ملازم ملزم ٹیچر پھٹیچر عام لوگ کمی کمین

ملازم ملزم ٹیچر پھٹیچر عام لوگ کمی کمین

میں پی ایچ اے میں کچے پکے مالیوں مزدوروں اور معمولی اہلکاروں کی طرف سے کئی دنوں سے لگے ہوئے دھرنے میں پہنچا۔ ریس کورس میں سیر کا اپنا مزا ہے۔ یہاں تو ایک میلہ سا لگا ہوتا ہے۔ میلے لگنے چاہئیں۔ ہمارے مظاہرے احتجاجی جلسے اور جلوس بھی میلے ہوتے ہیں مگر پنجاب اسمبلی کے سامنے روڈ پر ٹیچرز اور لیڈی ٹیچرز نے احتجاجی ڈیرے لگائے ہیں۔ پھر نابینا افراد بھی نعرے لگا رہے ہیں۔ ان کی نعرہ بازی دیکھنے کی چیز بھی ہوتی ہے۔ یہ اللہ والی مخلوق ہے۔ ان کی عزت کرو۔ ان کی مدد کرو۔ پولیس کا رویہ ان کے ساتھ مخالفانہ نہیں ہے مگر جب کسی وی آئی پی شخصیت کے لئے راستہ ہموار کرنا ہو تو ماحول سازگار نہیں رہتا جبکہ حکمرانوں اور ”افسرانوں“ کو راستہ خوشگوار دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے۔ پاکستان ان کی سیرگاہ ہے۔ یعنی ریس کورس پارک ہے۔ کسی ٹیچر، کسی نابینا کو اجازت نہیں ہے کہ وہ گڑ بڑ کرے۔ حکمرانوں اور افسروں سے جائز مطالبے بھی نہ کئے جائیں۔ دفتر میں آ کے مکمل آداب کے ساتھ استدعا کریں اور پھر کام نہ ہونے کی صورت میں چپ چاپ گھر چلے جائیں۔ 

جا اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کے سو جا

ملام کو ملزم سمجھنے والوں کے لئے جلسے جلوس مظاہرہ اور دھرنے بہت ناپسندیدہ ہوتے ہیں۔ یہ بتایا جائے کہ پاکستان میں کونسے محکمے کے بے چارے محروم، محکوم، مظلوم، ملازم یعنی ملزم اپنے جائز مطالبے کے لئے سڑکوں پر نہ آئے ہوں، مار کٹائی نہ ہوئی ہو۔

مجھے میرے محترم بھائی ایوب خان نیازی نے فون کیا تھا۔ انہوں نے ایک آئیڈیل اور لیڈر ٹیچر کے طور پر جرات اور دانائی کی کئی مثالیں قائم کی ہیں۔ لوگ اب تک انہیں یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے ٹیچرز کے لئے صداقت اور محبت کی بات کرنے کی ہدایت کی۔ میری طرف ایک سرگرم اور بہادر ٹیچر رہنما طارق محمود کو بھیجا۔ اس دن میرے پاس میرے بھانجے اور بھائی ایوب خان کے بہت قابل بیٹے اسد ایوب خان بھی تھے۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور سٹوڈنٹس یونین کے آخری صدر تھے۔ اساتذہ کئی دنوں سے احتجاج پر ہیں۔ ٹیچرز کو ہمارے ہاں کمی کمین سمجھا جاتا ہے۔ ٹیچرز کا احترام نہیں کیا جاتا۔ لیڈی ٹیچر کی عزت نہیں کی جاتی۔ ان کی پروموشن کا معاملہ الجھا ہوا ہے۔ سکولوں میں ایک جبر کا ماحول ہے۔ سکولوں میں سہولتیں اور ضرورتیں بالکل نہیں دی جاتیں۔ ان کے ساتھ نوکروں سے بدتر سلوک ہوتا ہے۔ پولیو کے قطرے پلانے کا معاملہ ہو یا کوئی بھی سرکاری معاملہ ہو۔ اساتذہ کو دھر لیا جاتا ہے۔ انتخابی ڈیوٹیاں بھی ان کے لئے ہوتی ہیں۔ ٹیچرز احتجاج کو انقلابی ڈیوٹی بنا لیں تو کوئی ان کے سامنے نہیں ٹھہرے گا۔ اور یہ ہو گا۔ بااختیار فرعونوں کو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ کئی ٹیچرز جیل بھجوائے گئے۔ کئی سو اساتذہ پر جھوٹے مقدمے بنائے گئے۔ دور دراز تبادلوں کی دھمکیاں الگ ہیں۔ جابر افسران دھمکیوں کو دھماکوں کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ کوئی مجبور آدمی خود کش دھماکے کے لئے تیار ہو گا تو پھر کیا ہو گا۔

