کراچی:2 سکولوں پر بم حملے، ڈیڑھ سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل

کراچی:2 سکولوں پر بم حملے، ڈیڑھ سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل

کراچی (نیٹ نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ابوالحسن اصفہانی روڈ پر گذشتہ روز موٹر سائیکل سواروں نے 2 نجی سکولوں پر 2 دستی بم پھینکے۔ دھماکوں سے علاقہ لرز اٹھا اور خوف و ہراس پھیل گیا۔ تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال کے بلاک 7 میں ابوالحسن اصفہانی روڈ پر کئی سکول واقع ہیں گذشتہ صبح موٹر سائیکل سوار 2 افراد نے 2 سکولوں پر دستی بم پھینکے اور فرار ہو گئے۔ ڈی آئی جی منیر شیخ کے مطابق ایک بم ایک نجی سکول کے اندر دوسرا بم دوسرے سکول کے باہر گر کر پھٹا جس سے سڑک میں گڑھا پڑ گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے علاقہ لرز اٹھا اور لو گ گھبرا کر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے جبکہ حملہ آور فرار ہو گئے۔ حملے کے وقت سکولوں کے گارڈز موجود تھے۔ ان سکولوں کے پاس علاقے کے لوگوں کو کچھ پمفلٹس بھی پڑے ملے ہیں جن میں اردو اور انگریزی میں تحریر ہے کہ ’’ہمارے لوگوں کو پھانسیاں دینے اور جعلی مقابلوں میں مارنے کا سلسلہ بند کرو ورنہ یہ واقعہ بھرے سکول میں بھی پیش آ سکتا ہے‘‘۔ ایس ایس پی پیر محمد شاہ کے مطابق پمفلٹس پر کسی تنظیم یا گروہ کا نام نہیں، دھماکوں کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر بم ڈسپوزل سکواڈ کے ہمراہ سرچ آپریشن کیا تاہم مزید کسی بم کی موجودگی یا حملہ آور کا سراغ نہیں ملا۔ جائے وقوعہ کے قریب سکول کے ایک طالب علم کی والدہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پمفلٹس میں لکھا ہے کہ ’’سدھر جائو‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم معصوم اور نہتے شہری کیا سدھر سکتے ہیں، دہشت گرد حکومت تک مطالبات ہمارے ذریعے پہنچا رہے ہیں اور ہم میڈیا کے ذریعے حکومت تک۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بچوں میں ایسے واقعات سے خوف نہیں تاہم چھوٹے بچے ڈرے ہوئے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق اس سے قبل نارتھ ناظم آباد میں واقع گرلز سکول کو بھی ایک دھمکی آمیز پرچہ موصول ہوا تھا جس میں لکھا تھا ’’کل کے دن کفن تیار رکھو‘‘۔ یہ پرچہ کسی کاپی کے صفحے پر لکھا گیا اور اسے موٹر سائیکل سیٹ کے کور میں رکھا گیا تھا جس کے بعد سکول کی سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ دریں اثناء گلشن اقبال میں دو سکولوں پر بم حملوں کے بعد پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی جس میں موٹر سائیکل پر پینٹ شرٹ پہنے 2 نوجوان سوار بم پھینکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ڈی آئی جی منیر شیخ کے مطابق بم پھینکنے کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا تھا کیونکہ بموں میں بال بیرنگ نہیں تھے۔ علاوہ ازیں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے 2 نجی سکولوں پر بم پھینکے جانے اور دھمکی آمیز خطوط ملنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہا پسند نئی نسل کو حصول علم سے روکنے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں پر بم پھینکنے والوں کو گرفتار کر کے سزا دی جائے، ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں سکیورٹی انتظامات کو بہتر بنایا جائے اور اساتذہ کو اسلحہ لائسنس دیئے جائیں۔ علاوہ ازیں گلشن اقبال میں رات گئے پولیس مقابلے میں کار لفٹر فقیر عرف ساہارو جبکہ ملیر سٹی میں ٹارگٹ کلر بلال ہاشم مارا گیا۔ پولیس نے بلال کے 2 ساتھیوں کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کر لیا۔ موچکو کے علاقے میں پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں گینگسٹر صدام عرف کمانڈو مارا گیا۔ ادھر شیرشاہ قبرستان سے 22 سالہ نواب شوکت کی تشدد زدہ نعش ملی۔ کورنگی ڈھائی نمبر میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے نوجوان عدیل بیگ ہلاک اسکا دوست ایاز زخمی ہو گیا۔

کراچی (آن لائن) کراچی میں ڈیڑھ سالہ بچی کو زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کردیا گیا جس کی نعش ناظم آباد کے علاقے جلال آباد سے ملی تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ واقعہ کب پیش آیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بچی کا پوسٹ مارٹم کرنے والی ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر روحینہ حسن نے واقعہ کی تصدیق کی ہے۔ ایس پی لیاقت آباد طاہر نورانی کے مطابق بچی کے اہلخانہ نے کہا ہے کہ بچی زینب پیر کو لاپتہ ہوئی تھی اور اسکی نعش گذشتہ روز انکے گھر سے باہر گلی میں ملی۔ پولیس نے بچی کی نعش کو گھر سے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ اس حوالے سے مزید تحقیقات اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