی دعوت دی ہے جس کا ہم احترام کرتے ہیں تاہم اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورنر پنجاب کی طرف سے مذاکرات کی دعوت کے بعد غیرمعینہ مدت کیلئے ہڑتال کا فیصلہ ایک ہفتے کیلئے موخر کر رہے ہیں تاہم گورنر پنجاب کے ترجمان نے وضاحت کی کہ گورنر نے ایسی کوئی دعوت نہیں دی ہے۔ فیڈریشن کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ امتحانات کو متاثر ہونے سے بچانے کیلئے ہڑتال ایک ہفتے کیلئے موخر کی جا رہی ہے۔ فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے کہا ہے کہ اب گیند حکومت کی کورٹ میں ہے۔ علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت، پرائیویٹ سکولز مالکان اور طلباء کے والدین کے وکلاء سے اس نقطے پر رائے طلب کی ہے کہ کیا تعلیم کو بطور کاروبار چلایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس علی اکبر قریشی اور جسٹس شمس محمود مرزا پر مشتمل فل بنچ نے پرائیویٹ سکولوں میں فیسوں میں اضافے کی حمایت اور مخالفت میں دائر مختلف درخواستوں پر سماعت کی اور مزید سماعت 14 مارچ تک ملتوی کر دی۔ پرائیویٹ سکولوں کے وکیل خواجہ حارث نے پنجاب حکومت کیخلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے پرائیویٹ سکولوں کی فیسیں کنٹرول کرنا قانون آئین کی خلاف ورزی ہے، معیاری تعلیم اور سہولتوں کے عوض فیسیں وصول کرنا پرائیویٹ سکول مالکان کا حق ہے، طلباء کے والدین کی طرف سے اے کے ڈوگر سمیت دیگر وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ تعلیم کو بطور کاروبار نہیں چلایا جا سکتا، پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ فیسیں ریگولیٹ کرنے کیلئے جاری قانون آئین کے مطابق ہے، پرائیویٹ سکولوں کو بے لگام فیسیں بڑھانے کا اختیار نہیں ہے، عدالت نے مزید سماعت 14 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے وکلاء کو ہدایت کی کہ اس نقطے پر عدالت کی معاونت کی جائے کہ کیا تعلیم کو بطور کاروبار چلایا جا سکتا ہے یا نہیں۔