صحافیوں کی ہڈیاں اور کیمرے توڑنے سے حقیقت نہیں چھپ سکتی

صحافیوں کی ہڈیاں اور کیمرے توڑنے سے حقیقت نہیں چھپ سکتی

پی آئی اے کی نجکاری کے کیخلاف ملازمین کے احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جس سے کئی صحافی زخمی ہوگئے۔ اس دوران کئی کیمرے بھی توڑ دیئے گئے۔ صحافیوں پر ظالمانہ تشدد کی تمام صحافتی تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے اور بدھ کے روز ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

جمہوری دور میں صحافیوں پر تشدد جمہوریت میں آمریت کی آمیزش کو ظاہر کرتا ہے۔ صحافیوں کے پاس کوریج کیلئے قلم اور کیمرہ ہوتا ہے۔ اس پر حکمرانوں کو شاید خنجر اور بندوق کا گمان ہوتا ہے تبھی قانون نافذ کرنیوالوں کو صحافیوں پر تشدد کی ہدایت کی جاتی ہے۔ اب حکمران مگر مچھ کے آنسو بہاتے نظر آئینگے۔ انکوائری کا اعلان کیا اور تشدد کی مذمت کی ہے۔ یہ منافقت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ صحافیوں پر مظاہروں کے دوران پہلی بار تشدد نہیں ہوا۔ کیا قانون نافذ کرنیوالوںکو حکومت نے صحافیوں کیخلاف کارروائی نہ کرنے کی ہدایت کی ہے؟ صحافی وہاں کوریج کیلئے جاتے ہیں کیا صحافیوں کی ہڈیاں اور کیمرے توڑ کر احتجاج، مظاہرے اور حقیقت کو چھپایا جا سکتا ہے۔؟ میڈیا میں اس قدر جدید ٹیکنالوجی آ چکی ہے کہ کسی مظاہرے اور احتجاج کو چھپانا ممکن نہیں پھر قانون نافذ کرنیوالے ادارے ایسے گھنائونے جرم کا ارتکاب کیوں کرتے ہیں۔ حکومت اگر اس معاملے میں ملوث نہیں تو غیرجانبدارانہ انکوائری کراکے تشدد کے ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کرے۔