اس ناخوشگوار واقعہ کی مکمل تحقیقات کریں تاہم اب پی آئی اے میں اصلاحات کا عمل رکنا نہیں چاہیے

اس ناخوشگوار واقعہ کی مکمل تحقیقات کریں تاہم اب پی آئی اے میں اصلاحات کا عمل رکنا نہیں چاہیے

پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جناح ٹرمینل پر فلائٹ اپریشن روکنے کی کوشش اور فائرنگ سے دو ملازمین کی ہلاکت

پی آئی اے کے مجوزہ نجکاری کیخلاف پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاجی مظاہرے اور فلائٹ اپریشن بند کرنے کی کوشش کے دوران جناح ٹرمینل کراچی ایئرپورٹ پر سکیورٹی اداروں اور مظاہرین کی مڈبھیڑ سے منگل کے روز انتہائی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہو گئی اور مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجہ میں پی آئی اے کے دو ملازمین جاں بحق اور دس زخمی ہو گئے۔ اس موقع پر متعدد مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔ اس ناخوشگوار صورتحال کا آغاز مظاہرین کو جناح ٹرمینل کی جانب بڑھنے سے روکنے کیلئے ان پر واٹر کینن سے پانی پھینکنے اور آنسو گیس کے شیل برسانے سے ہوا تاہم مظاہرین نے پیش قدمی جاری رکھی تو رینجرز اور پولیس اہلکاروں نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور اسی دوران مظاہرین پر فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے نتیجہ میں ایک خاتون سمیت پی آئی اے کے ایک درجن کے قریب ملازمین زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر کراچی کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تاہم ان میں سے دو اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔ پی آئی اے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین سہیل بلوچ نے الزام عائد کیا ہے کہ رینجرز نے پرامن مظاہرین پر سیدھے فائر کئے جس کے باعث ہمارے دو کارکن شہید اور 18 زخمی ہوئے ہیں جبکہ ہمارے تین ساتھی گرفتار کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انکے گرفتار ساتھیوں کو رہا کر دیا جائے تو وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے بیٹھنے کو تیار ہیں۔

دوسری جانب رینجرز اور کراچی پولیس دونوں کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ سے لاتعلقی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میںڈی آئی جی پولیس ایسٹ کامران فضل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ احتجاجی مظاہرین پر گولیاں کس نے چلائیں‘ ہم اس معاملہ کی تحقیقات کررہے ہیں۔ اسی طرح ترجمان رینجرز نے بھی جناح ٹرمینل پر مظاہرین پر فائرنگ کی تردید کی اور کہا کہ رینجرز نے مظاہرین پر فائرنگ نہیں کی۔ سندھ کے سینئر وزیر نثارکھوڑو نے فائرنگ کے واقعہ کو معاملہ خراب کرنے کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر فائرنگ میں پولیس ملوث پائی گئی تو حکومت سخت کارروائی عمل میں لائے گی۔ اس افسوسناک واقعہ کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے عہدیداروں کی جانب سے پی آئی اے ملازمین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں مظاہرین پر فائرنگ کو آمرانہ طرز حکمرانی سے تعبیر کیا جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم قومی اداروں کی کوڑیوں کے دام نجکاری نہیں ہونے دینگے۔

