65ء میں قوم متحد ہو گئی، وہ جذبہ فراموش نہیں کیا جا سکتا: جنرل معین الدین حیدر

65ء میں قوم متحد ہو گئی، وہ جذبہ فراموش نہیں کیا جا سکتا: جنرل معین الدین حیدر

لاہور (خبرنگار) سابق گورنر سندھ، سابق وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہا ہے کہ 1965ء کی جنگ پاکستانی تاریخ کا وہ ’’ہائی پوائنٹ‘‘ تھا جب پوری قوم متحد ہو گئی اور فوج کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔ آج بھارت کے انتہاپسند وزیراعظم مودی نے دھمکیوں، لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال گولہ باری اور معصوم بچوں، عورتوں کو شہید کرکے ایک بار پھر پوری پاکستانی قوم کو اتحاد کی راہ پر گامزن کر دیا ہے اور قوم متحد ہو رہی ہے۔ جنرل معین الدین حیدر نے 1965ء کی جنگ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے غازی ہیں۔ دونوں جنگیں اگلے مورچوں پر لڑیں۔ 1965ء کی جنگ میں بطور کپتان اور 1971ء کی جنگ بطور میجر حصہ لیا۔ 1965ء کی جنگ میں کھیم کرن پر اٹیک کیا۔ ٹینک رجمنٹ بھی ساتھ تھی۔ بھارتی فوج کو پسپا کرکے اصل اتر اور ولٹوہا تک پہنچ گئے۔ یہ ساری پیش قدمی ٹینک رجمنٹ کے ساتھ کی مگر اس وقت پیادہ دستے تھوڑے تھے لہٰذا وہاں مورچے بنا کر پوزیشن مستحکم کرنے کا بھرپور موقع نہ ملا۔ 7 ستمبر سے 12 ستمبر تک کھیم کرن کے محاذ پر دشمن کے دانت کھٹے کئے۔اس دوران بھارت نے چونڈہ پر ٹینکوں کی مدد سے بڑا حملہ کر دیا۔ چنانچہ فوری طور پر چونڈہ میں بھارتی ٹینک حملے کا مقابلے کرنے کیلئے چونڈہ بھیجا گیا۔ جنگ ستمبر کے باقی دن چونڈہ کے محاذ پر بھارتی فوج کا مقابلہ کیا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی ڈیڑھ سال سے زیادہ اسی علاقے میں رہے جب تک فوجیں اپنے اپنے علاقوں میں واپس نہیں چلی گئیں۔ 65ء کی جنگ میں سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں نے اختلافات ختم کر دئیے۔ پورا ملک بھارتی جارحیت کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ نوجوان بھارتی فوج کے مقابلے کیلئے اسلحہ اٹھا کر سرحدوں کی طرف چل پڑے۔ ماؤں، بیٹیوں نے اپنے زیور بھارت جیسے دشمن سے برسرپیکار فوج کے لئے قائم فنڈ میں دے ڈالے۔ شاعروں نے وہ ملی نغمے اور جنگی ترانے لکھے جو آج بھی سن کر خون گرم ہو جاتا ہے۔ وہ جذبہ اور وہ دن کبھی بھلائے نہیں جا سکتے۔ بھارت کے خلاف محاذ جنگ پر داد شجاعت دینے والے کچھ ساتھی انتقال کر چکے ہیں۔ کچھ ابھی بھی حیات ہیں جن سے جب بھی ملاقات ہو 65ء کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ قوم کو ایک اچھا لیڈر ملنے کی ہمیشہ امید رہی ہے۔ جنرل مشرف کے ابتدائی 3 سال بھی قوم کی امیدیں بہت بڑھ گئی تھیں۔ بھارتی جارحیت کے خلاف ایک مرتبہ پھر قوم کا غصہ بڑھ رہا ہے۔ قوم بھارت کے خلاف ایک بار پھر متحد ہو رہی ہے۔ آپریشن ضرب عضب، کرپشن کے خلاف آپریشن سے بھی قوم کی امیدیں بڑھی ہیں۔ قوم کو بھارت کی بالادستی قبول نہیں ہے۔ بھارت کے خطے پر تسلط اور علاقے میں تھانیداری کو قوم قبول کرنے پر تیار نہیں ہے۔