تعلیمی ادارے اور انکی سکیورٹی

تعلیمی ادارے اور انکی سکیورٹی

آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے بعد حکومت نے تعلیمی اداروں کی حفاظت کیلئے کچھ مناسب اقدامات کئے تھے۔کچھ عرصہ کافی سختی رہی۔ جگہ جگہ ادارے چیک بھی ہوئے لیکن حسب روایت کچھ عرصے بعد چیکنگ میں کمی آگئی۔ اب باچا خان یو نیورسٹی پر حملے کے بعد حکومت ایک دفعہ پھر بہت زیادہ ایکٹو ہو گئی ہے۔ مختلف اداروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ کچھ اداروں کو ناکافی سیکورٹی کے بہانے سیل کر دیا گیا ہے اور بہت سے اداروں کو وارننگ دے کر سیکورٹی بہتر کرنے کا موقع دیا گیا ہے ۔پھر نجانے کیا ہوا کہ26جنوری کی رات کو 10بجے کے بعد اچانک تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے جس سے تمام تعلیمی اداروں میں عجیب قسم کی بو کھلاہٹ اور پر یشانی پھیل گئی۔ایک مضبوط قوم کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے یا جلد بازی میں ایسے فیصلے نہ کرے جس سے قومی تشخص پر منفی اثر ات پڑیں یا قوم نفسیاتی طور پر خوف و ہراس کا شکار ہو۔ تعلیمی ادارے ہمارا قومی ستون ہیں۔ یہاں ہماری نئی نسل اور مستقبل کی تعمیر ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ہمارا واسطہ ایک بہت ہی سفاک اور بے رحم دشمن سے ہے۔آرمی پبلک سکول پشاور اور باچا خان یونیورسٹی کے سانحات ہماری تاریخ کے بہت ہی بھیانک اور تاریک واقعات ہیں۔ ایسے واقعات روکنے کیلئے بہر حال ہمیں مقابلہ کرنا ہے اور اپنے ظالم دشمن کو ہر صورت شکست دینی ہے لیکن اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ان واقعات کے بعد ہمارے ہاتھ پاﺅں ہی پھول جائیں یا اعصاب مفلوج ہو جائیں۔یہ بزدل قوم کی نشانیاں ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ہم دہشتگردی کے تمام واقعات کا ٹھنڈے دل و دماغ سے تجزیہ کرتے اور پھر تعلیمی اداروں کی سیکورٹی تشکیل دیتے۔ ایک اچھی پالیسی کی خاصیت ہوتی ہے کہ وہ سادہ ہو۔ قابلِ عمل ہو اور مو¿ثر ہو۔بد قسمتی سے ہماری موجودہ پالیسی اس اصول پر پوری نہیں اترتی۔ خاطر خواہ نتیجہ حاصل کرنے کیلئے دو باتوں کا تجزیہ ضروری ہے۔ اول اب تک ہونیوالے دہشتگردی کے واقعات خصوصاً ان کا پیٹرن اور دوسرا ہمارے تعلیمی اداروں کی سیکورٹی پالیسی کے ممکنہ نتائج۔

جہاں تک دہشتگردی کے پیٹرن کا تعلق ہے اب تک تقریباً ہارڈ اور سافٹ تمام قسم کے ٹارگٹس پر حملے ہوئے ہیں۔ دہشتگردوں نے ہر جگہ اپنے ممکنہ اہداف حاصل کئے۔ یہ امر واضح ہے کہ دہشتگرد جب کسی ادارے کے اندر داخل ہو جائیں تو دہشتگردی نہیں روکی جاسکتی البتہ مﺅثر جوابی کاروائی سے اس تباہی کے اثرات کم کئے جاسکتے ہیں۔ دوم دہشتگرد مکمل طور پر تربیت یافتہ ہیں۔ جدید ہتھیاروں سے مسلح ہیں اور آج تک انہیں نہ مضبوط گیٹ روک سکے ہیں نہ بلند دیواریں اور نہ کانٹے دار تاریں۔ سوم دہشتگرد حملے سے پہلے مکمل طور پر اپنے ہدف کا معائنہ و مشاہدہ کرتے ہیں۔ زمینی حقائق کے مطابق منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور پھر پوری تیاری سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ داخلی و خارجی راستوں اور اہم پوائنٹس کی مکمل ناکہ بندی کی جاتی ہے اور سب سے اہم یہ کہ دہشتگرد مرنے اور مارنے کے جذبے سے بھرپور ہوتے ہیں اور جو شخص خود مرنے کیلئے تیار ہو اسے حملے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیںروک سکتی۔وہ اپنی مرضی سے وقت اور جگہ کا تعین کرتے ہیں اور یوں انہیں تمام تر فوائد حاصل ہوتے ہیں جبکہ دفاع کرنے والوں کو ایسی کوئی سہولت حاصل نہیں ہوتی۔ وہ حالات کیمطابق مقابلہ کرنے کیلئے مجبور ہوتے ہیں۔ ان حالات میں گارڈز اور اساتذہ کو تو چھوڑیں فوج بھی مو¿ثر طور پر مقابلہ نہیں کرسکتی۔صرف تباہی کے اثرات کم کر سکتی ہے۔ جی ایچ کیو، پولیس ٹریننگ سنٹر مناواں،کراچی ائیر پورٹ،مہران اور کامرہ ائیر بیسز کے حملے ہمارے سامنے ہیں۔ تباہی یا نقصان کو مکمل طور پر کہیں بھی نہیں روکا جا سکاحالانکہ وہاں مکمل طور پر فوجی گارڈز تھے۔