حکومت کی جانب سے دو روز قبل پی آئی اے کی نجکاری کے معاملہ کو پانچ ماہ کیلئے مؤخر کرکے پی آئی اے ملازمین کے نمائندگان کو مذاکرات کی دعوت دی گئی تھی مگر پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت کا یہ اقدام قبول کرنے کے بجائے تحریک جاری رکھنے اور فلائٹس اپریشن بند کرنے کی بھی دھمکی دے دی۔ اس پر وفاقی حکومت نے بھی سخت اقدامات کا فیصلہ کیا اور لازمی سروسز ایکٹ کا چھ ماہ کیلئے نفاذ کرکے پی آئی اے میں ٹریڈ یونین سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی۔ اس سلسلہ میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے سخت لب و لہجہ میں باور کرایا کہ پی آئی اے کی پروازیں بند کرنے کی کوشش کرنیوالوں کے اپنے پَر کٹیں اور جو ملازم مظاہروں اور تالہ بندی کے جرم میں ملازمت سے فارغ ہوگا وہ کبھی ملازمت پر واپس نہیں آسکے گا۔ انکے اس اعلان سے یہی عندیہ مل رہا تھا کہ حکومت نے پی آئی اے ملازمین کے احتجاج‘ ہڑتال اور تالہ بندی کے اقدامات کو روکنے کا معقول بندوبست کرلیا ہے تاہم گزشتہ روز کے ناخوشگوار واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی انتظامی مشینری اور سکیورٹی اداروں نے مظاہرین کو مناسب طریقے سے ہینڈل نہیں کیا چنانچہ بدنظمی میں ان عناصر کو حالات مزید خراب کرنے کا موقع ملا جو ملک میں بدامنی اور انتشار پیدا کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ ممکن ہے پی آئی اے ملازمین کی صفوں میں بھی ایسے عناصر موجود ہوں جنہیں مظاہرین پر قابو پانے کی سکیورٹی اداروں کی کوششوں کے دوران ہجوم پر فائرنگ کھولنے کا موقع ملا ہو۔ اگر پولیس اور رینجرز دونوں کی جانب سے فائرنگ سے لاتعلقی کا اظہار کیا جارہا ہے تو اس معاملہ کی جامع تحقیقات کی ضرورت ہے کہ جناح ٹرمینل پر مظاہرین کی پیش قدمی روکنے کی کوشش میں پیدا ہونیوالی بدنظمی سے کس نے فائدہ اٹھایا۔ گزشتہ روز ملک بھر کے ایئرپورٹس پر پی آئی اے ملازمین نے احتجاجی مظاہرے کئے اور فلائٹ اپریشن بند کرنے کی کوشش بھی کی تاہم جناح ٹرمینل کراچی کے سوا کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا اور نہ ہی مظاہرین فلائٹ اپریشن بند کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ ان مظاہروں سے فلائٹ اپریشن میں خلل ضرور پڑا تاہم پی آئی اے کے علاوہ نجی ایئرلائن کی پروازیں بھی شیڈول کے مطابق ٹیک آف اور لینڈنگ کرتی رہیں۔ اس طرح حکومت نے پی آئی اے ملازمین کی تالہ بندی اور پروازیں روکنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دیں۔

