دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے

دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے

کافی دلچسپ بات ہے کہ آجکل ہمارے بھولے بھالے اور معصوم صورت وزیراعظم نے غیرملکی دوروں سے اپنا قیمتی وقت نکال کر پاکستان کے بھی گاہے بگاہے دورے شروع کئے ہیں۔ اُنکے ہر دورے میں کچھ نہ کچھ معاہدے، افتتاحی پروگرام، لکھی لکھائی تقریریں اور طے شدہ بیانات بھی شامل ہوتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک گرلز کالج گئے اور اس گورنمنٹ کالج کی حالت زار دیکھ کر شاید انہیں احساس ہوا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کا کیاحال ہے۔ کچھ اعلانات کئے اور اسی دن تعلیم کے حوالے اشتہارات تیار ہوئے۔ یہ اشتہارات تمام چینلز، اخبارات اور ریڈیائی لہروں پر مسلسل چل رہے ہیں۔ شاید سکولوں کے بچوں کو دو اشتہارات کے برابر بسکٹس، دودھ، کاپی کتابیں تقسیم کی جائیں گی مگر تشہیر کیلئے کروڑوں یا شاید اربوں روپے کے اشتہارات اب روزانہ چلتے رہیں گے۔ انہی اشتہارات کے بجائے اگر تمام سکولوں کی کچی دیواروں، ٹوٹی چھتوں کو پختہ کرا دیا جاتا یا اچھے ٹیچرز کا انتخاب کیا جاتا یا نصاف کو مو¿ثر بنایا جاتا تو اس سے قوم کے بچوں کو حقیقی فائدہ پہنچتا اور قوم کی معاشی اور معاشرتی ترقی عمل میں آتی۔ دلچسپ بات تو یہ بھی ہے کہ ن لیگ کی حکومت کا سارا زور سکول کے بچوں پر رہتا ہے۔ کبھی مڈل، میٹرک اور انٹر سے اوپر نہیں سوچتے۔ انکے نزدیک تعلیم بس میٹرک انٹر تک ہی ہوتی ہے۔ اس منظر کے پس منظر میں جانے کی ضرورت نہیں۔ صورت یہ ہے کہ پاکستان میں ”تعلیم“ کے نام پر جو ڈرامہ چل رہا ہے، وہ بہت جلد بین الاقوامی سطح پر فلاپ ہونےوالا ہے۔ پاکستان میں جس چیز کو سب سے زیادہ فوکس کیا جارہا ہے، وہ تعلیم ہے مگر یہاں تعلیم ہے کب....؟ ایک ملغوبہ ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ نہ کوئی ڈھنگ کا نصاب نہ کوالٹی اور نہ اس سے شخصیت کی تعمیر نہ معاشرے کےلئے ثمرآور اور نہ خود اپنے یا خاندان کیلئے فائدہ مند۔ تعلیم کو گورکھ دھندہ بنایا ہوا ہے۔ نچلی سطح پر بھی نہایت بوگس اور بے معنی تعلیم دی جارہی ہے جبکہ اعلیٰ سطح پر دی گئی تعلیم بالکل بے فیض، بے عمل، بے نتیجہ اور بے کار ہے۔

