نظریاتی سمر سکول .... کردار سازی کا گہوارہ

نظریاتی سمر سکول .... کردار سازی کا گہوارہ

تحریک پاکستان کے انتہائی سرگرم کارکن‘ امام صحافت اور نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے آج سے پندرہ برس قبل ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت منفرد ”نظریاتی سمر سکول“ کی بنیاد رکھی۔ ان کا لگایا یہ پودا پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد کی زیرنگرانی آج ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے اور لوگ اپنے بچوں کو اس سکول میں داخل کرانا باعث فخر تصور کرتے ہیں۔ اس سکول کے آغاز کا مقصد یہ تھا کہ موسم گرما کی تعطیلات میں حب الوطنی سے معمور فضا میں بچوں کو اس انداز میں ذہنی و اخلاقی تربیت فراہم کی جائے کہ ان کے دل و دماغ میں اپنے ملک اور قوم کے حوالے سے احساس تفاخر پیدا ہو جائے اور وہ اس کی خدمت اور حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؓ نے نونہالان وطن کو قوم کی سب سے بڑی اور زندہ دولت نیز عزیز ترین سرمایہ اور امید قرار دیا تھا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر آج بچوں کی کردار سازی پر توجہ مرکوز کی جائے گی تو ہمارا مستقبل بڑا تابناک ہو گا۔ تمام ترقی یافتہ قومیں اپنے مستقبل کو سنوارنے کی خاطر نسل نو کو اپنی توجہ کا محور و مرکز بناتی ہیں تاکہ وہ بڑے ہو کر ملک و قوم کو مطلوبہ ترقی و خوش حالی کی منازل سے ہمکنار کر سکیں۔ وہ اپنے بچوں کو اپنی تاریخ‘ تہذیب و تمدن بالخصوص اپنے اسلاف کے کارہائے نمایاں سے آگاہ کرتی ہیں۔ ان کی خاطر قابل اساتذہ¿ کرام اور جدید ترین تعلیمی سہولتوں کا انتظام کرتی ہیں۔ نظریاتی سمر سکول انہی جدید تعلیمی رجحانات کا آئینہ دار ہے جہاں طلبہ کو نظریہ¿ پاکستان سے ہم آہنگ نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ 

اس سکول کے پروگرام بڑے متنوع ہیں جن کا اصل مقصد یہ ہے کہ 6 سے 13 سال کی عمر تک کے بچوں کو جدید سہولتوں سے آراستہ ماحول میں اپنی علمی و تہذیبی اقدار بہتر بنانے کے مواقع میسر آئیں‘ ان کے اندر خود اعتمادی اور وطن عزیز سے محبت کے جذبات پروان چڑھیں۔ طلبہ کے لیے عمر کے اس دورانیے کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کہ اس عمر میں بچوں کو جو باتیں‘ اقدار اور تصورات ذہن نشین کروا دیئے جائیں‘ وہ آئندہ زندگی میں ان کے لیے مشعل راہ بن جاتے ہیں۔ ہمارے ازلی دشمن بھارت کی موجودہ ثقافتی یلغار نے اس نظریاتی سمر سکول کی اہمیت کو دوچند کر دیا ہے۔ سکول میں مختلف پروگراموں کے ذریعے تحریک پاکستان اور نظریہ¿ پاکستان کے متعلق بچوں کی ذہنی آبیاری کی جاتی ہے۔ انہیں باور کرایا جاتا ہے کہ ان کے بزرگوں کو یہ ملک کسی نے طشتری میں رکھ کر پیش نہیں کر دیا تھا بلکہ اس کو حاصل کرنے کی خاطر انہوں نے جان و مال اور عزت و آبرو کی بے مثال قربانیاں پیش کی تھیں۔ دوقومی نظریہ اس مملکت کی بنیاد ہے جو درحقیقت ہمارے اسلامی تشخص ہی کا دوسرا نام ہے۔ ہماری بقاءاس نظریے کو حرزِجاں بنائے رکھنے میں ہے۔ اس نظریئے سے وابستگی ہمیں عظیم سے عظیم تر بنائے گی۔

نسل نو کو اپنی قابل فخر تاریخ سے باخبر کر کے درجاتِ کمال تک پہنچانے میں اس نظریاتی سمر سکول کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ بچوں کی اس نظریاتی تعلیم و تربیت کی بدولت ہی پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے نونہالوں کی ایک ایسی نظریاتی کھیپ تیار کی جاتی ہے جو مستقبل میں نہ صرف ملک و قوم کی قیادت کا فرض نبھائے گی بلکہ علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے فکر و عمل کے مطابق وطن عزیز کو ایک جدید اسلامی‘ جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ اس سکول میں گزرے وقت کی بدولت بچوں میں وہی ولولے اور جذبے بیدار ہو جاتے ہیں جو تحریک پاکستان کے دوران برصغیر کی ملت اسلامیہ کے دل و دماغ میں موجزن تھے۔ انہی اوصاف کے طفیل لاہور کے علاوہ دیگر شہروں کے طلبا و طالبات بھی نظریاتی سمر سکول میں داخلے کے لیے بیتاب رہتے ہیں۔ گزشتہ روز تحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور چیئرمین نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ محترم محمد رفیق تارڑ نے اس سکول کے پندرہویں تعلیمی سیشن کا باقاعدہ افتتاح کیا اور اپنے خطاب میں پاکستانی بچوں کے لیے نظریاتی تعلیم و تربیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ نظریہ¿ پاکستان کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ چیف کوآرڈینیٹر میاں فاروق الطاف اور سجادہ نشین آستانہ¿ عالیہ چورہ شریف حضرت پیر سید محمد کبیر علی شاہ نے بھی اس افتتاحی تقریب میں اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر پروین خان‘ صوبائی پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد ارشد اور سیکرٹری نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید بھی موجود تھے۔ نظریاتی سمر سکول کا یہ پندرہواں سالانہ تعلیمی سیشن 7 جولائی تک جاری رہے گا۔