اب آئیں دہشتگردی کے ان واقعات کے مناظر میں تعلیمی اداروں کی سیکورٹی پالیسی کا جائزہ لیں۔ سب سے اہم بات جو حکومت نے کی ہے وہ سیکورٹی کے نام پر تمام ذمہ داری تعلیمی اداروں کو سونپ کر خود بری الذمہ ہو گئی ہے اور یہ سب سے بڑی حکومتی نا اہلی اور ناکامی ہے۔ اور تو اور پرائیویٹ تعلیمی ادارے جو لاکھوں کے حساب سے حکومت کو ٹیکسز اور فنڈ ادا کرتے ہیں انکی حفاظتی ذمہ داری بھی حکو مت نے قبول نہیں کی۔ سیکورٹی کے نام پر اب تک حکومت نے چار اہم اقدامات اٹھائے ہیں ۔تعلیمی اداروں کی چاردیواری 8فٹ تک بلند ہو۔ اوپر کانٹے دار تار ہو۔سیکورٹی گارڈ زبمعہ ہتھیار اور میٹل ڈیٹکٹر موجود ہوں اور سب سے اہم یہ کہ گارڈز ٹرینڈ ہوں (لیکن اتنے ٹرینڈ گارڈز لائیں گے کہاں سے) اگر اس پالیسی کا تجزیہ کیا جائے تو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس تمام ارینجمنٹ میں کوئی ایسی بات نہیں جو دہشتگردی کو مکمل طور پر روک سکے۔سب سے پہلی بات تو حکومتی دستبرداری ہے۔تعلیمی اداروں کی سیکورٹی پوری دنیا میں حکومتی ذمہ داری ہے نہ کہ اداروں کی اپنی۔ اگر دہشتگردوں کو گیٹ کے باہر روکا جا سکے تو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے ورنہ نہیں اور موجودہ پالیسی کے لحاظ سے دہشتگردوں کو گیٹ کے باہر روکنے کی کوئی پالیسی ہی نہیں۔ رہا سوال ٹرینڈ گارڈز کا وہ بیچا رے تو بینک ڈکیتیاں بھی نہیں روک سکتے۔دہشتگردی کیسے روکیں؟ باچاخان یونیورسٹی میں54گارڈز تھے اور چار دہشتگرد۔ گارڈز پھر بھی نقصان نہیں روک سکے۔بہر حال اچھے گارڈز کسی حد تک مو¿ثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔بقول نوائے وقت: ” جس انداز میں موجودہ انتظامات کئے جا رہے ہیں ان سے تعلیمی ادارے درسگاہیں کم اور عقویت خانے زیادہ لگتے ہیں“۔مندرجہ ذیل تجاویز کسی حد تک کامیاب ہوسکتی ہیں۔

اول: ہماری انٹیلی جنس کو بہت ایکٹو ہونا چاہیے۔ہر واقعہ کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اسکی وارننگ تو پہلے ہی تھی۔ سہولت کاروں اور مددگاروں کا پتہ بھی چل جاتا ہے۔ ماسٹر مائنڈ اور موبائلز پر کی گئی کالز بھی پکڑی جاتی ہیں تو ایساپہلے کیوں نہیں ہوسکتا؟دوم ہر محلے کی یونین کونسلز میں کمیٹیاں بنا دی جائیںجو اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں۔ وہ چوکیدارہ نظام کے تحت ہر سڑک اور ہر گلی کی مﺅثر انداز میں حفاظت کر سکتے ہیں۔ سوم تعلیمی اداروں کی چار دیواری اگر چھوٹی ہو تو کسی اچانک حملے کی صورت میں طلباءہر طرف بھاگ کر چار دیواری پھلانگ سکتے ہیں ۔ پھیلے ہوئے طلباءکو نشانہ کم بنایا جا سکتا۔چھو ٹی چار دیواری کی وجہ سے دیوار کے باہر چلتے ہوئے لوگوں پر بھی نظر رکھی جا سکتی ہے جو بہت ضروری ہے ۔چہارم چھاﺅ نی کے اندر حملے کی صورت میں فوج کی Quick Response Force فوری پہنچ سکتی ہے لیکن چھاﺅنیوں سے دوریا ان شہروں میں جہاں چھاﺅنیاں ہی نہیں فوج فوری طور پر نہیں پہنچ سکتی حالانکہ حملے کے وقت ہر لمحہ بہت اہم ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر شہر میں ایلیٹ پولیس کی انٹی ٹیرورسٹ فورس ہونی چاہیے جو فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ کر حالات پر قابو پائے ۔پنجم: سب سے اہم حفاظت ہے کہ معاشرہ اپنا کردار ادا کرے۔ عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کی جائے کہ وہ ہر شخص اور اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں۔ آئمہ کرام اس سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