سیکرٹری سکولز عبدالجبار شاہین کے خلاف بہت شکایات ہیں۔ میں ان سے نہیں ملا مگر میں نے ان کے لئے کبھی کوئی منفی بات نہیں سنی۔ ان سے میری گذارش ہے کہ وہ ٹیچرز کا احترام کریں۔ وہ پڑھے بغیر تو افسر نہیں بنے۔ انہی ٹیچرز سے پڑھ کر آگے بڑھ گئے ہیں۔ لگتا ہے کبھی کسی ٹیچر نے انہیں مرغا بنایا ہو گا تو اس کا ردعمل ہے کہ وہ اب ٹیچرز کو سبق سکھانا چاہتے ہیں۔ ہمارے افسران اور حکمران سبق سیکھنا نہیں چاہتے۔ یہاں لیڈی ٹیچرز کو بالوں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹا گیا۔ میں جبار شاہین سے بڑی محبت سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ ٹیچر کے مطالبات پورے کریں اور ایسا ماحول بنائیں کہ کبھی کوئی ٹیچر ایسے مطالبات کے لئے سڑکوں پر نہ آئے۔ لوگ انہیں محبت سے یاد کریں۔

میں نے بات پی ایچ اے کے مالیوں مزدوروں اور معمولی اہلکاروں کے دھرنے میں حاضری سے شروع کی تھی۔ میرے پاس میرے دوست طارق اور نذیر احمد اور جنرل سیکرٹری پی ایچ اے یونین حافظ ابرار احمد آئے اور میں دوسرے دن ریس کوس پارک کے مرکزی دروازے پر پہنچا تو سینکڑوں لوگ دھرنا دیے بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھ کر انہوں نے نعرے لگائے:

اساں مر گئے بھگے ہائے ہائے، ہن کدھر جائیے ہائے ہائے، آٹا مہنگا چینی مہنگی ہائے ہائے، اساں مر گئے بھکے ہائے ہائے، تے کھا گئے ....ہائے ہائے، ایہہ لٹ کے کھا گئے ہائے ہائے، انہوں نے میرے نام کے نعرے اور زندہ باد نوائے وقت کے نعرے بھی لگائے۔ نوائے وقت کی نسبت سے یہ اعزاز اور محبت قابل فخر ہے۔

گزرتے ہوئے جیل روڈ سے سب لوگ دیکھ رہے تھے حکمرانوں افسرانوں کے لئے اچھا تاثر لے کے نہیں جا رہے تھے۔ شریفانہ انداز میں احتجاج لگا۔ مگر اب تک کوئی حکومت کا آدمی نہیں آیا۔ سندا کوئی نہیں ہائے ہائے۔ ان کے کیمپ کے ساتھ کئی بڑے بڑے اشتہار ہیں جن پر نواز شریف، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بڑی بڑی تصویریں ہیں اور بڑے ادب کے ساتھ ان سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ہمارے جائز مطالبوں کو پذیرائی دیں۔ خاص طور پر وہ حمزہ شہباز کا نام لے رہے تھے کہ وہ کچھ کریں۔ خواجہ نذیر کبھی حمزہ صاحب کو لے کے یہاں آئیں۔

