ذریعہ تعلیم

ذریعہ تعلیم

ذریعہ تعلیم سے مراد وہ زبان ہے جس کے ذریعے طلبہ کو کسی علم کی تعلیم دی جائے یا جسے بطور درس و تدریس استعمال کیا جائے۔ تعلیمی لغت میں اس کے معنی پر دیئے گئے ہیں کہ ”وہ بنیادی طریق عمل جس کے ذریعے منصوبہ تعلیم طالب علم تک پہنچایا جائے اس طریق عمل میں روبرو تدریس بھی شامل ہے اور وہ تدریس بھی جو پہلے سے تیار کردہ ٹیپ، کتابوں، ہدایت ناموں، مراسلت، کمپیوٹر یا دوسرے سمعی و بصری ذرائع سے دی جائے“ اس تعریف سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ درس و تدریس اور تعلیم کے لئے ”ذریعہ“ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ”ذریعہ“ مقصد نہیں ہے۔ مقصد تو حصول علم ہے لیکن یہ مقصد بغیر ”ذریعہ“ کے حاصل نہیں ہو سکتا اس لئے ذریعہ ذیلی حیثیت رکھنے کے باوجود بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ علم اس وقت پوری طرح حاصل ہو سکتا ہے جب تعلیم دینے والا اسے ایسے ذریعہ سے طالب علم تک پہنچائے کہ اس کی بات طالب علم کے ذہن نشین ہو جائے اور وہ اس علم کے نہ صرف مباحثات اور اصولوں سے واقف ہو جائے بلکہ بنیادی تصورات بھی اس کے ذہن نشین ہو جائیں تاکہ اس علم کے تعلق سے اس میں شوق، دلچسپی اور تخلیقی قوت بیدار ہو جائے۔

اب اگر ذریعہ تعلیم ایک ایسی زبان ہے جسے استاد اور طالب علم دونوں بولتے ہیں تو استاد اس علم کو آسانی سے طالب علم تک پہنچا سکتا ہے اس عمل سے علم کی فہم بڑھے گی اور طالب علم کا ذہن سوچنے کی طرف مائل ہو گا یہی تخلیقی عمل ہے ایسے میں طالب علم اپنے ذہن کے ابہام کو دور کرنے کے لئے سوال بھی اٹھائے گا اور نئے نئے سوالوں سے خود استاد کو بھی سوچنے پر اکسائے گا اگر طالب علم اور استاد کی زبان ایک ہے جسے ذریعہ تعلیم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تو نئی سے نئی اور پیچیدہ سے پیچیدہ بات کو سمجھنا یا سمجھانا دونوں کے لئے آسان ہو گا یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ جس معاشرے میں تعلیم کا ذریعہ وہ زبان ہو گی جسے فرد گھر کے اندر یا باہر بولتا اور استعمال کرتا ہے تو اس معاشرہ میں شرح تعلیم اور معیار تعلیم دونوں بلند ہوں گے۔ اس صورت میں علم رٹ کر نہیں بلکہ سمجھ کر طالب علم کے ذہن نشین ہو گا اس طرح تمام طالب علم میں فہم زیادہ ہو گی یہی وہ روشنی ہے جو تعلیم حاصل ہوتی ہے جتنی یہ روشنی زیادہ ہو گی اتنا ہی وہ معاشرہ زندہ اور بیدار ہو گا اس لئے ذریعہ تعلیم ہر نظام تعلیم میں اساسی حیثیت رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 68 سال سے ہم معیار تعلیم کے گرنے کا رونا تو روتے رہے ہیں لیکن ہم نے ذریعہ تعلیم کے تعلق سے اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا اگر کیا بھی ہے تو طبقاتی مفادات کے پیش نظر حق و انصاف کا فیصلہ نہیں کیا اور حسب سابق حالت برقرار رکھنے کو ترجیح دے رہی ہے ہماری ساری تعلیم اس لئے ناقص ہے کہ وہ طالب علم کے ذہن میں اترتے اور اس کی تخلیقی صلاحیتیوں کو بیدار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ذریعہ تعلیم بظاہر معمولی سی بات نظر آتی ہے لیکن اس نے پاکستانی معاشرہ اور ثقافت کو تخلقیقی، معاشرتی و تہذیبی حتی کہ معاشی طور پر بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔

