تعلیم ہی ترقی و خوشحالی کی ضامن ہے

 تعلیم ہی ترقی و خوشحالی کی ضامن ہے

انتخابی منشور میں پی ایم ایل (ن) نے ملک میں تعلیم کیلئے جی ڈی پی کی 4 فی صد رقم مختص کرنے کا وعدہ کیا تھا جو بجٹ میں پورا نہیں کیا گیا۔ اسکی بجائے عوام کو یہ بیان دے کہ سراسر دھوکہ دیا ہے کہ ’’4 فی صد تعلیم اور صحت کیلئے مستقبل میں کسی وقت مہیا کیا جائے گا‘‘ تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے۔ ایشیا کے مختلف ممالک مثلاً چین، سنگاپور ملائیشیا اور کوریا نے اپنی معیشت کو بے پناہ ترقی دی جس کیلئے انہوں نے اپنی نئی نسل میں سرمایہ کاری کی یعنی انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔ سنگاپور جس کی کل آبادی کراچی کی آبادی کا صرف ایک چوتھائی(5 ملین) ہے۔ اور اس ملک میں قدرتی وسائل میسر نہیں جبکہ سنگاپور کی فی کس آمدنی اس وقت یو کے سے بھی زیادہ ہے جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس ملک نے تعلیم اور خصوصی طور پر یو نیورسٹی کی سطح پر خطیر رقم خرچ کی۔ اس سال کیلئے نیشنل کو یونیورسٹی آف سنگاپور کا بجٹ 200 بلین روپے کے قریب ہے۔ جبکہ پاکستان کی 80 یونیورسٹیوں کا مجموعی بجٹ صرف 70 بلین روپے کی قلیل رقم پر مشتمل ہے۔ باالفاظ دیگر ہم سنگارپور یا کوریا کے مقابلے میں تعلیم پر 230گناہ کم خرچ کرتے ہیں۔ اور کالج اورسکول کی سطح پر حالات اور بھی ناگفتہ بہ ہیں دراصل ہمارے لیڈرز اس اہم حقیقت سے مکمل طور پر نا آشنا ہیں کہ ترقی کیلئے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنا ناگزیر ہے۔ سنگاپور کی طرح ملائشیا کی ترقی کا راز بھی تعلیم میں مضمر ہے۔ یہ ملک پچھلے 30سالوں سے تعلیم پر بجٹ کا 25 فی صد حصہ خرچ کر رہا ہے۔ نتیجتاً ملائیشیا اسلامی ممالک سے ہونیوالی HIGH TECHNOLOGY مصنوعات کا 87 فی صد برآمد کرتا ہے جب کہ باقی 56 مسلم ممالک کا حصہ 13 فیصد ہے۔جہاں تک پاکستان کی صنعتی پیداوار کا تعلق ہے تو یہ صرف کم قیمت کی اشیاء پر مشتمل ہے۔ ہماری صنعت کا 63 فیصد پارچہ بافی (Textile) پر مشتمل ہے ۔ اس شعبے میں دنیا کی کل پیداوار کا صرف 3 فیصد پاکستان سے برآمد ہوتا ہے جو کہ بہت ہی کم ہے۔ اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں اور ملک سے بے روزگاری، افلاس اور جہالت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کیمیاوی اشیائ، ادویات، برقی آلات اور انجینئرنگ کا سامان بنانا اور برآمد کرنا چاہیے لیکن اس کیلئے ہمیں درج ذیل اقدامات کرنے لازمی ہوں گے۔

اول: بجٹ میں تعلیم کے لیے خطیر رقم مہیا کی جائے اور یہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہو۔دوم: اعلیٰ تکنیکی پیداوار خاص طور پر انجئینرنگ کی اشیاء پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ یہ دنیا کی کل پیدوار کا 50فی صد بنتا ہے اور اسکی مالیت تقریبا 6 ٹرلین ڈالر کے قریب آتی ہے۔سوم: ملک میں سائنس اور تکنیکی تعلیم اور خصوصی طور پر انجئینرنگ سے تعلق رکھنے والے اداروں کو ترجیحاً مضبوط کیا جائے اور ان کوزراعت اور صنعتی ترقی سے منسلک کیا جائے۔ چہارم: مصنوعات کی تیاری کیلئے تحقیق، اور اختراع کے عمل کو فروغ دیا جائے اس مقصد کیلئے THINK TANKS اور ریسرچ کے ادارے تشکیل دئیے جائیں۔

یہ سب کچھ اُس ہی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب تعلیم کیلئے خطیر رقم مہیا کی جائے اس کیلئے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بجائے اپنی آمدنی پر انحصار کیا جائے کیونکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف فراہم کی گئی ایک رپورٹ کیمطابق ملک میں اس وقت تقریباً 3 ملین سے زیادہ ایسے افراد موجود ہیں جن کے رہن سہن اور دوسرے اخراجات کو مدنظر رکھ کر اُن پر ٹیکس لگایا جاسکتا ہے۔اس سے حکومت کی ٹیکس کی مد میں تقریبا 9000 بلین روپے کی آمدنی متوقع ہے۔ نیز ملک میں فوری طور پر زرعی ٹیکس نافذ کیا جائے اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے سیاسی لیڈرز ہیں جو کہ اسمبلیوں میںبراجمان ہیں اور وہ اس بارے کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیتے۔ اس سے حکومت کو سالانہ 400 بلین روپے تک کی آمدنی ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس مارکیٹ ویلیو پر لگایا جائے۔ اسکے علاوہ ایف پی آر میں بے انتہا بدعنوانی کا دور دورہ ہے اُسے ختم کیا جائے اس سے کم از کم 500 ملین کی رقم خزانے میں جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں چین کی طرح ہمیں بھی بدعنوانی کی سزا موت مقرر کر دینی چاہیے۔

قارئین! نئے بجٹ میں تعلیم کیلئے جو رقم مختص کی گئی ہے وہ بہت کم ہے اور موجودہ وفاقی حکومت کا انتخابی منشور تعلیم جیسے اس اہم شعبے کی ترقی کیلئے 4 فی صد حصے کا وعدہ پورا نہیں کیا گا۔ ہمارے حکمران اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ تعلیم کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ بڑے بڑے میگا پروجیکٹس کی اہمیت اپنی جگہ مگر تعلیم کے شعبے کو نظرانداز کرنا کسی بھی طر ح ملک کے مفاد میں نہیں۔ اور حصول تعلیم کے بغیر کوئی ملک بھی ترقی نہیں کر سکتا۔