تعلیم کے حوالے سے رویہ بالکل خودکش حملوں جیسا ہے۔ والدین بچوں کو صرف ڈگریوں کے حصول کیلئے بھیجتے ہیں۔ کالج یونیورسٹیوں نے تعلیم کو مذاق بنا لیا ہے۔ پبلک سروس کمیشن کا آنکھوں دیکھا حال میں آپکو دو کالموں میں کبھی بتا چکی ہوں۔ ایم بی اے، ایم بی بی ایس، ایل ایل بی، ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسی ڈگریوں کا حصول صرف چند لاکھ، سفارش اور اقربا پروری سے اس قدر آسان بنا دیا گیا ہے کہ اب ہر یونیورسٹی ہر سال یہ ڈگریاں ریوڑیوں کی طرح بانٹ رہی ہے۔ ایچ ای سی نے پی ایچ ڈی جیسی وقیع، ارفع اور عظیم ڈگری بھی اس طرح بانٹنی شروع کردی ہے۔ بی اے کی ڈگری ہو، ایم فل، پی ایچ ڈی کے تھیسز دیکھیں، سارے اقتباسات اور نقالی سے بھرے پڑے ہیں۔ طالبعلم کی نہ اُس میں کوئی ریسرچ ہے نہ تنقید ہے، نہ تجزیہ ہے نہ حقائق ہیں، نہ نتائج ہیں اور نہ طالبعلم کی اپنی کوئی ٹھوس اور مستند رائے ہے، صرف اور صرف جگالی ہے۔ کیا کسی قوم کی اس سے زیادہ تذلیل، تحقیر اور بدنصیبی ہوسکتی ہے۔ ۔ تعلیم کے نام پر پاکستان اپنی تباہی کے آخری سرے پر پہنچ گیا ہے۔ ایم بی اے، ایم بی بی ایس، ایم فل، پی ایچ ڈی کو مذاق بنا لیا گیا ہے۔ جگہ جگہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے جال نے تعلیم کو برباد کردیا ہے۔ جس طرح چینلز کے جمعہ بازار نے میڈیا کو مضحکہ خیز اور غیر ذمہ دار بنا دیا ہے، اسی طرح ہر وہ شخص جس نے باہر جاکر مال کمایا یا یہاں کرپشن سے اربوں روپیہ بنایا یا پھر اس کے پاس جائز یا ناجائز طریقے سے پیسہ تھا۔ اس نے دیکھا کہ پاکستان میں اس وقت ”تعلیم“ سب سے بڑا بزنس ہے۔ اسی لئے آج ہر گلی نکڑ پر سکولوں، اکیڈیمیوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کی سیل لگی ہوئی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستانی قوم کو تعلیم سے عشق ہوگیا ہے بلکہ آپ سروے کرکے دیکھ لیں، ہر آدمی اپنا بیٹا یا بیٹی انجینئر یا ڈاکٹر بنانے کیلئے صرف ”ڈگری“ کے خواہشمند ہیں۔ آپ پچھلے 25 سالوں کا ریکارڈ نکال کر دیکھ لیں، ایم بی بی ایس کرنیوالے دو لاکھ ڈاکٹروں میں سے مشکل سے سو ہونگے جنہوں نے واقعی محنت سے پڑھا ہوگا ورنہ اکثریت نے ڈگری جن طریقوں سے حاصل کی ہے، ا کا اندازہ ڈاکٹروں کی نااہلی سے لگایا جاسکتا ہے۔ آپ ان سے میڈیکل کے حوالے سے دس سوال کریں یا کسی بیماری کے متعلق دریافت کریں تو یہ کسی سوال کا ڈھنگ سے جواب نہیں دے سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہسپتالوں میں ہونےوالی اموات میں 50 فیصد غیرطبعی ہوتی ہیں۔ یہی حال دیگر ڈگریوں کا ہے۔ انجینئرنگ میں بھی کچھ ایسی ہی کہانی ہے لیکن چلو میڈیکل سے ذرا بہتر صورت ہے۔ ایل ایل بی، ایم بی اے، ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی میں بھی چند سال سے ایم بی بی ایس والا کام شروع ہوگیا ہے۔ پاکستان میں ہر چیز کرپشن کی نذر ہوگئی ہے۔ جب فارغ التحصیل افراد صرف ڈگری ہولڈر ہوں گے تو وہ معاشرے کو کیا ڈیلیور کرینگے۔ جو دو نمبری کرکے ڈگری حاصل کی ہے، وہی دو نمبری ترقی کرکے دس نمبری میں بدل جاتی ہے۔ ہمارے ہاں تبدیلی ہمیشہ منفی آتی ہے کیونکہ یہاں گزشتہ دو ڈھائی عشروں سے تعلیم اور تربیت میں کرپشن کا زہر پھیلا ہوا ہے۔ ایک طرف گورنمنٹ اساتذہ ہیں جو مہینے میں چند کلاسیں بمشکل لیتے ہیں لیکن انکی تنخواہیں پچاس ہزار سے تین چار لاکھ تک ہیں۔ دوسری طرف وہ قابل اور محنتی اساتذہ ہیں جو پرائیویٹ سیکٹر میں اپنی ہڈیاں نچوڑتے ہیں اور انہیں ایک گاﺅں کے پرائمری ٹیچر کے برابر بھی تنخواہ نہیں ملتی۔ نہ کوئی فنڈ نہ الاﺅنس نہ رہائش نہ بونس نہ پنشن.... بلکہ پانچ منٹ لیٹ ہوجائے تو تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے، ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے۔ کبھی وقت پر تنخواہ نہیں دی جاتی حالانکہ طالبعلموں سے وقت پر ہر ماہ کروڑوں روپیہ وصول کرلیا جاتا ہے۔ کیا ایچ ای سی کو نہیں معلوم کہ ہر پی ایچ ڈی ہولڈر کے مساوی حقوق اور مساوی تنخواہ ہونی چاہئے۔ حکومت اور ایچ ای سی کے کان پر نہ پہلے جوں رینگی ہے اور نہ ہی انہیں اب احساس ہوگا۔ ہم خود ایک دوسرے کو تباہ کررہے ہیں۔ ایک دوسرے کو نوچ کر کھا رہے ہیں۔ اپنی نسلیں بگاڑ رہے ہیں۔ اپنی قوم اجاڑ رہے ہیں.... بھلا ہمیں ایک دوسرے کے ہوتے ہوئے کسی دشمن کی کیا ضرورت ہے۔ ہم تو خود ایک دوسرے کے بہترین دشمن ہیں۔