بھارتی سرکاری تعلیمی اداروں نے کشمیری طلباء کو داخلہ دینے پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دی

بھارتی سرکاری تعلیمی اداروں نے کشمیری طلباء کو داخلہ دینے پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دی

نئی دہلی + سری نگر(کے پی آئی) بھارتی سرکاری تعلیمی اداروں نے کشمیری طلبا کو داخلے دینے پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دی ہے، کشمیری طلبا کے لیے مختص کوٹہ پر بھی داخلے نہیں دیئے جا رہے ہیں۔ بھارتی وزیر تعلیم یر سمرتی ایرانی نے اعتراف کیا ہے کہ جموں وکشمیر کے طالبعلموں کوداخلہ نہ دئیے جانے بارے 20 شکایتیں وصول ہوئی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی حکمران جماعت پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے فاضل کوٹہ کے تحت ملک کے تسلیم شدہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جموں وکشمیر کے طالبعلموں کے داخلے سے متعلق یونیورسٹی گرانٹس کمشن (یو جی سی)سکیم کی موثر عمل آوری کے لئے ترقی انسانی وسائل کی بھارتی وزیر سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔ لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران محبوبہ مفتی نے کہا کہ مائیگرنٹ کوٹہ کے علاوہ یونیورسٹی گرانٹس کمشن کے رہنما خطوط کے مطابق ملک کی تسلیم شدہ یونیورسٹیوں کو عمومی زمرے میں جموں و کشمیر کے طالبعلموں کو دو فاضل نشستوں پر داخلہ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ اطلاعات کے مطابق بیشتر یونیورسٹیوں نے جموں و کشمیر کے طالبعلموں کو اس کوٹہ کے تحت داخلہ دینے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ترقی انسانی وسائل کی بھارتی وزیر سمرتی ایرانی سے مداخلت کا مطالبہ کیا تاکہ ریاست کے طالبعلم اس سکیم سے متواتر طور مستفید ہوسکیں۔اس سے قبل ترقی انسانی وسائل کی وزیر نے لوک سبھا میں محبوبہ مفتی کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ اس قسم کی شکایتیں ملنے کے بعد یونیورسٹیوں کو تازہ ہدایات جاری کی گئی ہیںتاکہ جموں وکشمیر کے مستحق طالب علموں کو فاضل کوٹا کے تحت داخلے دئے جاسکیں۔

سری نگر (اے این این) چیئرمین حریت کانفرنس (گ) و بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارتی فوج چپے چپے پر فائرنگ رینج قائم کرکے خطے کے ماحول کو تباہ و برباد کررہی ہے، وادی فوجی چھائونی میں تبدیل ہوکررہ گئی، بھارتی حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث خطہ بارود کا ڈھیر بنتا جارہا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے بوج پتھری جنگلاتی علاقہ کو فائرنگ رینج بنانے کے فوج کے منصوبے پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ بھارت نواز سیاستدان اپنی کرسی اور ذاتی مفادات کے لئے ریاست کی ہر چیز کو نیلام کرکے گروی رکھ رہے ہیں اور یہ لوگ 1947ء سے آج تک کشمیریوں کے قومی مفاد کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بوج پتھری علاقے کو فائرنگ رینج بنانے سے ضلع بڈگام اور ضلع شوپیان میں علاقے کو پینے کا پانی سپلائی کرنے والی 10سے زائد واٹر سپلائی سکیمیں متاثر ہوجائیں گی، درجنوں دیہات میں رہنے والی ایک بڑی انسانی آبادی کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ بھارت نے جموں کشمیر کی ریاست کو نوآبادیاتی دور کی ایک کالونی سمجھ رکھا ہے اور وہ اس خطے پر نہ صرف اپنا ملٹری قبضہ جاری رکھنا چاہتا ہے بلکہ وہ اس پورے خطے کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کے ایک منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ ادھر فریڈم پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر نئی دلی اور سرینگر کے درمیان کو ئی انتظامی یا مراعات طلبی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کے ساتھ ایک کروڑ 50 لاکھ باشندگان جموں وکشمیر کی قسمت وابستہ ہے، یہ ان کیلئے سیاسی مستقبل اور حق خودارادیت کا مسئلہ ہے اور اس تنازعہ کو حل کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کو نسل میں 18 قرار دادیں موجود ہیں۔ شبیرشاہ نے کہا کہ اس بین الاقوامی تنازعے کا حل یا تو اقوام متحدہ کی قرار دایں عملانے سے ہو گا یا کشمیری آزادی پسند قیادت، پاکستان اور بھارت کے درمیان بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات سے ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سرکار مذکرات کو مشروط کر کے ریاست پر جبری حکمرانی کوکشمیر یوں سے تسلیم کروانے کی سازش رچا رہاہے لیکن جموں کشمیر کے عوام کسی صورت اس سازش کو قبول نہیں کریں گے ۔ دختران ملت کی صدر سیدہ آسیہ اندرابی نے بھارتی وزیر داخلہ کی جانب سے کشمیری قیادت کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پھر اسی ضد اور بلاجواز و غیر حقیقت پسندانہ موقف پر کاربند ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرکے تشدد ترک کرے اور جموں کشمیر میں تعینات دس لاکھ افواج کو واپس بلائے تو کشمیریوں کی قیادت مذاکرات کرنے پر تیار ہوگی۔ کشمیریوں کی تحریک نتیجہ خیزی کی جانب گامزن ہے بھارت مذاکرات پر آمادگی کا شوشہ اڑا کر عالمی برادری کو ایک بار پھر گمراہ کرنے کی کوششیں شروع کرچکا ہے جوکہ مذموم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا تازہ بیان بھی اسی پالیسی کا ایک حصہ ہے لہٰذا کشمیری قیادت اس پیشکش کو مسترد کرتی ہے۔ مسرت عالم بٹ کی مسلسل نظربندی اور ان پر ایک اور بار پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ کرنے کی مذمت کی۔ اس دوران لبریشن فرنٹ آر کے چیئرمین فاروق احمد ڈار نے بھارتی حکام کی جانب سے بات چیت کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کا مسئلہ بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے اور نہ ہی بھارتی آئین کے اندر اس مسئلہ کا حل ممکن۔ بھارت بات چیت کی پیشکش کرکے دنیا کی رائے عامہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہا ہے۔ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے ترجمان نے بھارتی فوج کی جانب سے بے گناہ کشمیریوں پر ظلم و ستم کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نونہالوں کو پابند سلاسل کرنا انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنیوالی عالمی تنظیمیں بھارتی زیادتیوں کا نوٹس لیں۔