64 ہزار تعلیمی اداروں کو سکیورٹی نہیں دے سکتے‘ دہشتگرد کمرہ امتحان میں چلے جاتے تو بڑا نقصان ہوتا: عمران

64 ہزار تعلیمی اداروں کو سکیورٹی نہیں دے سکتے‘ دہشتگرد کمرہ امتحان میں چلے جاتے تو بڑا نقصان ہوتا: عمران

چارسدہ (نوائے وقت نیوز+ ایجنسیاں) عمران خان نے کہا ہے کہ خیبر پی کے میں 64 ہزار تعلیمی ادارے ہیں سب کو سکیورٹی فراہم نہیں کی جاسکتی، یونیورسٹی کی سکیورٹی پر معمول کے مطابق 54 سکیورٹی گارڈز ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ پاک فوج، پولیس اور سکیورٹی گارڈز بروقت کارروائی نہ کرتے تو بہت بڑا نقصان ہو سکتا تھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان یونیورسٹی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ عمران نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت بھی کی۔ عمران خان نے کہا کہ شہداء کے گھر والوں سے افسوس کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔ آج کا حملہ اے پی ایس کی طرح بڑا سانحہ ہوسکتا تھا لیکن فوج نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کو بڑے نقصان سے بچا لیا۔ دھند ہونے کے باوجود پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز فوری موقع پر پہنچ گئے۔ دہشتگرد طلبہ کو یرغمال بنانا چاہتے تھے اور اگر وہ کمرہ امتحان میں چلے جاتے تو بہت بڑا نقصان ہو جاتا۔ جو بھی ہو اب دہشت گردوں کو شکست دینی ہے۔ چیف سیکرٹری سے معلومات لیتا رہا اور مجھے خوشی ہے کہ لوگ دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کو تیار ہیں۔ مقامی لوگوں کو داد دیتا ہوں کہ وہ یونیورسٹی پر حملے کی خبرسن کر بندوقیں لے کر پہنچ گئے۔ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اس لئے آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک بیان میں عمران نے کہا کہ تعلیمی اداروں پر دہشت گردوں کے حملے سے ان کی حکمت عملی میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں۔ دہشت گردوں کا تعلیمی اداروں جیسے آسان اہداف کو نشانہ بنانا معنی خیز ہے اور پہلو کی نشاندھی کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی کوششوں سے ان کیلئے منصوبہ سازی اور دہشت گرد کارروائیاں کرنا مزید آسان نہیں رہا۔ دریں اثناء خیبر پی کے کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک لندن جا رہے تھے اپنا دورہ موقوف کرتے ہوئے دبئی میں رکے اور وہاں سے واپس وطن آ گئے۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ نے کہاکہ معصوم جانوں کا ضیاع بہت بڑا سانحہ ہے تاہم سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی اور اس میں چاروں دہشت گردوں کی ہلاکت کو بھی سراہا جانا چاہئے۔ جب تک افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈز موجود ہیں تب تک دہشت گردی کے واقعات کا مکمل سدباب ممکن نہ ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان کا دہشت گردوں کے خلاف باہمی اشتراک ناگزیر ہے۔