پنجاب اسمبلی: نجی سکولوں کو سکیورٹی کی مد میں فیسیں بڑھانے سے روکنے سمیت مفاد عامہ سے متعلق 3 قراردادیں منظور

پنجاب اسمبلی: نجی سکولوں کو سکیورٹی کی مد میں فیسیں بڑھانے سے روکنے سمیت مفاد عامہ سے متعلق 3 قراردادیں منظور

لاہور (خصوصی رپورٹر+ خصوصی نامہ نگار+کامرس رپورٹر) پنجاب اسمبلی کے ایوان نے نجی سکولوں کو سکیورٹی کی مد میں فیسوں میں اضافے سے روکنے اور خلاف ورزی پر سخت کارروائی عمل میں لانے کے مطالبے سمیت مفاد عامہ سے متعلق تین قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لیں۔ اجلاس کے دوران ارکان نے کوآپریٹو سمیت مختلف ہائوسنگ سوسائٹیز کی طرف سے عوام سے لوٹ مار کیخلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ ہے کہ اس میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت مقدمات درج ہونے چاہئیں ، جبکہ صوبائی وزیر ملک تنویر اسلم نے اسے تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ ایشو ہے اور اس حوالے سے قانون سازی ہونی چاہئے، قائمقام سپیکر نے اس معاملے کو اہم قرار دیتے ہوئے آئندہ بدھ کے روز اس پر عام بحث کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ رواں سیشن میں لاء اینڈ آرڈر، صحت اور تعلیم پر بھی عام بحث کی جائے گی۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز مقررہ وقت دس بجے کی بجائے 55منٹ کی تاخیر سے قائمقام سپیکر پنجاب اسمبلی سردار شیر علی گورچانی کی صدارت میں شروع ہوا۔ صوبائی وزیر ملک تنویر اسلم نے محکمہ ہائوسنگ و شہری ترقی اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے۔ حکومتی رکن چودھری اشرف علی انصاری کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ جاپان انٹرنیشنل کاپوریشن ایجنسی (جائیکا) نے نہ صرف فیصل آباد میں ہماری معاونت کی بلکہ گوجرانوالہ میں بھی اُسے لایا جا رہا ہے ،جائیکا کے اپنے کوئی ذاتی مفادات نہیں۔ حکومتی خاتون رکن اسمبلی نگہت شیخ کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ بہت سے سرکاری محکمے ایسے ہیں جو واسا کے نا دہندہ ہیں، خود پنجاب اسمبلی بھی واسا کی ایک لاکھ38 ہزار 674روپے کی نا دہندہ ہے۔ جب حتمی نوٹس بھجوائے جاتے ہیں تو یہ محکمے چند ہزار جمع کرا کے معاملے کو پھر لٹکا دیتے ہیں اور سرکاری محکموں سے واجبات کی ریکوری کرنا اتنا آسان نہیں۔ نگہت شیخ نے کہا کہ اگر ایک عام آدمی بل جمع نہ کرائے تو اس کا کنکشن منقطع کر دیا جاتا ہے جبکہ سرکاری محکمے کا کنکشن کیوں منقطع نہیں کیا جاتا۔ جس پر صوبائی وزیر نے کہا کہ پھر یہاں جنگل کا قانون ہو جائے گا، انفرادی معاملہ اور ہے اور اداروں کی بات اور ہے۔ جس پر قائمقام سپیکر نے کہا کہ قانون سب کے لئے ایک ہونا چاہئے۔ ہم آپ کے محکمے کے واجبات کلیئر کریں گے جس کے بعد اسمبلی سیکرٹریٹ سے رپورٹ طلب کر لی گئی اور جواب آنے پر قائمقام سپیکر نے ایوان میں بتایا کہ پنجاب اسمبلی واسا کی نادہندہ نہیں ، اسمبلی کے ذمہ جنوری اور فروری کا 23ہزار روپے کا بل تھا جو جمع کر ادیا گیا ہے۔ حکومتی رکن محمد انیس قریشی نے کہا کہ جن ہائوسنگ سوسائٹیوں کو ایل ڈی اے کی طرف سے منظور ی نہیں دی جاتی وہ اسکے باوجود اخبارات میں اشتہار جاری کر دیتی ہیں اور جب تک ایل ڈی اے اسکے بوگس ہونے کا اشتہار جاری کرتا ہے اس وقت تک کئی افراد لٹ ہو چکے ہوتے ہیں۔ میرا مطالبہ ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت مقدمات درج کئے جائیں۔ صوبائی وزیر ہائوسنگ نے کہا کہ یہ درست ہے کہ اس وجہ سے عوام کو پریشانی ہوتی ہے تاہم اشتہارات کا بھرپو رنوٹس لیا جاتا ہے اور اس حوالے سے قانون سازی بھی ہونی چاہئے تاکہ عام آدمی متاثر نہ ہو معزز رکن نے جو تجویز دی ہے اسے زیر غور لائیں گے۔ حکومتی رکن شیخ علائو الدین نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین سمیت بمعہ میرے کسی کی اسمبلی کی کارروائی میں کوئی دلچسپی نہیں،کم از کم جب ایجنڈا نہیں ہے تو مسائل پر ہی عام بحث کر لی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دو طالبات کے قتل کے واقعات سب کے سامنے ہیں ۔شراب ‘ افیون اور چرس نے اس معاشرے کو اتنا تباہ نہیں کیا جتنا اس ٹوئٹر اور موبائل نے تباہ کر ڈالا ہے۔ ہم صرف ڈیوٹی اکٹھی کرنے کی مد میں اپنے معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں، موبائل کمپنیوں کو مختلف مدات میں سہولتیں دی جارہی ہیں جبکہ وہ ہمارے معاشر ے کو تباہ کر رہی ہیں۔ غیر سرکاری کارروائی کے دوران ایوان نے چودھری عامر سلطان چیمہ کی نجی سکولوں کے مالکان اور پرنسپل صاحبان کو سکیورٹی کی مد میں سکولوں کی فیسوں میں اضافے سے روکنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لانے کی قرارداد متفقہ طو رپر منظور کر لی۔ صوبائی وزیر قانون مجتبیٰ شجاع الرحمن کی طرف سے مخالفت اور قرارداد کے حوالے سے قانون موجود ہونے پر ڈاکٹر وسیم اختر نے کچی آبادیوں میں واقع پانچ مرلہ تک کے گھروں کو پراپرٹی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی قرارداد واپس لے لی۔ حکومتی رکن ڈاکٹر عالیہ آفتاب کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی گئی جسکے متن میں کہا گیا کہ چھ ماہ کی حاملہ خواتین کے لئے مخصوص بلڈ ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا جائے۔ صوبائی وزیر قانون کی مخالفت اور حکومت کی طرف سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا ریلیف عوام تک منتقل ہونے بارے وضاحت کے بعد سردار وقاص حسن موکل کی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی اور قومی سطح پر ہونے والی کمی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لئے ضروری اقدامات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں فوری کمی کی قرارداد ووٹنگ کے بعد کثرت رائے سے مسترد کر دی گئی۔ ایوان نے حکومتی رکن کرن عمران کی صوبہ پنجاب کے تمام انڈسٹریل زونز میں خواتین ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لئے خاتون لیبر انسپکٹر تعینات کرنے کے مطالبے پر مبنی قرارداد بھی متفقہ طو رپر منظور کر لی۔ ایجنڈا مکمل ہونے کے بعد اجلاس کی مزید کارروائی جمعہ کی سہ پہر دو بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں صوبے میں پانچویں جماعت کا پیپر ملتوی ہونے پر مسلم لیگ ن کے رکن رائو کاشف نے ایوان میں احتجاج کیا۔ سمندری سے مسلم لیگ ن کے رکن رائو کاشف نے کہا کہ یہ ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ قائم مقام سپیکر شیر علی گورچانی نے کہاکہ اس مسئلے پر بحث کے لئے ایک دن مختص کر لیتے ہیں۔