پرائیوٹ سکولز فیڈریشن نے آج سے سکول کھولنے کا اعلان کر دیا‘ بعض بڑے اداروں کا انکار

پرائیوٹ سکولز فیڈریشن نے آج سے سکول کھولنے کا اعلان کر دیا‘ بعض بڑے اداروں کا انکار

لاہور (سٹاف رپورٹر+ نامہ نگار+ نوائے وقت رپورٹ) آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خاں سے کامیاب مذاکرات کے بعد آج صوبہ بھر میں نجی سکول کھولنے کا اعلان کیا ہے جبکہ بعض بڑے تعلیمی اداروں نے فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پرائیویٹ سکولز کے نمائندوں نے گذشتہ روز کاشف مرزا کی قیادت میں صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خاں، ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر) عثمان یونس، سی سی پی او لاہور کیپٹن(ر) امین وینس اور محکمہ تعلیم کے افسران سے سکولوں کی سکیورٹی کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر اپنے تحفظات کے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر رانا مشہود احمد خاں نے یقین دلایا کہ سکیورٹی کے غیرتسلی بخش انتظامات پر سیل کئے گئے سکول فوری طور پر کھولے جا رہے ہیں۔ بعض سکولوں کے خلاف درج مقدمات بھی سیل کر دیئے گئے ہیں۔ سکیورٹی انتظامات مکمل ہونے پر یہ مقدمات ختم کر دیئے جائیں گے۔ کسی سکول کے خلاف کسی اہلکار کی انفرادی رپورٹ پر کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ کسی سکول کے خلاف متعلقہ ڈسٹرکٹ سکیورٹی کمیٹی کی سفارش کے بغیر کوئی کارروائی نہیں ہوسکے گی۔ سکیورٹی ایس او پیز پر کسی صورت کمپرومائیز نہیں کیاجاسکتا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا مشہود نے مزیدکہاکہ آئندہ کسی سکول کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوگا، تاہم نجی سکولز کے مالکان کو بچوں کی سکیورٹی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہے لیکن سکول بند کرنے سے دہشت گردوں کا ایجنڈا پورا ہوگا۔ سکیورٹی انتظامات مکمل ہونے پر یہ مقدمات ختم کر دیئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں صدر پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ہم حکومت کے وضع کردہ طریقہ کار پر عملدرآمد ممکن بنائینگے۔ پرائیویٹ سکیورٹی پر یقین نہیں رکھتے ہم نے سکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جو حکومت نے تسلیم کر لیا۔ قبل ازیں مذاکرات کے دوران فیسوں کا معاملہ اٹھانے پر پرائیویٹ سکولوں کے مالکان دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئے اور ایک دھڑے کی ڈی سی او سے تلخ کلامی بھی ہوئی جس کے بعد ناراض دھڑا مذاکرات سے اٹھ کر چلا گیا تاہم ڈی سی او لاہور انہیں منا کر واپس مذاکرات کی میز پر لائے۔ اس موقع پر سکولز ایسوسی ایشن کے رہنما کاشف مرزا نے (آج) سے سکول کھولنے کا اعلان کیا مگر اس شرط کے ساتھ کہ سکول مالکان کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں گے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق لاہور سمیت پنجاب کے نجی سکول کھلیں گے یا نہیں؟ غیریقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جبکہ بعض بڑے تعلیمی گروپوں نے آج سکول کھولنے سے انکار کر دیا۔ سکولوں کی انتظامیہ نے بچوں کو سکول بند رہنے کے ایس ایم ایس کر دیئے۔ ایس ایم ایس میں کہا ہے کہ سکول بند رکھے جائیں گے۔ وزیر تعلیم پنجاب رانا مشہود نے کہا ہے تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے نام پر بلیک میل نہیں ہونگے۔ آج جو سکول نہیں کھولیں گے جائزہ لے کر ایکشن لیں گے۔ علاوہ ازیں پنجاب حکومت نے نجی سکولز مالکان کے مطالبات تسلیم کر لئے۔ اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نجی سکولز کو ہرممکن سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ علاوہ ازیں صوبائی لاہور سمیت پنجاب بھر میں 5 روز کی چھٹی کے بعد سرکاری سکول آج دوبارہ کھلیں گے اور تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہو گا تاہم فنی تعلیمی ادارے بند رہیں گے اور 5 فروری کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سکولوں کی سکیورٹی کے حوالے سے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں جبکہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی متعدد انتظامات کئے گئے۔ پنجاب میں آج سے شروع ہونیوالے پانچویں اور آٹھویں کے امتحانات کے حوالے سے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں امتحانی سنٹروں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کو خصوصی ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہے جبکہ جدید اسلحہ سے لیس اہلکار امتحانی سنٹروں کے باہر ڈیوٹی دینگے امتحانی سنٹروں کے باہر دفعہ 144نافذ کر دی گئی ہے۔ پانچویں کے امتحانات کےلئے 12لاکھ 45ہزار 453 امیدوار اور آٹھویں جماعت کے امتحانات کے لئے 10لاکھ 22ہزار 53امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ لاہور میں بڑے سرکاری و نجی سکولوں کے اطراف سرچ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے کہا ہے سرچ آپریشن حفاظتی اقدامات کے پیش نظر کیا جائے۔ تمام سکولوں کی سکیورٹی نگرانی ڈویژنل ایس پی کریں گے۔ متعلقہ پولیس افسران اعلیٰ حکام کو سکیورٹی انتظامات سے آگاہ رکھیں گے۔ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ہیلپ لائن 8330 پر اطلاع دی جا سکتی ہے۔ پنجاب بھر میں سکیورٹی کے ناقص انتظامات پر 6روز میں مجموعی طور پر 289سکول مالکان کیخلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں جبکہ 1ہزار 298سکول مالکان کو شو کاز نوٹسز جاری کئے گئے ہیں اور ان سکول مالکان کو جلد سکیورٹی انتظامات بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مزید براں پروگریسو پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے اپنے ہنگامی اجلاس میں مطالبہ کیا ہے تمام پرائیویٹ سکولز کے بچوں کو مکمل فول پروف سکیورٹی مہیا کی جائے اور طالبعلموں میں موت اور دہشت کی فضا کو ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔ وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے سکولوں کی حفاظت کا نظام مزید موثر اور فول پروف بنانے کے لئے سکول کونسلز کو فعال کیا جا رہا ہے اور انہیں درکار فنڈز فراہم کئے جارہے ہیں۔ اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے ہر حد تک جا سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے نظریے کی حمایت کرنے والی سوچ اور بیانیے کو تبدیل کر کے اس مائنڈ سیٹ کو شکست دی جا سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز مقامی ہوٹل میں منعقدہ 6روزہ کمپری ہنسو سکول سیفٹی ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سکول کھولنے کا اعلان