• news

5 سال میں 10 کروڑ پودے لگائے جائینگے: وزیراعظم نے گرین پاکستان پروگرام کی منظوری دیے دی

اسلام آباد (آئی این پی+ این این آئی) وزیراعظم نوازشریف نے ملک میں جنگلی حیات اور جنگلات کی بہتری کیلئے گرین پاکستان پروگرام شروع کرنے کی منظوری دیتے ہوئے وزارت موسمی تغیرات کو ہدایت کی ہے کہ وہ معدوم ہوتی جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے سروے شروع کرے۔ پروگرام کے تحت آ ئندہ 5سال میں 10کروڑ (100ملین) نئے پودے لگائے جائیں گے۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہاکہ جنگلی حیات کا تحفظ ملک کے ترقی پذیر علاقوں میں جنگلات پر مشتمل علاقوں کی بہتری پروگرام کے اہم پہلو ہیں۔ جنگلات اور جنگلی حیات کوبین الاقوامی طریقوں سے بہتر کیا جائے گا۔ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی وزارتوں اور ایجنسیوں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ وزارت موسمی تغیرات و تبدیلی نے پروگرام کی تشکیل سے قبل وفاقی اکائیوں گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور فاٹا سے مشاورت کی تا کہ جنگلات کے تحفظ کیلئے روڈ میپ تیار کیا جا سکے۔ جنگلات اورجنگلی حیات کے تحفظ کے شعبوں میں ابتدائی اصلاحات کو یقینی بنایا جائے گا۔ جنگلات کی کمی دور کرنے، جدید ٹیکنالوجی سے مزید ترقی اور جنگلات کی بہتری کیلئے نئے منصوبے گرین پاکستان پروگرام کے اہم پہلو ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے ہدایت کی کہ ملک میں عالمی سطح کی جنگلی حیات کے پارکس جن میں خنجراب نیشنل پارک گلگت بلتستان، خیرتھر نیشنل پارک سندھ، ہنگول نیشنل پارک بلوچستان، چترال گول نیشنل پارک خیبرپی کے، لال سوہانرا نیشنل پارک‘ سالٹ رینج پنجاب، مچھیرا نیشنل پارک آزاد جموں و کشمیر اور مارگلہ ہلز نیشنل پارک اسلام آباد شامل ہیں کو عالمی سطح کے مطابق بحال کیا جائے، پارکس کو بحال کر کے انتظامی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جائے۔ پنجاب، خیبرپی کے اور سندھ میں نہروں کے کنارے شاہراہوں کے اردگرد پاکستان کو سرسبز و شاداب بنانے کیلئے پودے لگائے جائیں گے۔ چھانگا مانگا، دھرپر، بہاولپور اور چیچہ وطنی میں بھی شجرکاری کی جائے گی۔ صوبہ سندھ میں کراچی اور بدین میں خیرتھر رینج میں شجرکاری کی جائے گی، زیارت کے جنگلات بلوچستان میں چلغوزہ کے جنگلات کو بحال کیا جائے گا۔ گلگت بلتستان کے علاقوں سمیت مری، ہزارہ، کوٹلی ستیاں، مالاکنڈ، فاٹا سمیت دیگر علاقوں میں شجرکاری کی جائے گی۔ گرین پروگرام کے تحت کراچی اور بدین کے مینگرو جنگلات میں بھی درخت لگائے جائیں گے، پروگرامز کیلئے پچاس فیصد فنڈز وفاقی حکومت جبکہ بقیہ پچاس فیصد صوبائی حکومتیں ادا کریں گی۔