دہشت گردوں سے تعلقات، مدارس اور سرکاری تعلیمی اداروں کی سکریننگ شروع

لاہور (جواد آر ا عوان/ نیشن رپورٹ) مدارس اور سرکاری تعلیمی اداروں میں دہشت گردوں کے ممکنہ سلیپروں کی موجودگی کا پتہ چلانے کیلئے ملک بھر میں معلومات کے حصول کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع نے ’’دی نیشن‘‘ کو بتایا کہ سکیورٹی سروسز نے مدارس اور دینی تعلیم فراہم کرنے کے دعویدار اداروں اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ کے تحریک طالبان یا القاعدہ کے ساتھ تعلقات کی شناخت کیلئے ایک مہم شروع کردی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کا ممکنہ سلیپر بننے والے اداروں کو ’’گرے‘‘ کا ٹیگ دیا جائیگا جبکہ سلیپر کے طور پر شناخت کئے گئے طلبہ کو ’’ایکٹو‘‘ قرار دیا جائیگا۔ مدارس کی دو کیٹیگریز رکھی گئی ہیں حفظ کرانے والے مدارس اور اسکے اوپر کی تعلیمی اسناد فراہم کرنیوالے مدارس۔ اسی طرح دیگر اداروں میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کیلئے علیحدہ علیحدہ کیٹیگری دی گئی ہے۔ ان تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی بھی سکریننگ کی جائیگی اور دہشت گردوں سے تعلق رکھنے والوں کو ’’ایکٹو‘‘ قرار دیا جائیگا۔ ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹی اداروں نے کچھ عرصہ قبل راولپنڈی، ڈی جی خان اور ملتان میں کچھ مدارس کی دہشت گردوں سے تعلق کی نشاندہی بھی کی ہے۔ سرکاری یونیورسٹی کے کچھ مشتبہ طلبہ کو بھی اغوا کیا گیا۔ اس حوالے سے رابطہ کرنے پر جے یو آئی (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف فاروقی اور سربراہ مولانا سمیع الحق نے بتایا کہ کسی شخص کے انفرادی عمل کا ذمہ دار مدارس نہیں ہوسکتے۔ مدارس کی انتظامیہ کسی بھی طالب علم کو داخل کرتے وقت اس کا اطمینان کرتی ہے کہ اس کا تعلق دہشت گردوں سے نہ ہو۔ عبدالرؤف فاروقی نے کہا کہ انتظامیہ مدارس کی حدود میں ہی طلبہ پر نظر رکھ سکتی ہے طلبہ کی مدارس کے باہر کی سرگرمیوں کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ جے یو آئی کے سینئر رہنما نے کہا کہ ہم نے ماضی میں بھی سکیورٹی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور آئندہ بھی کرینگے، ہمارے پاس چھپانے کی کوئی چیز نہیں۔ صرف مدارس میں ہی کسی دہشت گرد کے ہمدرد موجود نہیں ہوسکتے بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں عسکریت پسندوں کے ہمدرد موجود ہوسکتے ہیں تاہم ہم یقین دلاتے ہیں کہ کوئی بھی مدرسہ کبھی بھی اپنے ڈیزائن اور منصوبے کے مطابق انتہاپسند عناصر کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا۔