جہاں تک پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کیخلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی احتجاجی تحریک کا معاملہ ہے تو اس کا کوئی جواز ہے نہ اس تحریک کی بنیاد پر پی آئی اے کی بحالی کا عمل رکنا چاہیے۔ بدقسمتی سے پی آئی اے کی تباہی کی اس ادارے میں میرٹ سے ہٹ کر اور بھاری مشاہروں پر سیاسی بنیادوں پر ملازمین کے ہجوم بھرتی کرکے سول حکمرانوں نے خود بنیاد رکھی ہے۔ چنانچہ دنیا کی یہ بہترین فضائی سروس جو ’’باکمال لو گ لاجواب سروس‘‘ کے ماٹو سے پہچانی جاتی تھی آہستہ آہستہ تنزلی کا شکار ہونا شروع ہوئی اور آج اس ادارے کی یہ حالت ہے کہ اس کا مجموعی خسارہ 320 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ خسارے میں سالانہ 21 سے 30 ارب روپے کا اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ اسی طرح مسافروں کیلئے پی آئی اے کی سروس اتنی خراب ہوچکی ہے کہ ملکی و بین الاقوامی سفر کیلئے لوگ نجی ایئرلائنز کو پی آئی اے پر ترجیح دیتے ہیں۔ مسافروں کو پی آئی اے کی خراب سروس کی ہی شکایات نہیں بلکہ پی آئی اے کے کرائے بھی ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکے ہیں۔ اسکے برعکس نجی ائرلائنز ایئربلیو اور شاہین نسبتاً کم کرایوں کے ساتھ مسافروں کو سفر کی بہترین سہولتیں مہیا کرتی ہیں۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق اس وقت پی آئی اے کے فلیٹ میں ملکی اور غیرملکی پروازوں کیلئے صرف 42 جہاز موجود ہیں جنہیں چلانے کیلئے 25ہزار ملازمین کے جم غفیر کا بوجھ اس ادارے کو اٹھانا پڑ رہا ہے جبکہ کئی غیراہم پوسٹوں پر بھی ملازمین لاکھوں کے پیکیج اور دوسری مراعات لے رہے ہیں۔ اس طرح ملازمین کے اللے تللوں اور ٹریڈ یونین سرگرمیوں کے باعث انکی بڑھتی بلیک میلنگ کے نتیجہ میں پی آئی اے عملاً ’’ٹائی ٹینک‘‘ بن گیا ہے جو اب ڈوبنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اس صورتحال میں اس قومی ادارے کو تباہی سے بچانے کیلئے حکومت کے پاس اصلاحاتی اقدامات اٹھانے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا چنانچہ پی آئی اے کا نجی ایئرلائنز کے ساتھ تقابلی جائزہ لینے کے بعد حکومت نے پی آئی اے کو مالی خسارے سے نکالنے اور منافع بخش ادارہ بنانے کی خاطر اس کیلئے بہترین مینجمنٹ پارٹنرشپ قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ پر عملدرآمد سے ملازمین میں تطہیر کا عمل تو یقیناً شروع ہوگا اور مفت کی مراعات اور بھاری بھاری پیکیج لینے والے ملازمین سے اس ادارے کو خلاصی مل جائیگی جس کے بعد اسکی ترقی کا سفر شروع ہوگا اور یہ ملکی اور بین الاقوامی پروازوں پر مسافروں کو بہترین سہولتیں فراہم کرکے دوبارہ ’’باکمال لوگ‘ لاجواب سروس‘‘ کی علامت بن جائیگا۔ اس تناظر میں موجودہ حکومت نے پی آئی اے کے تشخص کی بحالی اور اسے مالی خسارے سے نکالنے کیلئے بہترین مینجمنٹ پارٹنرشپ کا درست فیصلہ کیا ہے جس پر اب کسی بلیک میلنگ میں آئے بغیر مقررہ مدت کے اندر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ آج پی آئی اے کے جن ملازمین نے اس فیصلے کی مزاحمت کا متشدد اور غیرقانونی راستہ اختیار کیا‘ درحقیقت اس قومی ادارے کی تباہی کے وہی ذمہ دار ہیں اس لئے گزشتہ روز کے ناخوشگوار واقعہ کے باوصف اب پی آئی اے میں اصلاحات کے متعینہ منصوبے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دینی چاہیے۔ اب جبکہ پی آئی اے ملازمین نے مزاحمت کے انتہائی اقدامات اٹھا کر بھی دیکھ لئے ہیں اور اس مزاحمت کو روکنے کی بہتر حکومتی پالیسی کے باعث وہ پروازیں روکنے اور تالہ بندی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تو حکومت کو اب اس پالیسی پر سختی سے کاربند رہنا چاہیے بصورت دیگر حکومت مظاہرین کے دبائو پر پی آئی اے کو آئے روز بیل آئوٹ پیکیج دینے اور اس کا خسارے کا بوجھ اٹھائے رکھنے پر مجبور ہوتی رہے گی۔ نتیجتاً یہ قومی ادارہ مکمل تباہی سے دوچار ہوجائیگا۔ اس تناظر میں یہی بہترین حکمت عملی ہے کہ پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کسی بھی دبائو میں آئے بغیر پی آئی اے میں بہترین مینجمنٹ پارٹنر شپ کے منصوبے میں پیش رفت کا آغاز کر دیا جائے۔ بلاشبہ حکومت کیلئے یہ مشکل مرحلہ ہے تاہم پی آئی اے کے وظیفہ خوار ملازمین کا کوئی بھی دبائو قبول نہ کرنے کی پالیسی برقرار رکھی گئی تو اس ادارے میں انکی بلیک میلنگ بھی مستقل طور پر ختم ہو جائیگی اور پی آئی اے کا منفعت بخش قومی پرواز والا تشخص بھی بحال ہو جائیگا۔ گزشتہ روز کے افسوسناک واقعہ کی ضرور تحقیقات ہونی چاہئیں اور خلفشار پیدا کرنیوالے عناصر کی بھی ضرور سرکوبی کی جائے تاہم پی آئی اے کی بحالی کا جو قدم اٹھایا گیا ہے‘ وہ اب رکنا نہیں چاہیے۔