دنیا کی آپ کسی ایسی قوم کو پیش نہیں کر سکتے جس نے اپنی زبان کے علاوہ کسی اور زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر حقیقی معنوں میں ترقی کی اور جہاں شرح خواندگی سو فیصد ہو یہ بات واضح رہے کہ کوئی غیر ملکی زبان سیکھنا، اس پر عبور حاصل کرنا ایک مستحسن بات ہے لیکن اسے ذریعہ تعلیم بنانا ایک تباہ کن اور منفی عمل ہے۔ تاہم اسے سرکاری طور پر دیگر ممالک کے ساتھ رابطے کی زبان کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ جیسے انگریز زبان جو اس وقت دنیا بھر کے رابطہ کی زبان ہے اس کی اہمیت مسلمہ ہے اسے اس کام کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یونیسکو نے ذریعہ تعلیم کے سلسلے میں جو رپورٹ دنیا بھر کے ماہرین سے مرتب کرائی تھی ان کی بھی متفقہ رائے یہی تھی کہ:۔

”اگر کوئی غیر ملکی زبان کسی ایسے کلچر سے تعلق رکھتی ہے جو اس کی اپنی زبان کے کلچر سے مماثل ہو (جیسے ایک انگریز بچے کے لئے فرانسیسی زبان) تو اس زبان کو سیکھنے کے لئے بچے کی اصل مشکل صرف لسانی ہو گی۔ لیکن اگر غیر ملکی زبان ایسے کلچر سے تعلق رکھتی ہے جو اس کے اپنے کلچر سے بہت مختلف ہو (جیسا کہ نائیجریا کے بچے کے لئے انگریزی زبان تو زبان سیکھنے کی دشواریاں بھی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں.... جب بچے کو ایسے مشکل کام سے سابقہ پڑے تو عین ممکن ہے کہ بچہ مناسب و معقول طور پر کبھی اپنی بات کے اظہار کے قابل ہی نہ ہو۔“

ہمارے ہاں انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنا کر یہی عمل ہو رہا ہے اور ہر طالب علم کم و بیش اسی صورت حال سے دو چار ہے اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے ذریعہ تعلیم کے تعلق سے ہمیں پاکستان میں پیش نظر رکھنا چاہیے یہی وہ نکتہ ہے جس پر عمل درآمد کر کے ہم نہ صرف تعلیم کو حقیقی معنی میں تعلیم بنا سکیں گے بلکہ اپنے معاشی، سیاسی و ثقافتی مسائل کے بحران پر بھی قابو پا سکیں گے۔

فرانسیسی مفکر و ادیب قراں پال سارتر نے کہا تھا کہ وہ لوگ جو بدیسی زبان کو استعمال کرتے ہیں یا اس میں لکھتے ہیں ان کی حیثیت ہمیشہ ایک ”کرایہ دار“ کی رہتی ہے ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے لکھا ہے کہ ”اگر اجنبی زبان پر ہی ترقی کا انحصار ہوتا تو جاپان علوم و فنون میں ہم سے بہت پیچھے ہوتا اور علمی دنیا میں اسے وہ فوقیت حاصل نہ ہوتی جو آج امریکہ و یورپ میں بھی باعث استعجاب و رشک ہے۔ یہ آخر کیا دیوانگی ہے جو ہم نے اپنے اوپر طاری کر لی ہے اور یہ کیا جنون ہے جو ہمیں خودکشی کے راستے پر چلا رہا ہے۔ جس قوم کو اپنی کوئی چیز اچھی نہ لگے اور وہ دوسروں کی ہر ادا پر فریفتہ ہو وہ کیا زندہ رہ سکتی ہے۔