شہر میں سب خوبصورتی، پھولوں کے نقش و نگار رونق اور سبزہ زار ان کے خلوص سے قائم ہے۔ لوگوں کو چھاﺅں درختوں کی دیکھ بھال سب ان کے دم سے ہے۔ معمولی تنخواہ کے عوض جو کچھ کرتے ہیں یہ شہر سے ان کی وابستگی ہے۔ جس شہر کو انہوں نے سنوارا بنایا، نکھارا، اس شہر کے مالک ان کے ساتھ بہت برا سلوک کر رہے ہیں۔ وہ منیر نیازی کی طرح کہہ سکتے ہیں۔

اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیںدوستو

اور اگر کبھی خدانخواستہ ان کے دل میں بیزاری بہت بڑھ گئی اور انہوں نے واقعی کام چھوڑ دیا تو شہر کا کیا بنے گا۔ پورا شہر ویران ہو جائے گا۔ گندگی ہی گندگی ہو گی چاروں طرف۔ اور یہاں کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہ رہے گا۔ پھر منیر نیازی یاد آتا ہے۔

اس شہر سنگدل کو جلا دینا چاہیئے

پھر اس کی خاک کو بھی اڑا دینا چاہیئے

وہاں موجود صدر پی ایچ اے یونین محمد انور نے اور دوسرے دوستوں نے بتایا کہ ڈی جی پی ایچ اے میاں شکیل احمد چاہتا ہے کہ جائز مطالبات مانے جائیں۔

جیل روڈ سے برادرم محسن نقوی گزرے۔ رک کر حال پوچھا اور جیل روڈ سے پر اپنے چینل سے بھرپور حمایت کی۔ دوسرے چینلز بھی آئے اور صورتحال کو دکھایا۔ پی ایچ اے کا برادرم طارق ہیڈ مالی ہے۔ بہت ذوق و شوق والا آدمی ہے۔ بڑے جذبے والا بہادر انسان ہے۔ اپنے لوگوں کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے۔ محمد انور اور حافظ ابرار احمد بھی بہت زبردست لیڈر ہیں۔ میں ان سب کے ساتھ دھرنے میں بیٹھ گیا تھا۔ میں آئندہ بھی ان کے ساتھ آ کے بیٹھوں گا۔ ان مخلص سچے اور محنتی کارکنوں کے پاس بیٹھ کے بڑا مزہ آیا۔

برادرم منصورالرحمن آفریدی سے یہ بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ میں نے کچھ عرصہ پہلے پی ایچ اے کے سینکڑوں عارضی ملازموں کو کنفرم کروایا تھا۔ جب مجھے چیئرمین این آئی آر سی جسٹس (ر) تنویر صاحب نے کہا کہ تم اپنے بندے کنفرم کرا لو جن کے تم وکیل ہو اور قصہ ختم کرو۔ میں نے دوسرے دن عدالت میں سینکڑوں کچے ملازمین کے وکالت نامے پیش کر دیے۔ اس کے بعد سب لوگوں کو کنفرم کر دیا گیا۔ آئینی طور پر 90 دن کام کرنے والے عارضی ملازم کو کنفرم کرنا پڑتا ہے۔ یہ آفریدی صاحب کے دل کی معرکہ آرائی اوردلربائی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں حق صرف چند لوگوں کے لئے نہیں ہوتا سب کے لئے ہوتا ہے۔ محبت بانٹنا ایمان ہے اور محبت بلا تخصیص سب کا حق ہے۔ ہم ایک دوسرے کو برداشت کریں اور ایک دوسرے کے لئے دل کھلا رکھیں۔

آخر میں عرض ہے کہ ہم نابینا افراد کو روشنی نہیں دے سکتے تو ان کے دل کی روشنی تو نہ چھینیں۔